*خطبات* *(مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی) * باب ہفتم جہاد* حاصل مطالعہ
*خطبات*
*(مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی)*
*باب ہفتم جہاد*
حاصل مطالعہ ✍🏻
فردا ارحم
*جہاد*🔹️
*اسلام کا مقصود حقیقی*🔹️
*جہاد کیا ہے؟*
انسان پر سے انسان کی حکومت مٹا کر خداۓ واحد کی حکومت قاٸم کرنا ہے۔اور اس مقصد کےلیے سر دھڑ کی بازی لگا دینے اور جان توڑ کوشش کرنے کا نام جہاد ہے۔اور نماز ، روزہ ، حج ، زکوة سب کے سب اسی کام کی تیاری کے لیے ہیں۔
🔹️
*خرابیوں کی اصل جڑ۔۔۔۔۔۔حکومت کی خرابی*
دنیا میں آپ جتنی خرابی دیکھتے ہیں اُن سب کی جڑ بہت حد تک حکومت کی خرابی ہے۔
طاقت دولت حکومت کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔قانون حکومت بناتی ہے۔انتظام کے سارے اختیارات حکومت کے قبضہ میں ہوتے ہیں۔پولس اور فوج کا زور حکومت کے پاس ہوتا ہے۔لہذا جو خرابی بھی لوگوں کی زندگی میں پھیلتی ہے وہ یا تو خود حکومت کی پھلاٸ ہوٸ ہوتی ہے یا اس کے مددسے پھیلتی ہے۔ کیونکہ کسی چیز کو پھیلنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ حکومت ہی کے پاس ہے۔
ظاہر ہے کہ جب طاقت بگڑے ہوۓ لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی اور جب خلق خدا کا رزق انہی کے تصّرف میں ہوگا تو وہ نہ صرف خود بگاڑ کو پھلاۓ گےبلکہ بگاڑ کی ہر صورت ان کی مدد اور حمایت سے پھیلے گی اور جب تک اختیارات ان کے قبضہ میں رہیں گے کسی چیز کی اصلاح نہیں ہو سکے گی۔
🔹️
*اصلاح کے لیے ناگزیر قدم ۔۔۔۔۔اصلاحِ حکومت*
یہ بات سمجھنا آپ کے لیے آسان ھیکہ خلق خدا کی اصلاح کرنے اور لوگوں کو تباہی کے راستوں سے بچا کر فلاح اور سعادت کے راستے پر لانے کے لیے اس کے سوا کوٸ چارہ نہیں ہے کہ حکومت کے بگاڑ کو درست کیا جاۓ۔
جو کوٸ حقیقت میں خدا کی زمین سے فتنہ و فساد مٹانا چاہتا ہو اور واقعی یہ چاہتا ہو کہ خلقِ خدا کی اصلاح ہو تو اس کے لیے محض واعظ و ناصح بن کر کام کرنا فضول ہے ۔ اسے اٹھنا چاہیے اور غلط اصول کی حکومت کا خاتمہ کرکے غلط کار لوگوں کے ہاتھوں سے اقتدار چھین کر صحیح اصول اور صحیح طریقے سے حکومت قاٸم کرنا چاہیے۔
🔹️
*حکومت کی خرابی کی بنیاد پر انسان پر انسان کی حکمرانی*
اب یہ سوال پیدا ہوتا ھیکہ خود حکومت کی خرابی کا بنیادی سبب کیا ہے؟ اس خرابی کی جڑ کہاں ہے؟
اس کا جواب یہ ھیکہ جڑ دراصل انسان پر انسان کی حکومت ہے۔اور اصلاح کی کوٸ صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ انسان پر خدا کی حکومت ہو۔
*حکومت ایک کٹھن راستہ*🔹️
حکومت کے اختیارات پر قبضہ کر لینا اتنا مشکل نہیں جتنا ان اختیارات کے ہاتھ میں آجانے کے بعد خدا بننے سے بچنا ۔
*عبادات ۔۔۔ایک تربیتی کورس*🔹️
یہ نماز روزہ زکوة حج داصل اسی تیاری اور تربیت کے لیے ہیں جس طرح تمام دنیا کی سلطنتیں اپنی فوج ، پولس اورسول سروس کے لیے آدمیوں کو پہلے خاص قسم کی ٹرینگ دیتی ہے پھر ان سے کام لیتی ہے اس طرح اللہ کا دین بھی پہلے خاص طریقے سے تربیت دیتا ہے پھر ان سے جہاد اور حکومت الہی کی خدمت لینا چاہتا ہے۔
Part 2nd
*جہاد کی اہمیت*🔷️
*دین کے معنی*🔹️
دین دراصل حکومت کا نام ہے۔ شریعت اس حکومت کا قانون ہے اس کے قانون اور ضابطہ کی پابندی ہے آپ جس کسی کو حاکم مان کر اس کی محکومی قبول کرتے ہیں، دراصل آپ اُس کے دین میں داخل ہوتے ہے
*انسان کے دودین نہیں ہوسکتے۔*🔹️
یہ بات جب آپ نے سمجھ لی تو بغیر کسی دقّت کے یہ سیدھی سی بات بھی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کے دو دین کسی طرح نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ مختلف حکمرانوں میں سے بہرحال ایک ہی کی اطاعت آپ کر سکتے ہیں۔
*ہر دین اقتدار چاہتاہے۔*🔹️
یہ نکتہ بھی آپ کے ذہین نشین ہوگیا تو بغیر کسی لمبی چوڑی بحث کے آپ کا دماغ خود اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ دین خواہ کوٸ سا بھی ہو لامحالہ اپنی حکومت چاہتا ہے۔
*اسلام میں جہاد کی اہمیت*🔹️
اب یہ بات بلکل صاف ہوگٸ ھیکہ اسلام میں جہاد کی اس قدر اہمیت کیوں ہے۔دوسرے تمام دینوں کی طرح دینِ اللہ بھی اس بات پر مطمٸن نہیں ہوسکتا کہ آپ بس اسی کے حق ہونے کو مان لیں۔اور اپنے اس اعتقاد کی علامت کے طور پر محض رسمی پوجا پاٹ کرلیں۔کسی دوسرے دین کے ماتحت رہ کر آپ اس دین کی پیروی نہیں کرسکتے۔کسی دوسرے دین کی شرکت میں بھی اس کی پیروی ناممکن ہے۔
🔹️
*تبدیلی بغیر کش مکش کے ممکن نہیں*
ظاہر ھیکہ دینِ حق کو جب کبھی قاٸم کرنے کی کوشش کی جاۓ گی ، کوٸ نہ کوٸ دینِ باطل قوت اور زور کے ساتھ قاٸم شدہ تو پہلے سے ہی موجود ہوگا ہی۔طاقت بھی اس کے پاس ہوگی۔اور زندگی کے سارے میدان میں وہی مسلط ہوگا۔ایسے ایک قاٸم شدہ دین کی جگہ کسی دوسرے دین کو قاٸم کرنے کا معاملہ بہر حال پھولوں کی سیج تو نہیں ہوسکتا۔ اس کام کے لیے آپ کو ان تمام حقوق کو ان تمام فاٸدوں کو اور ان تمام آساٸشوں کو لات مارنے کے لیے تیار ہوجاۓ جو دینِ باطل کے ماتحت آپ کو حاصل ہو۔ اور جو نقصان بھی اس مجاہدے میں پہنچ سکتا ہے اس کو ہمت کے ساتھ انگیز کیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں