🌷شادی کا رقعہ🌷

🌷شادی کا رقعہ🌷
مریم جمیلہ ✍🏻 
جالنہ 🏡 
   آخرکار ہماری شادی کے رقعے تیار ہو ہی گئے سارے کاموں کو پیچھے ڈال کر ہم پچھلے ایک مہینے سے اس کی تیاری میں لگے تھے رقعے کا میٹر بنانے میں ہمیں بڑے پاپڑ بیلنے پڑے افراد خانہ سے مفید و مضر مشورے سن سن کر ہمارے کان پک نہیں گئے بلکہ بری طرح گل گئے تھے۔۔۔بس کیا کہے ہم جیسے تیسے ان تیار شدہ رقعوں کو لےکر گھر آئیں۔۔۔دعوتیوں کی لمبی فہرست پہلے ہی تیار کر رکھی تھی ہم چار بھائیوں نے اسے آپس میں تقسیم کر لیا اور جو فہرست میرے حصے میں آئی اسے دیکھ کر میں سخت برہم ہوا۔۔"بھائی جان آپ نے یہ عزیز چاچا کا نام میری فہرست میں کیوں ڈال دئیے۔۔میں نہیں جاؤنگا ان کے یہاں رقعہ لے کرمجھے اپنی حجامت نہیں کروانی۔۔۔۔"عزیز من شادی تو آپ نے کرنی ہے نا اور یہ سفر تو بڑا طویل اور کٹھن ہے شروعات ایسے ہی کٹھن مرحلوں سے ہوا کرتی ہے بھئی ہم کیوں اپنے ہی ہاتھوں خود ہی کی شامت بلوائے۔۔ہماری خود کی شادی میں ہم ہی گئے تھے ان کے یہاں رقعہ لے کر اب تمہیں ہی جانا ہوگا۔۔۔
بھائی جان یہ آپ اچھا نہیں کر رہے میں آپ کا چھوٹا بھائی ہوں نا پلیز چلیں جائیں ان کے یہاں۔۔۔میں التجا کرنے لگا"دیکھو لڈو میاں  فضول میں اتنی منت سماجت نہ کرو ہم بھول کے بھی نہ جائیں گے ان کے یہاں۔۔"
مرتا کیا نہ کرتا اگلے دن میں  خود ہی سوٹ بوٹ پہن کر عزیز چاچا کے یہاں جانے کی تیاری کرنے لگاقدآدم آئینہ میں خود کو مختلف زاویوں سے دیکھتا کہ کہیں چاچا مجھے  دیکھتے ہی نصیحتوں کا پٹارا نہ کھول دیں۔۔۔ عزیز چاچا  ہمارے والد صاحب کے جگری دوست ہر دلعزیز  شخصیت کے مالک تھے۔ بابا کے انتقال کے بعد ہمارا ان سے کم کم ہی رابطہ ہوتا۔۔۔۔چہرے پر خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ ناک پر غصہ بھی سجائے رکھتے۔۔انکا لمبا پتلا سا چہرہ، مہندی سے رنگی ہوئی لال گھنی ڈاڑھی،ستواں ناک،گندمی رنگ اور دبلے پتلے سے عزیز چاچا ہمیشہ ڈھیلی شیروانی پہنتے منہ میں پان چبانا انکا مرغوب مشغلہ تھا۔۔کچھ باتیں ان میں ایسی تھی جس کی وجہ سے ہم ان سے کتراتے تھے۔۔۔
   "آؤ آؤ برخوردار !بڑے تیار ہو کر آئے ہو۔۔ہمیں معلوم ہوا کہ آنجناب کی شادی ہے اتنے تیار لگ رہے ہو عصر بعد کا عقد ہے کیا؟؟اب کوئی اتنے عین وقت پر دعوت دینے آتا ہے کیا۔۔۔!!!"ج ج جی جی نہیں!!آپ غلط سمجھے چاچا۔۔" ابے او نالائق مجھے غلط کہتا ہے۔۔۔جب ایسا نہیی ہے تو پھر اتنا تیار ہو کر کیوں آیا ہے۔۔؟؟"میں شرمندہ سا ہوگیا اور دھیمے لہجے میں کہنے لگا"معاف فرمائے آئندہ خیال رکھوں گا۔" وہ اپنی باریک آنکھوں سے مجھے گھورنے لگے انکی آنکھوں پر لگی عینک ان کے چہرے سے بڑی لگ رہی تھی ان کے اس طرح گھورنے کے اندازپر میں بمشکل اپنی ہنسی روک پایا ۔۔۔انھوں نے اپنا چہرہ میرے آگے کرتے ہوئے کہا"اب بتاؤ کیوں آئے ہو یہاں؟"
"چاچا جان وہ شادی کا رقعہ لایا تھا آپکو دینے کےلئے"
بھئی واہ! کیا بات ہے۔۔۔فلک شگاف قہقہ مارتے ہوئے کہنے لگے"خود کی شادی کا پرچار خود ہی کر رہے ہو۔۔۔"
"جی پرچار۔۔۔۔؟؟!!"
"ابے او نا معقول شرم نہیں آئی تجھے۔۔تیرے دوسرے بھائی کیا مر گئے ہیں جو تجھے رقعے تقسیم کرنے پڑرہے۔۔۔"
چاچا جی اس میں شرم کی کیا بات ہے۔۔۔میں نے ناراض ہوتے ہوئے کہا؛اب چاچا گرج پڑے"شرم کی کیا بات ہے کہتا ہے۔۔۔!! ہمارے زمانے میں ہم شادی کا 'ش' بولنے کو شرماتے تھے اور یہ دیکھو نئے زمانے کے نئے لوگ خود ہی کی شادی کا پرچار کررہے ہیں۔۔!!"
میں نے ہار مانتے ہوئے کہا"چاچا دراصل میرے دوسرے بھائیوں کے ذمہ اور بھی دعوتیوں کی فہرست ہے وہ انھیں رقعے تقسیم کریں گے اور آپ میرے عزیز چاچا ہونا اسی لئے میں خود چل کر آپکے پاس آیا ہوں۔۔"
" ہممم تو ٹھیک ہے۔۔لاؤ بھئی دیکھوں تو صحیح کیا ہے رقعے میں۔۔" انھوں نے عینک کو ذرا سا اوپر چڑھایا اور بلند آواز میں رقعہ پڑھنے لگے" نورچشم عامر صدیقی ولد مرحوم اظہر صدیقی(LLB)ہمراہ
دختر نیک اختر( B.ed D.ed)
جعفر نیاز صاحب۔۔۔"
بھئی۔۔!!یہ کیسا نام ہے دختر نیک اختر؟؟؟" 
"جی وہ۔۔انکا نام عالیہ ہے " میں نے شرماتے ہوئے کہا 
" پھر یہاں دختر نیک اختر کیوں لکھا ہے؟؟"وہ   دراصل   خاتون  کا نام  پردے    میں   ہو تو بہتر   ہوتا   ہے۔۔۔۔ایسا سب کہ رہے تھے   اسی لئے۔۔۔۔۔میں نے اٹکتے ہوئے لہجہ میں وضاحت کر دی۔۔ 
تو برخوردار آپ کے نام کو بھی پردہ میں ہونا چاہیے تھا۔۔"فرزند سعادت مند"ایسا لکھ لیتے۔۔۔"لیکن میں تو مرد ہوں نا۔۔۔"
 اوفوہ!کر دی پھر وہی بات بتا دی اپنی اوقات!!!ارے واہ یہ تو مصرعہ بن گیا وہ تقریباًاچھل پڑے۔۔۔اچھا ایک بات بتاؤ برخوردار! شادی میں ویڈیو شوٹنگ نہیں ہوگی کیا؟؟"
ہاں ہاں کیوں نہیں ہم نے تو بہت پہلے اسکا انتظام کرلیا ہے۔۔شادی کی ایک ایک رسم کو فلمایا جائے گا انشاءاللہ۔۔۔"
"اور دلہن کی شوٹنگ نہیں ہوگی کیا؟؟"
آپ بھی کمال کرتے ہیں چاچا خاص ان ہی کے لئے تو یہ انتظام رہے گا نا۔۔۔
اب شرم نہیں آئی تمہیں نام کو تو پردے میں رکھتے ہو اور سجی سنوری دلہن کی تصویر کشی نامحرم سے کرواتے ہو جو مختلف زاویوں سے اسکی فلم بنائے گا تب اسکی بے پردگی نہیں ہوگی کیا؟؟" بڑا چھبتا سوال تھا میں سکتہ میں آگیا گویا مجھے سانپ سونگھ گیا ہو۔۔۔بات تو درست تھی۔۔۔
چاچا نے ایک اور بے رحمانہ سوال مجھ پر داغ دیا" یہ رقعہ میں اتنے سارے رشتہ داروں کے نام کیوں لکھوائے ہیں۔۔۔"
 میں نے سنبھلتےہوئے جواب دیا 
" جی وہ سب کا کہنا تھا کہ عزیز و اقارب کے نام ڈالنا  ضروری ہیں۔۔۔نہ ڈالیں تو سب ناراض ہو جائیں گے۔۔"
"اجی شادی تو آپ کر رہے ہو نا سب کے نام ڈال کر اہل خاندان کی نمائش لگوانی ہے کیا؟؟؟"
"جی جی درست فرمایا آپ نے۔۔"
اب میں ہاں میں ہاں ملانے لگا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔۔
"ہمارے لڈو چاچا کی شادی میں دلول دلول آنا"(بھتیجی رمشہ اور ثانیہ)
"ہا ہا ہا۔۔۔۔!!!"بھئی واہ! مزہ آگیا ایسا مزیدار لطیفہ میرے آج تک پڑھنے میں نہیں آیا۔۔"
اب مجھے اکتاہٹ محسوس ہونے لگی میں جانے کےلئے اٹھا تو انھوں نے مجھے پکڑ کر بٹھادیا۔۔
" ہمارے زمانے میں اگر شادی کی دعوت دینی ہوتی تو ہم الائچی اور لونگ گھر گھر جا کر دیتے اور منہ زبانی ہی کہ دیتے کہ فلاں تاریخ کو فلاں مقام پر فلاں فلاں کی شادی ہے اہل خانہ کے ساتھ تشریف لے آئیں۔۔۔۔یہ رقعے چھپوانا تقسیم کرنا خوامخواہ کی فضول خرچی ہے۔۔۔"
"جی صحیح ہے مگر آج کل تو سبھی یہی کلچر اپنا رہے ہیں۔۔الائچی لونگ کے ذریعہ دعوت دینے کا رواج اب کہاں ہے۔۔؟"
میں نے پرزور لہجے میں کہا۔ 
   'ایک کام کرو محلہ بھر میں لاؤڈسپیکر میں اعلان کروالو کہ عامر بن اظہر کی شادی دختر نیک اختر سے ہونے جا رہی ہے۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔!!"
"چاچا جان آپ بھی نا حد کرتے ہو پورے محلہ کو تھوڑی نا دعوت دینی ہوتی ہے۔۔"میں نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔
"ہممم۔۔!"اپنی داڑھی کو کھجاتے ہوئے کہنے لگے"پھر ہم سر جوڑ کر بیٹھے گے اور غور کریں گے کہ دعوت شادی و ولیمہ کے لئے کونسا ایسا طریقہ ایجاد کیا جائے جس میں نمود و نمائش نہ ہو اور فضول خرچی بھی نہ ہو۔۔"
"جی ہاں بلکل آپ جیسے مفکر و مدبر ہی اس  سلسلہ میں ہماری رہنمائی کرسکتےہیں۔۔۔گذارش۔۔۔نوازش۔۔۔اب مجھے اجازت دیجیئے۔۔۔"
میں نے اٹھ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی اور وہاں سے چلتا بنا۔۔۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حاصل مطالعہ خطبا ت حصہ اول( حقیقت ایمان)

بناؤ ‏اور ‏بگاڑ ‏