گھنا درخت

گھنا درخت
✍️ مریم جمیلہ (جالنہ)
کسی مسافر کو تیز چلچلاتی دھوپ میں اگر گھنے درخت کا سایہ نصیب ہو جائے تو یہ اس کے لئے بڑی عظیم نعمت بن جاتا ہے کڑی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں راحت و سکون کا باعث ہے۔۔۔۔لیکن کیا یہ درخت ہمیں صرف سایہ ہی دیتے ہیں؟؟؟
وہ اپنے آنگن میں کھڑے جامن کے درخت کے سائے میں کرسی پر بیٹھے تخیلات و تصورات کی دنیا کی سیر کررہی تھی۔۔مئی کی چلچلاتی دھوپ میں وہ سایہ دار درخت اسے محفوظ پناگاہ لگ رہا تھا یہ اسکا روز کا معمول تھا وہ دوپہر تک اپنے سارے کام نمٹا کر اس جامن کے درخت کے سائے میں دیر تک بیٹھی رہتی اور اپنے روز و شب کے معمولات کو ذہن میں تازہ کرتی۔۔۔۔مگر آج خلاف طبیعت وہ ایک الگ ہی سوچ میں گم تھی۔۔۔ہاں! یہ درخت ہمیں صرف سایہ ہی نہیں بلکہ خوشبودار پھول، میٹھے پھل، جلانے کے لئے ایندھن، گھر کی زیبائش و آرائش کے لئے فرنیچر غرض کیا کچھ نہیں دیتے۔۔۔ہم سے بے لوث و بے غرض محبت کرتے ہیں حتی کہ بوقت ضرورت ہماری خدمت میں اپنی جان کا نذرانہ تک پیش کردیتے ہیں۔۔کس قدر ایثار و قربانی کا مجسم نمونہ ہے یہ اور بدلہ میں ہم انھیں کیا دیتے ہیں؟؟؟؟ خود غرضی مفاد پرستی کے علاوہ ہمارے پاس ہے ہی کیا؟؟؟
" بابا آپ اس آم کی گھٹلی کو زمین میں کیوں دبا رہے ہو؟" یکایک اپنا بچپن اسے یاد آگیا اب وہ سالوں پیچھے اپنے بچپن میں پہنچ گئی تھی جہاں اس کے والد نعمان صاحب آم کی گھٹلی کو زمین میں دفن کر رہے تھے۔۔۔انھوں نے ننھی رابعہ کے سوال پر خوش ہوکر اس کے گال کو پیار سے چھوتے ہوئے جواب دیا" میری گڑیا! یہ بیج ایک دن تناور درخت بنے گا اور پھر ہمیں میٹھے پھل، گھنا سایہ، فرحت بخش ہوا دے گا اور مرتے دم تک ہماری خدمت کرے گا حتی کے اگر وہ فنا بھی ہو جائے تو ہمیں لکڑی کی صورت میں ایندھن اور فرنیچر دے جائے گا۔۔۔"
" بابا جان یہ ہمارے لئے اتنا کچھ کر جاتا ہے ایسی قربانی تو کوئی کسی کے لئے نہیں دیتا ہے نا بابا؟؟!!"
نعمان صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی انھوں نے اسے قریب کرتے ہوئے کہا" پیاری بیٹی تمہیں پتہ ہے والدین وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کے حق میں اسی گھنے سایہ دار درخت کی مانند ہوتے ہیں۔۔۔یہ اپنی اولاد کے لئے قدم قدم پر ایثار و قربانی کے ایسے ہی نذرانے پیش کرتے ہیں۔۔زندگی دھوپ ہے تو والدین گھنے سائے کی طرح ہماری حفاظت و نگرانی کرتے ہیں وہ ہم سے بے لوث و بے غرض محبت کرتے ہیں۔۔۔ہماری پرورش و تربیت، ہماری خواہشات کی تکمیل، معیار زندگی کی بہتری کے لئے کیا کچھ قربانیاں نہیں دیتے اور بدلے میں ہم انھیں کیا دیتے ہیں؟؟!!!"
وہ حال میں لوٹ آئی اس کے ذہن کو دھچکا سا لگا اس کے بابا کا یہ سوال بار بار اس کے ذہن میں یونہی تازہ ہو جایا کرتا تھا۔۔"بابا اگر آپ میری یوں تربیت نہ کرتے تو میں ثمرآور درخت کے فیوض و برکات سے ہمیشہ محروم رہتی جیسے کہ فائزہ محروم ہےاور دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئی ہے۔۔۔۔"وہ شکر کے جذبات سے سرشار ہو کر خود ہی سے ہم کلام ہوئی۔۔
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
کل ہی کی تو بات ہے وہ اس کے گھر نہایت ہی خستہ حالت میں آئی تھی۔۔اسے دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے وہ سالوں سے بیمار ہے۔۔پھیکی رنگت، الجھے ہوئے بال، بوسیدہ کپڑے اور چہرے پر جھریوں کی وجہ سے بڑھاپے کی دستک صاف سنائی دے رہی تھی۔۔وہ پھٹی پرانی چادر کوعجیب انداز میں لپیٹی ہوئی واقعی زندگی کی جنگ ہاری ہوئی شکست خورد معلوم ہورہی تھی۔۔۔اپنے شوہر کے انتقال کے بعد اسکی زندگی یکسر بدل گئی تھی۔۔
" بھابھی یہ کیا حالت بنا ڈالی آپ نے؟!!" کیا بتاؤں رابعہ مجھے اماں بابا کی بد دعا لگ گئی شاید ورنہ ہم تو ایک ہی گھر میں رہتے تھے اور تم خوش آباد ہو اور میں سدا کی مایوس اور ہاری ہوئی۔۔بہت غلط سلوک تھا ہمارا ان دونوں کے ساتھ جب کہ تم نے آخر دم تک انکی خدمت کرکے دنیا و آخرت کو سنوارلیا ہے اللہ نے تمہیں اس کے عوض نیک صالح اولاد عطا کی تمہارے رزق میں برکت دی اور میں کسمپرسی کا شکار ہوں میری اولاد نے اپنی بے راہ روی کی بنا پر ہمیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رکھا اور جب سے میں نے اپنے شوہر کو کھویا ہے وہ مجھے جھانک کر تک نہیں دیکھتے۔۔۔میرا کوئی پرسان حال نہیں لوگوں کے برتن مانجھ کر گزارا کررہی ہوں۔۔مگر اب تو صحت بھی ساتھ نہیں دیتی۔۔۔ کاش اماں بابا زندہ ہوتے تو میں ان سے معافی مانگتی انکی خدمت کرکے اپنے لئے ان سے دعائیں سمٹیتی۔۔۔۔"
بھابھی والدین چاہے اپنے ہو یا شوہر کے وہ ہمارے حق میں سراپا ایثار و قربانی اور شفقت و رحمت ہوتے ہیں ان کی خدمت کرنا عزت کرنا اور ان سے شفقت و نرمی سے پیش آنا اولاد پر لازم ہے۔۔۔وہ تو دم آخر تک ہم پر بے لوث محبت لٹاتے ہیں۔۔مگر افسوس ہم ان کی قدر نہیں کرتے۔۔۔کاش! کہ بھیا ایسے نہ کرتے۔۔۔کاش! کہ تم انھیں غلط باتوں کا حکم نہ دیتی۔۔۔مگر اب حسرت و یاس کے سوا بچا ہی کیا ہے!!"
"صحیح کہ رہی ہو رابعہ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی۔۔خدایا بخش دے مجھ پر رحم فرما۔۔۔اچھا اب میں چلتی ہوں"
بھابھی آپ یہیں ہمارے پاس رک جائیں نا۔۔کیوں یوں ذلیل و خوار ہوئے ماری ماری پھر رہی ہو؟؟ آخر یہ آپ کے دیور کا گھر ہے اور آپ کو مکمل حق حاصل ہے۔۔۔"
" نہیں رابعہ میں ایسا نہیں کرسکتی مجھے اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا ہے۔۔مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو۔۔اگر میرے لئے کچھ کرنا ہی چاہتی ہو تو دعائے خیر و مغفرت کرو۔۔۔چلتی ہوں اب۔۔۔"
"بھابھی کھانا تو کھا کر جائیں۔۔"
" بھوک کسے لگتی ہے یہاں میں تو زندہ لاش ہوں پے در پے صدموں نے مجھے مار ڈالا ہے بس روح نکلنی باقی ہے۔۔"
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
فائزہ جب سے اس نے ازدواجی زندگی کی شروعات کی تھی اپنے سسرالی رشتوں کو وہ بالکل بھی اہمیت نہیں دیتی خصوصاً ساس سسر سے اسے حد درجہ کا بغض تھا یہ ہر وقت ان کے خلاف سازشی ماحول بناتی اپنے شوہر کو ان سے بد گمان کرتی حتی کہ جھوٹے پروپیگنڈوں کے سہارے وہ اسے اپنے والدین کے خلاف صف آرا کرتی۔۔۔اور جیسے ہی فائزہ بیاہ کر آئی اس نے پہلے تو اسے اپنی پارٹی میں پھنسانے کی کوشش کی مگر جب وہ اس کے ہاتھ نہ آئی تو اس نے گھر میں علیحدگی کا طوفان کھڑا کر دیا اس وقت اس کے ساس سسر کی کوئی جائداد نہیں تھی وہ سب کرائے کے گھر میں مقیم تھے اسکا شوہر ارشد اور رابعہ کا شوہر خالد دونوں پرائویٹ کمپنی میں ملازمت کرتے تھے دونوں بھائیوں کی تنخواہ پر گھر کے اخراجات پورے ہوتے مگر جیسے ہی فائزہ نے علیحدگی کا مطالبہ کیا سب کے ہوش اڑ گئے وہ اپنی ضد پر اڑی رہی اور ایک دن ایسے ہی بے مطلب بات پر اتنا بڑا جھگڑا ہوا کہ ارشد نے اپنے والد پر ہاتھ اٹھالیا اور یہ کہ کر انھیں ذلیل و رسوا کیا کہ" چلیں جائیں یہاں سے ہماری جان چھڑائیں!!! میرے اندر اتنی سکت نہیں ہے کہ میں تمہیں پال سکوں۔۔"
یہ جملے کیا تھے؟؟؟ گرم سیسہ جو کان میں انڈھیلا جارہا تھا۔۔۔زہر میں بھجی ہوئی تیر جو نرم و نازک جگر کو چھلنی کررہی تھی۔۔۔اتنا سب سہ کر بھی یہ سائے دار درخت دعائیہ کلمات کے ساتھ انھیں الوداع کہ کر چھوٹے بیٹے خالد کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگے اور اسے اپنی آغوش محبت میں پھلتا پھولتا دیکھ کر خوشی خوشی اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔۔
وہی ارشد ان سے علیحدگی کے بعد جیسے اسکا دیوالیہ نکل آیا اسکو دو لڑکے تھے جنھیں وہ لوگوں سے قرضہ لے کر شہر کے مہنگے اسکول میں تعلیم دلا رہا تھا۔۔۔یہ دنیا مکافات عمل ہے یہاں جو بووگے وہی کاٹنا پڑتا ہے جو سلوک ہم اپنے والدین کے ساتھ رواں رکھیں گے ہماری اولاد ہمیں وہی سب آئینے میں دکھائے گی۔۔۔ان کے دونوں لڑکے بے راہ روی کا شکار ہو کر ان کے لئے وبال جان بن گئے اور ایک دن اسکے بڑے بیٹے نے اسے ذلیل و رسوا کیا اور اس کے ساتھ مارپیٹ بھی کی۔۔۔وہ اس صدمہ کو برداشت نہ کر پایا اور دل کی دھڑکن رک جانے کے سبب اسکی موت واقع ہو گئی۔۔۔
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
ماضی کے تاریک و روشن جھروکوں سے وہ اپنی کتاب زندگی کا مشاہدہ کررہی تھی۔۔۔اسے اتنی گہری سوچ میں مگن دیکھ کر اس کے بڑے لڑکے حماد نے اسکے شانوں پر ہاتھ رکھ کر اسے جھنجوڑا " امی جان میں کب سے یہاں کھڑا آپ کو آواز دے رہا ہوں اتنا کیا سوچ لیتی ہو آپ؟!!" وہ چونک سی گئی خوبرو خوبصورت و خوب سیرت نوجوان اس کے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔یہ اسکا پیارا بیٹا تھا جو اسے بہت عزیز تھا۔۔
" کہو حماد کیا بات ہے؟"
" امی جان دوپہر کے کھانے کا وقت ہورہا ہے کھانا نہیں کھانا ہے کیا؟ ابو جب سے جدہ گئے ہیں آپ یہاں بیٹھے انکو یونہی یاد کرتی رہتی ہو چلئے اب کھانا کھالیں بعد میں ہم ان کو ویڈیو کالنگ کر لیں گے پھر جی بھر کے باتیں کرنا اور دیکھ بھی لینا ابو کو" اس نے شرارتاً چھیڑتے ہوئے کہا۔۔
" بے شرم کیسی باتیں کرتا ہے اپنی ماں سے!!"
"اوہ! سوری مما ایسے ناراض تو نہ ہوجائیں یہ لو کان پکڑ لئے میں نے" وہ بھولی صورت بناکر اپنی ماں کو تکنے لگا
وہ اس کے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرنے لگی۔۔
"امی اب کی بار ابو جب نئی کار خریدیں گے نا تو ہمیں پارکنگ کے لئے مسئلہ ہوگا کیوں نا ہم یہ جامن کا درخت کاٹ لیں؟؟"
" نہیں بیٹے اس درخت کو اسکے گھنے سائے کو خود سے دور نہ کرو۔۔یہ زندگی کی کڑی دھوپ میں تمہیں سایہ نصیب کرے گا خود تکلیف اٹھائے گا مگر تمہیں راحت و سکون فراہم کرے گا۔۔بیٹے یہ درخت بھی بالکل والدین کی طرح ہوتے ہیں بے لوث و بے غرض محبت کرنے والے"
ٹھیک ہے جیسے آپ مناسب سمجھیں اب چلیں۔۔۔۔۔
وہ جاتے جاتے اس جامن کے درخت کو پیار بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
ہم 'سایہ دار پیڑ' زمانے کے کام آئے
جب سوکھنے لگے تو، جلانے کے کام آئے
وہ درد دے جو راتوں کو سونے نہ دے ہمیں
وہ زخم دے جو سب کو دکھانے کے کام آئے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں