بناؤ اور بگاڑ

💫 *بناٶ* *اور* *بگاڑ* 💫
⭐حاصل مطالعہ ⭐
✍🏻 فردا ارحم
یہ کتاب مولانا کی ایک تقریر ہے جو 10 مٸ 1947 کو دارالاسلام کے جلسہ عام میں کی گٸ تھی ۔ جس میں دو ہزار مسلمانوں کے علاوہ دو سو ہندو اور سکھ حضرات بھی شریک تھے ۔
مولانا نے خدا کی تعریف میں کہا ہے کہ تعریف اور شکر اس خدا کے لیۓ ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ، عقل اور سمجھ بوجھ عطا کی ، برے اور بھلے کی تمیز بخشی ، ہماری ہدایت اور رہنماٸ کے لیۓ اپنے بہترین بندوں کو بھیجا ۔ جنھوں نے انسانی زندگی کے اصل مقصد سے آگاہ کیا اور وہ اصول بتاۓ جن پر چل کر دنیا میں سکھ اور آخرت میں نجات پا سکتے ہیں ۔
مصنف حاضرین سے مخاطب ہو کر کہ رہے ہیں کہ
یہ دنیا جس خدا نے بناٸ ہے اور جس نے اس زمین کا فرش بچھا کر اس پر انسانوں کو بسایا ہے وہ کوٸ اندھا دھند ، الل ٹپ کام کرنے والا خدا نہیں ہے ۔ اس کی نگری اندھیر نگری نہیں ہے ۔ وہ اپنے مستقل قانون ، پختہ ظابطے اور مضبوط قاعدے رکھتا ہے جن کے مطابق وہ سارے جہاں پر خداٸ کر رہا ہے ۔
اس کے قانون سے جس طرح سورج ، چاند ، زمین ، تارے ، ہوا ، پانی ، درخت بندھے ہوۓ ہیں اسی طرح ہم سب انسان بھی بندھے ہوۓ ہیں ۔ اس کا قانون ہماری تاریخ کے اتار چڑھاٶ پر ، ہمارے گرنے اور اٹھنے پر ، ترقی و تنزلی پر ، ذاتی قومی اور ملکی تقدیروں پر حکومت کر رہا ہے ۔
اگر یہ ممکن نہیں ہے کہ آدمی ناک سے سانس لینے کے بجاۓ آنکھوں سے سانس لینے لگے ، تو یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ خدا کے قانون کی رو سے جس راہ پر چل کر جس قوم کو نیچے جانا چاہیے وہ اسے بلندی پر لے جاۓ ۔ اگر آگ ایک کے لیۓ گرم اور دوسرے کے لیۓ ٹھنڈی نہیں ہے تو برے کرتوت بھی ، جو خدا کے قانون کی رو سے برے ہیں ، ایک کو گرانے والے اور دوسرے کو اٹھانے والے نہیں ہو سکتے ۔
جو اصول خدا نے انسان کی بھلی اور بری تقدیر بنانے کے لیۓ مقرر کیۓ ہیں وہ نہ کسی کے بدلے بدل سکتے ہیں نہ کسی کے ٹالے ٹل سکتے ہیں ۔
خدا کے قانون کی پہلی اور سب سے اہمم دفعہ یہ ہے کہ
” وہ بناٶ کو پسند کرتا ہے اور بگاڑ کو پسند نہیں کرتا “
خدا کا قانون بالکل ایک فطری قانون ہے ۔ اور آپ کی عقل گواہی دے گی کہ اس کو ایسا ہی ہونا چاہیے ۔
اگر آپ میں سے کسی شخص کا کوٸ باغ ہو اور وہ اسے ایک مالی کے سپرد کرے تو آپ خود بتاٸیے کہ وہ مالک اس مالی سے اولین بات کیا چاہے گا ؟؟
باغ کا مالک یقیناً یہ چاہے گا کہ اس کے باغ کو زیادہ سے زیادہ بہتر حالت میں رکھا جاۓ ، زیادہ سے زیادہ ترقی دی جاۓ ، اس کے حسن میں ، صفاٸ میں ، پیداوار میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو ۔ مالک کے مطابق اسے مالی مل جاۓ تو وہ ضرور اس سے خوش ہوگا ، اسے ترقی دے گا ۔ لیکن اس کے بر عکس اگر وہ دیکھے کہ مالی نالاٸق ہے ، کام چور ہے تو آپ خود سوچیۓ کہ باغ کا مالک ایسے مالی کو کیسے پسند کر سکتا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ اسے تنبیہ کرکے پھر ایک موقع دے سکتا ہے ۔ مگر جو مالی تنبیہ پر بھی ہوش میں نہ آۓ اور باغ کو اجاڑے ہی چلا جاۓ اس کا علاج صرف یہی ہے کہ مالک کان پکڑ کر اسے نکالے اور دوسرا مالی اس کی جگہ رکھ لے ۔
اب غور کیجیۓ کہ اپنے ایک ذرا سے باغ کے انتظام میں جب آپ یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں تو خدا جو اس پوری کاٸنات کا مالک ہے وہ کیسے نظر انداز کر سکتا ہے ۔
مالک ہونے کہ حیثیت سے اس کی خواہش یہ ہے کہ اس کی دنیا کا انتظام ٹھیک کیا جاۓ ۔ اس کو زیادہ سے زیادہ سنوارا جاۓ ۔ وہ اس بات کو ہر گز پسند نہیں کرتا اور نہ توقع کی جاسکتی ہےکہ اس کی دنیا بگاڑی جاۓ ، اجاڑی جاۓ ، گندگیوں اور ظلم و ستم سے خراب کر ڈالا جاۓ ۔
انسانوں میں سے جو لوگ بھی دنیا کے انتظام کے امید وار بن کر کھڑے ہوتے ہیں ان میں سے صرف وہ لوگ خدا کے نظرِ انتخاب میں مستحق ٹھیرتے ہیں جن کے اندر بنانے کے زیادہ سے زیادہ صلاحیت ہوتی ہے ۔ انھیں کو وہ یہاں کے انتظام کا اختیارات سپرد کرتا ہے ۔
اگر آپ دنیا کے باغ کو بنارہے ہیں تو کوٸ وجہ نہیں ہے کہ وہ آپ کو خواہ مخواہ ہٹا دے ۔ لیکن اگر آپ بناۓ کچھ نہیں اور اس کے اس عظیم الشان باغ کو بگاڑتے اور اجاڑتے ہی چلا جاۓ تو وہ ایسے باغ پر آپ کے کسی حق کو تسلیم نہیں کرے گا ۔
اگر مالیوں کا ایک خاندان دو چار پشت سے ایک شخص کے باغ میں اچھا کام کرتا چلا آرہا ہے ۔ دادا ، پردادا اور ان کی اولاد اپنی لیاقت و قابلیت کہ وجہ سے یہاں رکھا گیا ہے۔ تو مالک نے سوچا کہ خواہ مخواہ انھیں ہٹانے اور نۓ آدمی رکھنے کی کیا ضرورت ہے ۔ اس طرح یہ خاندان باغ میں جم گیا ۔ لیکن اب اس خاندان کے لوگ نہایت نالاٸق ، بے سلیقہ ، کام چور اٹھے ہیں ۔ سارے باغ کا ستیاناس کیے ڈالتے ہیں اور اس پر ان کا دعوی ہے کہ ” ہمارے باپ دادا کے ہاتھوں اول اول باغ آباد ہوا تھا ۔لہٰذا یہ ہمارا پیداٸشی حق ہے ۔ یہ جاٸز نہیں ہے کہ ہمیں بے دخل کرکے کسی دوسرے کو یہاں کا مالی بنا دیا جاۓ ۔“
یہ ان نالاٸق مالیوں کا نقطہ نظر ہے ۔ مگر کیا باغ کے مالک کا یہی نقطہ نظر ہوسکتا ؟ کیا وہ یہ نہیں کہے گا کہ تم باغ کو بناٶ گے تو تمھارے سب حقوق کا لحاظ کیا جاۓ گا ۔ لیکن اگر اس باغ کو تم بگاڑتے اور اجاڑتے رہے ، جس کے انتظام کے لیۓ تمہیں رکھا گیا تو پھر تمھارا کوٸ حق مجھے تسلیم نہیں ۔
یہ فرق جو جو مالک اور مالیوں کے نقطہ نظر میں ہے ٹھیک یہی فرق دنیاں کے مالک اور دنیا والوں کے نقطہ نظر میں بھی ہے ۔
دنیا کے مختلف قومیں زمین کے جس جس خطے میں بستی ہیں ان کا دعوی یہ ہوتا ہے کہ ہمارے باپ دادا یہاں رہتے چلے آرہے ہیں ۔ اس ملک پر ہمارا پیداٸشی حق ہے کہ ہم یہاں کا انتظام چلاۓ ۔
خدا کا نقطہ نظر یہ نہیں ہے ،کہ ہر ملک پر اس کے باشندوں کا پیداٸشہ حق ہے جس سے اس کو کسی حال میں بے دخل نہیں کیا جا سکتا ۔
وہ تو یہ دیکھتا ہے کہ کونسی قوم اپنے وطن کے لیۓ بناٶ کا کام کرتی ہے ، کیا وہ اپنی قوتیں زمین کی ترقی و اصلاح میں استعمال کر رہی ہے ؟ ، کیا وہ براٸیوں کو روکنے اور بھلاٸیوں کو پروان چڑھانے کا کام کر رہی ہے ؟ ۔ تو مالک کاٸنات کہتا ہے کہ بے شک تم اس کے مستحق ہو لیکن معاملہ اس کے بر عکس ہوا تو اس قوم کو ملک کے انتظام سے بے دخل کر دیا جاتا ہے ۔
قُلِ اللٰھُمَّ مٰلِکَ المُلکِ تُوتیِ المُلکَ مَن تَشإَُ وَ تَنزِعُ المُلکَ مِمَّن تَشاَ ُٕ
” کہو کہ خدایا ، ملک کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے ۔ “
ہندوستان کے لوگ _ ہندو ، مسلم ، سکھ _ امتحان کے موقع پر اپنے خدا کے سامنے اپنی کیا صلاحیتیں اور قابلیتیں اور اپنے کیا اوصاف اور کارنامے پیش کر رہے ہیں جن کی بنا پر یہ امید کر سکتے ہیں کہ خدا اپنے ملک کا انتظام پھر ان کے سپرد کردے گا ۔
ہمارے افراد کی عام اخلاقی حالت جیسی کچھ ہے آپ اس کا اندازہ خود اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کی بنا پر کیجیۓ ۔
ہم میں کتنے فیصد لوگ ایسے پاۓ جاتے ہیں جو کسی کا حق تلف کرنے میں ، کوٸ ناجاٸز فاٸدہ اٹھانے میں صرف اس بنا پر تامل کرتے ہیں کہ ایسا کرنا اخلاقاً درست ہے ؟ جہاں اپنے کسی ذاتی فاٸدے کی توقع نہ ہو وہاں کتنے آدمی دوسروں کے ساتھ بھلاٸ ، ہمدردی ، ایثار اور حسن سلوک کا برتاٶ کرتے ہیں ؟ صرف پانچ فی صد لوگ اس اخلاقی جذام سے بچے رہ گۓ ہیں ۔ 95 فیصد لوگ بیمار ہیں ، سب کی اخلاقی حالت انتہاٸ خوف ناک حد تک گری ہوٸ ہے ۔
جب افراد کی اتنی بڑی اکثریت بد اخلاق ہو جاۓ تو قوموں کا اجتماعی رویہ آخر کیسے درست رہ سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو ، مسلمان اور سکھ تینوں قوموں میں سچاٸ ، انصاف اور حق پسندی کی کوٸ قدر وقیمت باقی نہیں رہی ہے ۔
مصنف کہ رہے ہیں کہ
حضرات ! ہم ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ عین اس وقت جب قانون قدرت کے مطابق اس ملک کی قسمت کا نیا انتظام در پیش ہے ۔ اس وقت ہم اسے بتارہے ہیں کہ ہم ایسے غارت گر ، اس قدر مفسد اور اتنے ظالم ہے کہ اگر تو نے یہ زمین ہمارے حوالے کی تو ہم اس کی بستیوں کو اجاڑ دینگیں ، عورتوں کو بے عزت کرینگے ، بچوں کا شکار کرینگے ، عبادت گاہوں اور مذہبی کتابوں کو اپنے نفس کی گندگی سے لیس دینگے ۔
جو لوگ عقل ہوش رکھتے ہیں انھیں اس حالت کی اصلاح کےلیۓ کچھ فکر کرنی چاہیۓ ۔ ہمارے دل میں یہ سوال خود پیدا ہوگا کہ اصلا ح کی صورت کیا ہے ۔ ؟ آبادی کا پانچ فی صد حصہ جو بد اخلاقی سے بچے ہوۓ ہیں انھیں اصلاح کی ابتدا کرنے کے لٕۓ استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
اصلاح کی راہ میں پہلا قدم یہ ہے کہ اس صالح عنصر کو چھانٹ کر منظم کیا جاۓ ۔ اگر یہ صالح لوگ منظم ہو جاٸیں ، اگر ان کا اپنا ذاتی اور اجتماعی رویہ خالص انفاق ، حق پسندی ، اور خلوص و دیانت پر مضبوطی کے ساتھ قاٸم ہو تو یقین جانیۓ کہ اس منظم نیکی کے مقابلہ میں منظم بدی اپنے لشکروں کی کثرت اور اپنے گندے ہتھیاروں کی تیزی کے باوجود شکست کھاکر رہے گی ۔
اصلاح کے لیۓ نیک انسانوں کی تنظیم کے ساتھ دوسر ی ضروری چیز یہ ہے کہ ہمارے سامنے بناٶ اور بگاڑ کا ایک واضح تصور موجود ہو ۔
ہم اچھی طرح یہ سمجھ لیں کہ بگاڑ کیا ہے تاکہ اسے دور کرنے کی کوشش کی جاۓ اور بناٶ کیا ہے تاکہ اسے عمل میں لانے میں سارا زور لگادیا جاۓ ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں