” ✨ *دردِ دل کے واسطے* *پیدا کیا انسان کو* ✨“
*فردہ ارحم بنت شیخ احمد ✍🏻
” ✨ *دردِ دل کے واسطے*
*پیدا کیا انسان کو* ✨“
ساری دنیا کورونا واٸرس جیسی بڑی بیماری کا سامنا کر رہی ہے ۔
انڈیا، پاکستان ، امریکہ ، سبھی ممالک میں کٸ لوگ اس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں ۔ بیماری کی وجہ سے کٸ لوگوں کی موت ہو چکی ہے ۔ کورونا واٸرس نے چین میں جنم لیا اور آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیل گیا ۔اب تک اس خطرناک بیماری کا کوٸ علاج نہیں نکلا ہے ۔اس بیماری کو روکنے کا واحد ذریعہ لاک ڈاٶن ہے جِسے انڈیا میں لاگو کردیا گیا ہے ۔
وہ کہتے ہیں نا کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ۔فاٸدہ ۔ نقصان ، نفع ۔ گھاٹا ، اسی طرح لاک ڈاٶن کے کٸ فاٸدے ہیں سب سے بڑا فاٸدہ یہ ہے کہ لوگ کورونا واٸرس جیسی جان لیوا بیماری سے محفوظ رہ رہے ہیں ۔ لیکن نقصان بھی ہو رہا ہے وہ یہ کہ جو لوگ روزانہ کی کماٸ سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں ، اپنا گھر چلاتے ہیں آج وہ لوگ کافی پریشان ہیں ۔ انھیں کھانے پینے کی ضروری اشیإ مہیا نہیں ہے ۔جن کے پاس جمع شدہ پیسے نہیں ہوتے وہ آج مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور جن کے پاس پیسے ہیں وہ تو آرام سے گھر میں بیٹھے ہیں ۔ انھیں اس بات کا علم کہاں کہ ان کے پڑوس میں ، گاٶں میں یا آس پاس کے علاقے میں لوگ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔ اُنھیں تو وقت پر کھانا مل رہا ہے ۔
لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ جو لوگ روزانہ کی مزدوری سے اپنا گھر چلاتے ہیں ان کی زندگی میں کتنی دشواریاں ہو رہی ہونگی ۔اس مشکل گھڑی میں ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہیے ۔ہمیں انسانیت کا ثبوت دینا ہے ۔الحمداللہ کٸ لوگ ان غریبوں کی مدد کر رہے ہیں ۔انھیں راشن کٹ تقسیم کر رہے ہیں ۔ لیکن آج بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جنھیں کھانے کے لیۓ کچھ نہیں ہیں ۔ ہر شخص اپنے پڑوس میں دیکھیں کے کون بھوکا ہے ۔ کہیں کوٸ بھوکے پیٹ سو تونہیں رہا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو ان کی مدد کریں ، ان کے کھانے کا انتظام کریں۔
ایک واقعہ جو میں واٹس ایپ پر پڑھی ہوں کہ ایک شخص کھانے کا کچھ سامان لے کر اپنے گھر کی طرف جارہا تھا دوسرے شخص نے اسے روکا اور کہا ” صاحب میں فقیر نہیں ہوں میں نے پہلے کبھی کسی سے مانگا نہیں لیکن صاحب میں آج اپنی بیٹیوں کی خاطر آپ سے کچھ مانگ رہا ہوں ۔ صاحب میری دو بیٹیاں ہیں جنہیں میں ہر روز کھانے کے بعد کچھ پھل لا کر کھلاتا تھا۔ “آج میری بیٹیاں مجھ سے کہ رہی ہے : ” بابا ہمیں کھانے کے لیۓ کچھ دے دو ۔آپ نے ہمیں صبح سے کھانے کے لۓ کچھ نہیں دیا ہے ۔آپ ہمیں روزانہ پھل بھی دیتے آج ہمیں پھل نہیں تو صرف کھانا ہی دے دو “ وہ شخص کہتا ہے ” صاحب میں اپنی بیٹیوں کی خاطر آپ سے کچھ مانگ رہا ہوں میں جھوٹ نہیں کہ رہا چاہے تو آپ میرے گھر چل کر دیکھیں “ وہ شخص کچھ سامان لے کر اس کے گھر گیا ۔جس کا گھر تھا اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا ”یہ ہماری مدد کے لیۓ آۓ ہیں ۔کہاں ہے دونوں بیٹیاں؟“ بیوی کہتی ہے ”میں نے انھیں بھوکے ہی سلا دیا “
اب آپ سوچیۓ ! کہ اگر آپ کے گھر میں بھی کچھ ایسا وقت آگیا تو آپ کیا کرینگے ؟ یہی سوچ کر اپنے پڑوس میں دیکھیں کہ کہیں اس شخص کی طرح ہمارے پڑوس میں بھی تو کوٸ نہیں ہے ؟
قران کہتا ہے
*وَاَحسِنُوا اِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ*
*المُحسِنِینَ*
”(لوگوں کے ساتھ ) نیکی اختیار کرو بے شک اللہ نیکی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے “
ابھی حال ہی کا واقعہ ہے ایک بیمار لڑکی کو اسپتال میں شریک کیا گیا لیکن اس نے وہاں دم توڑ دیا ۔ اسپتال کے سامنے تین ایمبولنس موجود تھے لیکن کوٸ اس لڑکی کی کو اس کے گھر پہنچانے کے لۓ تیار نہیں تھے ۔ کیسے پتھر دل لوگ ہونگے جس کا دل ایک ماں کو اپنی بیٹی کے لیۓ تڑپتے دیکھ کر ان کا دل نہیں پگھلا ۔ وہ ماں اپنی بیٹی کو لے کر پیدل ہی نکل پڑی ۔
اللہ نے انسان کو دنیا میں صرف عبادت کے لیۓ نہیں بھیجا بلکہ لوگوں کا درد سمجھنے ، اسکی خدمت کرنے ، انسانیت کو پیش کرنے کے لیۓ بھیجا ہے ۔ مذھب میں سے انسانیت اور خدمت نکال دی جاۓ تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور محض عبادت کے لیۓ اللہ کے پاس فرشتوں کی کوٸ کمی نہیں ہے ۔کبھی درد سے گزرنے والے شخص کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھنا کہ کیسا محسوس ہوتا ہے اور اسی احساس کے ساتھ اس کی مدد کرنا ۔
آج سے کچھ مہینے پہلے پورے بھارت میں NRC ، NPR کی خطرناک لہر دوڑ رہی تھی وہ لہر ابھی ختم نہیں ہوٸ ہے بلکہ کچھ وقت کے لیۓ ٹھہر گٸ ہے کیونکہ ابھی سب کورونا واٸرس کا سامنا کر رہے ہیں ۔ NRC NPR کے خلاف تمام مسلمان احتجاج کر رہے تھے کیونکہ یہ ہم سب پر مصیبت آٸ ہوٸ ہے ۔
بابری مسجد کے موقع پر کسی نے آواز نہیں اٹھاٸ ، ماب لنچنگ کے وقت سب خاموش رہے ، مہنگاٸ کی بات پر بھی صرف غریبوں نے آواز اٹھاٸ ۔
کیوں ؟؟؟
اسلۓ کہ ماب لنچنگ کا واقعہ ہمارے ساتھ پیش نہیں آیا ؟ مہنگاٸ کے وقت یہ سوچا کہ ہمیں کہاں پریشانی ہو رہی ہے ؟ یہ تو غریبوں کا مسٸلہ ہے ۔
اگر آپ کا جواب یہی ہے تو آپ بھی لوگوں کا درد محسوس نہیں کرتے ۔NRC کا معاملہ تو ہر فرد کا تھا اسلیۓ سبھی لوگ باہر احتجاج پر تھے یہاں تک کہ وہ خواتین جو چار دیواریوں میں رہتی ہے ، وہی اچھی لگتی ہے وہ بھی راستے پر تھی اسلیۓ کہ وہ اسکا بھی مسٸلہ تھا ۔
اگر ہمیں ہر فرد کا احساس ہوتا تو ہم مہنگاٸ کے وقت بھی آواز اٹھاتے اور ماب لنچنگ کے وقت بھی خاموش نہیں رہتے ۔
خواجہ میر درد نے کیا خوب کہا ہے
💫 دردِ دل کے واسطے
پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لیۓ
کچھ کم نہ تھے کروں بیاں

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں