حاصل مطالعہ

حاصل مطالعہ
کتاب خطبات
موضوع:- حج
شازیہ منیر صاحبہ ✍🏻
            اسلام کے فرض عبادت میں ایک چیز حج بھی ہے حج کے معنی عربی میں (زیارت کاقصد)کے ہے حج میں چونکہ ہر طرف سے لوگ کعبہ کی زیارت کا قصد کرتے ہیں اس لیے اس کا نام حج رکھا گیا ہے
حج کے فوائد کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی ابتدا یعنی تاریخ کو سمجھنا ہوگا
اس کتاب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کے حالات ان کے گھر میں بوتوں کی پوجا اس زمانے کے سارے واقعے ہےحضرت ابراہیم علیہ السلام کا اللہ پر ایمان ان کی سوچ ان کا یقین ان کی ہجرت ان کی آزمائش اس سب کا ذکر ہے
اسلام کو پھیلانے کے لیے انھوں نے اپنے بھتیجےلوط علیہ سلام کو شرق اردن بھیجا حضرت اسحاق علیہ السلام کو فلسطین اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حجاز میں مکہ کے مقام پر اپنے ساتھ رکھا
پھر یہاں پر دونوں باپ بیٹے نے مل کر اللہ کے حکم سے اسلام تحریک کا وہ مرکز تعمیر کیاجو کعبہ کے نام سے آج ساری دنیا میں مشہور ہے
اس کی غرض تھی کہ ایک خدا کو ماننے والے ہر جگہ سے کیھچ کیھچ کر یہاں جمع ہو کر مل کر ایک اللہ کی عبادت کرے
اس کی پوری تفصیل کے یہ مرکز کس طرح تعمیر ہوا کن جذبات اور کن دعائوں کے ساتھ دونوں باپ بیٹے نے اس عمارت کی دیواریں اٹھائیں اور کسیے حج کی ابتدا ہوئی اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں بیان کیا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہی تھا جو مکہ میں تعمیر ہوا برکت والا گھر اور سارے جہاں والوں کے لیے مرکز ہدایت اس میں اللہ کی کھلی نشانیاں ہیں مقام ابراہیم ہے اور جو اس میں داخل ہو جاتا ہے اسکوامن مل جاتا ہے
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جب کعبہ کی تعمیر کررہے تھے تو دعا کرتےکہ پروردگار ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا (اطاعت گزار) اور ہماری نسلوں میں سے ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا ہم پرعناعت کی نظر رکھ تو بڑا بخشنے والا مہربان ہے
پروردگار تو ان لوگوں میں انہی میں سے ایک ایسا رسول بھیجو جو انہوں تیری آیت سناے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دےاور ان کے اخلاق درست کرے یقینََ تو بڑی قوت والا ہے اور بڑاحاکم ہے
سورۃ حج میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جب ہم نے ابراہیم کے لیے اس گھر کی جگہ مقرر کی اس ہدایت کے ساتھ کہ یہاں شرک نہ کرو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک و صاف رکھو اور لوگوں میں حج کی عام منادی کردو
کعبہ اس لئے تعمیر کیا گیا تھا کہ جو لوگ خدائے واحد کی بندگی کا اقرار کریں اور اس کی اطاعت میں داخل ہو خواہ وہ کسی بھی قوم اور کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہو سب کے سب اس ایک مرکز سے وابستہ ہوجائے اور ہر سال جمع ہو کر اس مرکز کے گرد طواف کریں۔۔۔
چند صدیوں بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد نے اپنے بزرگوں کی تعلیم اور ان کے طریقے سب بھول گئے اور رفتہ رفتہ ان میں وہ سب گمراہیاں پیدا ہو گئی جو دوسری جاہل قوموں میں پھیلی ہوئی تھی. کعبہ میں سیکڑوں بت رکھ دیے گئے ان لوگوں نے حج میں بگاڑ پیدا کیا سالوں سال یہ لوگ حج میں شعراء کے مقابلے رکھتے جھوٹی سخاوت کے مظاہرے کرتے اور برہنہ ہوکر کعبے کا طواف کرتے قربانی کا خون کعبے کی دیواروں سے لتھڑایا جاتا اور گوشت دروازے پر ڈالا جاتا اس خیال سے کہ نعوذبااللہ خون اور گوشت خدا کو مطلوب ہے یہ حالت کم و بیش دو ہزار برس تک جاری رہی
جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پنڈتوں کے خاندان میں انکھ کھولی تھی اسی طرح حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس خاندان میں آنکھ کھولی جو صدیوں سے کعبے کےتیرتھ کا مہنت بنا ہوا تھا. جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے خود اپنے ہاتھ سے اپنے خاندان مہنتی پر ضرب لگائی اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس پر ضرب لگائی اور محض ضرب نہیں لگائی بلکہ اسکی جڑے کاٹ کر رکھ دی اور اس اصلی اور بےلوث دین کو تازہ کردیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام لےکر آے تھے. ٢١سال کی مدت میں جب سارا کام آپ مکمل کر چکے تو اللہ کے حکم سے آپ نے پھر اسی طرح کعبہ کو دنیا کے خدا پرست کا مرکز بنا نے کا اعلان کیا اور پھر وہی منادی کی کہ سب طرف سے حج کے لیے اس مرکز کی طرف آؤ. 
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کافرمان ہے لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو کوئی اس گھر تک آنے کی قدرت رکھتا ہوں وہ حج کے لیے آئے اور جو کفر کرے اللہ اس سے بے نیاز ہے
اس طرح حج کا آغاز کر نے کے ساتھ ہی جاہلیت کی ساری رسمیں بھی مٹادی گئ اسی طرح بوتپرستی کا خاتمہ بھی ہوا اور کعبہ کے سارے بوت توڑ دیئے گئے میلے ٹھلے تماشے بندکردۓگے
احرام باندھ نےکاحکم دیا گیا تاکہ سب امیر اور غریب یکساں ہو جائے
احرام باندھنے کے بعد انسان کا خون بہاناتودور جانور کا شکار کرنا حرام کر دیا گیا تاکہ امن پیدا ہو
حج کے چار مہینے حرام کیے گئے اور فرمایا گیا کہ اس مدت میں کوئی لڑائی نہ ہو اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں فرمایا کہ قدرت رکھنے کے باوجود قصداً حج نہ کرنے کو کفر کے لفظ سے تعبیر کیا ہے. 
حدیث نبوی ہیں کہ جو شخص زاد راہ اور سواری رکھتا ہو جس سے بیت اللہ تک پہنچ سکتا ہو پھر حج نہ کریں تو اس حالت پر مرنا اور یہودی یا نصرانی ہو کر مرنا یکساں ہے. 
ان آیتوں اور حدیث سے پتا چلا کہ جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج کو ٹالتے ہیں ان کو ایمان کی خیر منانی چاہیے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌷شادی کا رقعہ🌷

حاصل مطالعہ خطبا ت حصہ اول( حقیقت ایمان)

بناؤ ‏اور ‏بگاڑ ‏