لاک ڈاون کے اثرات ہماری زندگی پر
لاک ڈاون کے اثرات ہماری زندگی پر
اس لاک ڈاون نے کچھ اہم خصوصیات ہم میں پیدا کی ہے جو زمانے کی رفتار اور مسابقہ کی دوڑ دھوپ میں ہم سے کوسوں دور ہوگٸ تھیں وہ درج ذیل ہیں:
١ صبر:ہم جو چیزیں گھر میں میسر ہیں انھیں کو استعمال کرنے کا فن سیکھ گیے ہیں اور اس پر قانع ہیں ۔
2 یکسوٸ : گھروں کی چار دیواری میں رہ کر وہ یکسوٸ ہم محسوس کررہے ہیں جو کبھی ہمارے بزرگوں میں پاٸ جاتی تھیں ۔اور کام والیوں کی انٹری نہ ہونے کی وجہ سے اپنے کام حسن و خوبی سے نبٹانا بھی سیکھ گیے الحمداللہ۔
3تربیت کیلیے مکمل وقت:یہ ایک اہم بات ھیکہ ہم اس سے پہلے بھی تربیت اولاد کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر کرتے آۓ ہیں کیونکہ الحمداللہ ہم تحریک اسلامی سے وابستہ ہیں لیکن اس موقع سے ایک بڑا وقت ہم اپنی اولاد کیلیے صرف کررہے ہیں جو کہ اس دور کا سب سے بڑا تقاضہ تھا اور ہم اس کے لیے بہت سنجیدہ نہیں تھے 4 مطالعہ قران و کتب:یہ بھی بہت اہم چیز تھی جس کیلے وقت کی کمی کا رونا ہم ہر بار روتے رہے اور اب بھر پور وقت ہمیں ہمارے ان شکایتوں پر اللہ نے عطا کردیا لھذا اب ہم ہیں اور ہمارے گھر کی وہ کتابیں ہیں جو برسوں سے ہمیں تاک رہی تھیں ۔وہ تفاسیر ہیں جس کے صفحہ و قرطاس تدبر کرنے والی آنکھوں کےمنتظر تھے ۔
باہمی تعامل: افراد خاندان ایک دوسرے کے ساتھ ملکر جو ایڈجسمنٹ اور باہمی گفت و شنید کررہے ہیں یہ بھی اس لاک ڈاون میں قابل ذکر ہے کیونکہ بالخصوص تحریکی افراد کا ایک بڑا وقت اہل خاندان سے دور ہی گذرتا تھا ۔اور اسوقت تو جذب باہمی سے ہی گھروں کاسکون ممکن ہے اسلیے غصہ بھی پی رہے ہیں ☺۔
5صحت کو غنیمت جاننا:یہ چیز تو ہر دوسرے دن کے آغاز کے ساتھ ساتھ اضافہ کا باعث بن رہی ہے ہم ہر پل اور ہر سانس کے ساتھ اس رب کاٸنات کے شکر گذار ہیں جس نے ہمیں اتنی صحت مند زندگی بخشی اور شرمسار ہیں اس بات پر کہ اس صحت مند زندگی اور تواناٸ کی ہم نے کچھ بھی قدر نہ کی مریضوں کی بڑھتی ہوٸ تعداد نے ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ پتا نہیں یہ مہلت عمل ہم سےکب اور کسوقت چھین لی جاۓ۔۔۔۔۔۔۔
توبہ و استغفار:یہ لوک ڈاٶن بظاہر تو حکومت کا اعلان نظر آتا ہے لیکن اس کے پیچھے اللہ کی بے پناہ مصلحت پوشیدہ ہے اس نے اپنے عذاب کے باوجود ہمیں تنہا نہیں چھوڑا بلکہ روز مرہ کے ہنگاموں سے دور کرکے یہ موقع عطا کردیا کے کون ہے جو مجھکو منوالے اور اپنے گناہوں کی تلافی کروالے میں حاضر ہوں اسکی پکار سننے کیلیے ہمارے آنھوں سے بہنے والے قطرے تو اللہ کے نزدیک قیمتی موتی ہے
علامہ اقبال نے کہا:
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے
جذبہ۶ہمدردی:ہمارے ہر لقمہ پر ان غریبوں کی بھوک کا احساس موجود ہے جو شاید اس سے پہلے ہمیشہ ہوتا تو اس بڑے عذاب سے زمانہ دوچار نہ ہوتا ۔۔۔خیر اب بھی ہم اپنے اس رب کی صفت رحمنیت سے نا امید نہیں ہے وہ چاہے توایک دم پھر سے ہم پر رحمتوں کا نزول فرمادے ۔
اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں بے سہارا نہ چھوڑ اور ہمیں معاف کردے بے شک توہی غفورالرحیم ہےآمین
شاید میرے تاثرات طویل نہ ہوجاۓ اس لیے اتنے پر ہی اکتفا کررہی ہوں ورنہ اس بحر بیکراں(موضوع) کیلیے تو ایک سفینہ ہی درکار ہے۔
عمارہ فردوس جالنہ ✍🏻
معلمہ انڈراسٹینڈ قران اکیڈمی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں