گھڑی ساز
گھڑی ساز
(مریم جمیلہ (جالنہ ✍️
مسکین کون ہے؟؟کیا ہر وہ ضرورت مند جو حیلے بہانے کرکے لوگوں کے آگے دست سوال دراز کرتا ہے یا وہ جو اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے عاجز ہو مگر اسکی خودداری اسے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے نہیں دیتی۔۔۔اگر آپ پہلی قسم کے لوگوں کو مسکین سمجھتے ہیں تو غلطی پر ہیں وہ تو پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں جو لوگوں کے سامنے اپنی ضروریات کا رونا روتے ہیں اور انکی جیبوں پر ڈاکے ڈالتے ہیں۔۔۔رہی دوسری قسم تو یہی لوگ اصل میں وہ مسکین ہے کہ جن کی مدد کرنے پر دین اسلام ہمیں جنت کی بشارت سناتا ہے۔۔۔میرے بابا نے مجھے ایک مرتبہ ایسے ہی ایک مسکین شخص کی کہانی سنائی تھی۔۔۔
یہ کہانی تقریباً چالیس سال پرانی ہے
ایک غریب گھڑی ساز کی کہانی
جو رزق حلال کی تلاش میں شہر کے بازاروں میں مارا مارا پھرتا۔۔۔دن بھر محنت کرنے پر اسے بس اتنی ہی اجرت ملتی جس سے اسکے گھر کا چولھا جل سکے۔۔روزانہ فجر کی نماز کے بعد وہ اپنے گاوں سے شہر کی طرف پیدل ہی روانہ ہوتا اور واپسی میں جب کچھ پیسے اس کے ہاتھ آتے تو بس کی سواری کے ذریعہ وہ اپنے گاوں واپس لوٹتا۔۔۔پیدل چلنے پر گاوں سے شہر کی مسافت دو گھنٹے تھی جبکہ سواری کے ذریعہ وہ آدھے گھنٹہ میں شہر پہنچ سکتا تھا مگر اس کے پاس اتنی رقم نہیں ہوتی کہ وہ آتے اور جاتے وقت سواری کا استعمال کرسکے۔۔
دبلا پتلا سا نحیف جسم، چہرے پر سلیقے سے تراشیدہ داڑھی، ڈھیلاڈھالا کرتا پاجامہ پہنے سر پر سفید اور کالے رنگ کا رومال سلیقے سے باندھیں ہاتھ میں ایک تھیلا ہوتا جس میں ایک وزنی بکسہ ہوتا اس بکسے میں گھڑی سدھارنے کا سامان اور اوزار ہوتے۔۔وہ پورے راستے سے اللہ کی تسبیح و تہلیل کرتا ہوا گذرتا۔۔اسکے چہرے پر ایمانی نور صاف جھلکتا جو اسے جاذب نظر بناتا معاملات کا بڑا سیدھا اور نرم لب و لہجہ کا مالک تھا اسکی پر اثر شخصیت سے لوگ متاثر ہوتے اور اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتے اور مولوی صاحب کہ کر پکارتے۔۔۔
ہفتہ کا دن تھا اس روز بازار میں معمول سے زیادہ ہجوم ہوتا مختلف قسم کی دکانیں بھی زیادہ لگتی تھیں۔۔۔وہ ہمیشہ کیطرح اپنی مقررہ جگہ پر ٹاٹ کی چٹائی بچھائے( جس پر جگہ جگہ کپڑے کے پیوند لگے ہوئے تھے) چہرے پر متانت و سنجیدگی کے آثار لئے پروقار انداز میں تقریباً تین گھنٹے سے گاہک کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔۔پورا بازار دکاندار اور گاہکوں کے شور سے گونج رہا تھا۔۔بازار کی چہل پہل اور رونق اپنے عروج پر تھی۔۔۔دو گھنٹے اور بیت گئے مگر کوئی نہ آیا اور پھر دیکھتے دیکھتے شام کا وقت ہوگیا اب سبھی دکاندار اپنا سامان سمیٹنے میں لگے ہوئے تھے اس نے بھی اپنی مختصر سی دکان سمیٹ کر چلنے کا ارادہ کیا۔۔عصر کی نماز کا وقت تھا مسجدوں میں اذانیں ہورہی تھی اب وہ اپنے سامان کو سمیٹ کر مسجد کی طرف جانے لگا۔۔۔مختلف چیزوں کی دکانوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ بازار سے گذر رہا تھا۔۔"عائشہ کے ابو! آتے وقت کچھ گیہوں، دال اور چاول لیتے آنا اناج ختم ہوگیا ہے صرف دوپہر کا ہی کھانا تیار ہوسکے گا۔" صبح گھر سے نکلتے وقت اسکی بیوی نے اسے یاد دلایا تھا۔۔مگر اب وہ یہ سب سامان کیسے خرید سکتا تھا!!!آج تو کمائی میں ایک روپیہ بھی نہیں ملا تھا۔۔۔
" میٹھے خوشبودار سستے کیلے لے لو۔۔"
ایک آدمی ہاتھ گاڑی پر کیلے سجائے زور زور سے آوازیں لگا رہا تھا۔۔۔
وہ رک کر کیلے کی گاڑی کے قریب کھڑا ہوگیا۔۔" بھائی صاحب! بچوں کے لئے یہ کیلے لیتے جاو۔۔بہت میٹھے ہیں اور دام بھی بہت کم ہے صرف ایک روپیہ درجن۔۔۔"
اسکے کانوں میں ننھی عائشہ کی آواز گونجنے لگی" ابو ابو! جب آپ شام میں واپس آئیں گے نا تو ہمارے لئے کیلے لیتے آنا بہت دنوں سے آپ نے ہمارے لئے کچھ بھی نہیں لائے"
اس نے معصوم عائشہ کے گال کو چومتے ہوئے کہا تھا"ضرور لاونگا میں اپنی پری کے لئے میٹھے میٹھے کیلے"
" کیا ہوا صاحب آپ کچھ بول نہیں رہے چلئے آپکو پچہتر پیسے میں ایک درجن لگا دیتا ہوں۔۔۔"
" نہیں بھائی میں پھر کبھی لے لوں گا۔۔"
اب وہ مسجد کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔۔وضو کرنے کے بعد اس نے اپنا سامان مسجد کے ایک کونے میں رکھ دیا اور امام کے پیچھے نماز کے لئے کھڑا ہوکر مشغول حمد و ثنا ہوگیا۔۔۔نماز کے بعد وہ سجدے میں گر گیا اور اپنے رب سے گڑگڑا کر دعائیں مانگنے لگا۔۔۔اسکی آنکھیں مسلسل آنسوں بہار ہی تھی۔۔۔
"اے رب کائنات! تو رزاق ہے کریم ہے اپنے بندوں سے بے پناہ محبت فرماتا ہے۔۔تیرے سوا کون ہے جو ہماری ضروریات کو پورا کرے ہمارے مسائل کو حل کرے۔۔۔خدایا میں تیرے سوا کسی سے سوال نہیں کرتا تو ہی کوئی راستہ پیدا فرما کر مجھے اس مشکل وقت سے نکال دے۔۔میری مدد فرما۔۔۔گھر پر اگر خالی ہاتھ لوٹا تو آج رات چولھا نہیں جلے گا بچے بھوکے سو جائیں گے بے شک تو ہی ہمیں رزق عطا کرتا ہے اور تو ہی ہمارا مولیٰ و مددگار ہے بہترین کارساز ہے۔۔"
دعا کے بعد اسے راحت و سکون نصیب ہوا۔۔کچھ دیر وہ یونہی مسجد میں بیٹھا رہا پھر اٹھ کر جانے کی تیاری کرنے لگا۔۔اب وہ مسجد کے صحن میں کھڑا تھا۔۔۔
" لگتا ہے آج شام میں بھی پیدل ہی گھر جانا پڑے گا" اس نے آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا اور دل ہی دل میں باتیں کرنے لگا
" ارے مولوی صاحب السلام علیکم!مجھے یقین تھا کہ آپ اسی مسجد میں ملوگے آپ جہاں دکان لگاتے ہیں میں آپکو وہاں سے ڈھونڈتے ہوئے یہاں تک پہنچا ہوں۔۔"یہ کریم بھائی تھے جن کی بازار میں بڑی کرانہ دکان تھی۔۔
"وعلیکم السلام کریم بھائی سب خیریت تو ہے آپ مجھے اسطرح کیوں ڈھونڈ رہے تھے"
"جناب عالی! پچھلے ہفتے میں نے آپ سے اپنی گھڑی سدھروائی تھی اور آپ سے یہ کہاں تھا کہ دو تین دن میں آپ کو پیسے دے دونگا مگر کاروباری مصروفیت میں بھول گیا تھا پتہ نہیں آج کیسے اپنی دکان بند کرتے وقت مجھے اچانک یاد آیا کہ آپکی ادھاری چکانی ہے میں فوراً آپ کو ڈھونڈنے کے لئے نکل پڑا یہ لیجئے آپ کے دس روپے جو میری طرف ادھار تھے۔۔"
وہ روپے اس نے رکھ لئے اور دل میں کہنے لگا" کریم بھائی تم خود سے نہیں آئے ہو تمہیں میرے رب نے بھیجا ہے"
اس نے پھر ایک بار آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور خدا کا شکر ادا کیا۔
اے رب کریم! تو کیسے اپنے بندوں کی مدد فرماتا ہے انھیں اپنے در سے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔۔۔
اب وہ ہاتھ میں بچوں کے لئے کیلے اور کھانے پینے کا سامان لئے بس میں سوار ہوچکا تھا جو اسکے گاوں کی طرف جارہی تھی۔۔
اللہ اپنے بندوں سے فرماتا ہے
" ادعونی استجب لکم" تم ہر حال میں مجھے پکارو! میں اسکا جواب دوں گا۔
ہمارے آس پاس ایسے کتنے ہی غریب و مسکین لوگ ہیں جو ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے چھوٹا موٹا کام کاروبار کرتے نظر آتے ہیں ۔۔لیکن ہم ہاتھ گاڑی پر بیچ رہے کسی غریب سے سامان خریدنا پسند نہیں کرتے اور اگر خرید بھی لیں تو اس سے کم دام میں خریدتے ہیں۔ جبکہ وہی سامان کسی بڑی دکان یا شو روم سے بہت مہنگا خریدتے ہیں اور منہ مانگا دام دے آتے ہیں۔۔خدارا! ایسا نہ کریں ان غریبوں سے حسن سلوک کریں اور انکی خوب امداد کریں....۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں