حاصل مطالعہ خطبا ت حصہ اول( حقیقت ایمان)
فوزیہ بیگم صاحبہ ✍🏻
مولانا مودودی کی تحریر گویا کہ ایک سمندر کے مانند ہیں جس میں غوطہ لگاو اور خزانہ پاؤں اس سمندر میں میں کمزور غوطہ خور نے غوطہ لگایا اور جو پایا وہ پیش خدمت ہے
شکر الحمدللہ کہ اللہ نے مجھے امت محمدیہ میں پیدا کیا,اور مجھے دین اسلام نصیب ہوا. اب مجھ پر لازم ہو گیا کہ میں اللہ تعالی کے احسان کا حق ادا کرو, اور اس کا راستہ ہے کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل پیروں بنوں یعنی مکمل مسلمان
اب میں مکمل مسلمان کیسے بن سکتی ہو؟ مسلمان بننے کے لئے سب سے اہم پہلا قدم اس طرح ہے
1️⃣مسلمان: یعنی وہ انسان نہیں جو مسلمان کے پیٹ پیدا ہوجائے. مسلمان کسی نسل کا نام نہیں بلکہ اس نعمت کو حاصل کرنے مجھے محنت کرنی ہوگی تو وہ مجھے حاصل ہوگی , ورنہ مسلمان کے گھر پیدا ہونے پر بھی وہ مجھ سے چھینی جا سکتی ہے
2️⃣اسلام لانا: یعنی صرف زبان سے کہنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سمجھے اور اس پر عمل کرے تب کہیں گے اسلام لانا اور سچا مسلمان بننا
3️⃣علم: علم اسلام کی پہلی ضرورت ہے. اسلام صحیح علم اور اس پر عمل کا نام ہے. علم یہ ہے کہ اسے معلوم ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کیا ہے. مسلمان کا لباس , حولیا بنانے سے میں مسلمان نہیں ہو سکتی. بلکہ صحیح علم سے مسلمان بن سکتی ہو.علم کی بنا پر ھی کافر اور مسلمان میں فرق کیا جاسکتا ہے نہ کہ حولیا اور لباس کے بنا پر.میں اگر یہ نہیں جانتی کہ اسلام اور کفر و شرک میں کیا فرق ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں اندھیرے میں ایک پگڈنڈی پر چل رہی ہو اور چلتے چلتے میرے قدم دوسرے راستوں پر چلے جائے. اور مجھے پتہ بھی نہ چلے.یہ بھی ہوسکتا ہے کہ راستے میں دجال کھڑا ہوں اور وہ مجھے راہ راست سے بھٹکا دے.یعنی علم ایک روشنی ہے جو مجھے راہ راست پر چلنے میں مدد کرتی ہے.
4️⃣علم کی اہمیت:علم کی اہمیت یہ ہے کہ اسی پر میری اور میرے اولاد کا اسلام پر رہنا انحصار ہے. میں اپنے زراعت فصلوں کی حفاظت یا میرے پیشے کی کاموں میں کوئی غفلت نہیں برتی ہو. کیوں کہ مجھے معلوم ہے غفلت سے میرا نقصان ہوگا.پھر میں مسلمان بننے اور اس پر قائم رہنے کے لئے جو علم کی ضرورت ہے اس کے بارے میں کیوں غفلت برتی ہوں. ایمان جان سے زیادہ عزیز چیز ہے. تب اس کی حفاظت کا پیمانہ بھی اسی معیار کا ہونا چاہیے. اس کے لئے محنت بھی اتنی ہی ہونی چاہیے. اس کے لیے مجھے عالم بننے کی,یا عمر کا بڑا حصہ صرف کرکے بڑی بڑی کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے لئے کچھ وقت دے کر قرآن نازل ہونے کا مقصد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا مقصد سمجھنے کے 24 گھنٹوں میں سے روزانہ ایک گھنٹہ کافی ہے.
5️⃣مسلم اور کافر میں فرق : کافر اور مسلمان دونوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا. دونوں کے اسٹرکچر میں کوئی فرق نہیں. تب بھی میں کہتی ہوں کہ میں جنت میں جاؤں گی اور کافر دوزخ میں. اللہ مجھے پسند کرتا ہے کافر کو نہیں ,ایسا کیوں؟
دونوں میں نام کا فرق ہے : کیا یہ نام کا فرق کی وجہ ہے.میرا نام فوزیہ بیگم اور اس کا نام سمن بائی اس بنا پر, یا میں گوشت خور اور وہ سبزی خور اس بنا پر ,دونوں کو پیدا کرنے والا اتنی سی بات پر نہ انصافی تو نہیں کر سکتا, مجھے جنت اور اسے دوزخ.
6️⃣اصلی فرق اسلام اور کفر: مسلمانی اپنے پیدا کرنے والے کا فرمابردار ,اور کافر یعنی اپنے پیدا کرنے والے کا نافرمان اسی بنا پر مسلمان کو جنت کافر کو دوزخ ملے گی.
7️⃣فرق کی وجہ: ١ علم اور عمل-مسلمان اور کافر میں فرق کرنے والی دو چیزیں ہے علم اور عمل. مسلمان یہ علم رکھتا ہے کہ اس کا اصل مالک کون ہے اور اس کی مرضی کیا ہے.اس کی رضا کے لئے وہ نقصان برداشت کرے گا لیکن وہ اس کی رضا کا خیال رکھیں گا.کافر کو اس کا علم نہیں ہوتا لہذا وہ اس پر عمل بھی نہیں کرتا. اس لئے مسلمان پسندیدہ اور کافر ناپسند. اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو خدا کو پہچانتا ہے, اس کی فرمانبرداری کرتا ہے ,وہی خدا کے پاس عزت دار ہے. پھر چاہے وہ نبی کا بیٹا ہوں, یا کسی بت پرست کے گھر پیدا ہو. جس کے پاس صحیح علم ہے اور اس پر عمل ہو وہ اللہ کا پسندیدہ ہو گا.
8️⃣آج مسلمان ذلیل کیوں ہے؟آج مسلمان ذلیل اور رسوا ہو رہا ہے. کیوں؟مسلمان اللہ کا پسندیدہ اور وہ ذلیل اور رسوا ہو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟اگر میرا یقین ہے کہ میرا خدا ظالم نہیں ہو سکتا تب ضرور ہے کہ ہم میں کمی ہے, اس لئے ہم رسوا اور ذلیل ہو رہی ہائے. اللہ نے مجھے ایک رہنما کتاب دی, اس کتاب کا عملی نمونہ دیا. میں نے نہ وہ کتاب پر غور و فکر کیا نہ اس عملی نمونے پر غور کیا. نتیجہ مجھے ذلیل اور رسوا ہونے کی وجوہات کا پتہ ہی نہیں چلا. قوم اس وجوہات سے دور نہیں رہی اور زمانے میں ذلیل اور رسوا ہو کر رہے گی. آج ہمارا قرآن کے ساتھ کا سلوک عجیب و غریب ہے. جو چیز ہمارے لئے روشنی ہے, ہم اس روشنی کو ڈبے میں بند کرکے, یا گلے میں باندھ پھر رہے ہیں. یہ تو وہی بات ہوئی کہ حکیم کے پاس بیماری کے علاج کے لیے جائے اور وہ نسخہ لکھ کر دے اور ہم اسے گلے میں باندھ کر پھرے, یا پھر اسے گھول کر پی جائے. تب ہم سے بیوقوف کون ہوگا؟
9️⃣کلمہ طیبہ: ہم کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوتے ہیں. جس کے ذریعہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں. کلمہ ہمیں کافر اور مسلمان کا فرق بتاتا ہے. کلمہ ہمیں قرآن اور نبی کی زندگی کا تو دیتا ہے. اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم قرآن پر غور کرے, قرآن پر پر تدبر کرے,اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر غور و فکر کرے, اس پر عمل کرے.
یہی وہ عمل ہے جو دنیا میں عزت و افتخار دیگا اور آخرت میں جنت۔یہی ایک مسلمان کا مقصد ہے
آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں صحیح مسلمان بنائے اور اللہ کی رضا والی زندگی عطا فرمائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے میں طریقوں پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین.

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں