آئیڈیل دن

آئیڈیل دن 
از قلم : نادیہ تمثال ماہم 
 بنت محمود عثمان 
نومبر کے اوئل دن تھے .ہم لوگ امتحانات سے فارغ ہوکر تائی امی کے پورشن میں موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک بہترین شام گزار رہے تھے کہ ہمارے  ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نا ہم لوگ فیملی پکنک پر جائے اور افرادِخانہ کے ساتھ بزنس اور دیگر مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئےایک بہترین وقت گزارے . ابو اور بڑے ابو کو یہ کہ کر منایا گیا کہ جماعت اسلامی اور ویلفئیر پارٹی کے انتظامات بہترین طریقے سے سنبھالنے کے لئے اور ہمارے دماغوں کو پڑھائی کے لئے زرخیز کر نے کے لیئے  کچھ سیر وتفریح بھی ضروری ہے. کیونکہ ہمارے دماغ امتحانات کے بوجھ سے بنجر ہوگئے ہیں.  
اب مسئلہ یہ درپیش تھا کہ سیر وتفریح کے لئے کہاں جایا جائے ؟ حل نکالا گیا کہ بڑے چاچو اپنی جاب کی وجہ سے بمعہ فیملی جالنہ میں رہائش پزیر ہے اور وہ ابھی یہاں نہیں ہے تو ہم لوگ اورنگ آباد گھومنے چلتے ہیں . چاچو اور انکی فیمیلی سے ملاقات بھی ہوجائے گی اور ہماری  کرکٹ ٹیم ( بقول بڑے چاچو  ) بھی مکمل ہوجا ئے گی . ہمارے گھر کے امیر محترم حامد حسین (  بڑے ابو )نے کہا کہ ہم لوگ سنیچر کی رات میں جالنہ کے لئے روانہ ہونگے فجر سے پہلے جالنہ پہنچ جائینگے اور نمازِ فجر کے بعد اورنگ آباد کے لئے روانہ ہونگے . اور  اتوار کی رات میں واپسی (بمطابق ہم کزنز کے کہ ہوا کے گھوڑے پر سوار جائیں گے اور آئیں گے  ) ہم بچوں کو اعتراضات تو تھے آندھی کی طرح جانے اور طوفان کی طرح آنےمیں لیکن زبان پر یہی تھا کہ جیسا آپکا حکم امیرمحترم ڈانٹ نہ سننے کے لئے نہیں بلکہ ابو اور بڑے ابو کا آنا کینسل نہ ہوجائے اسلئےسنیچر کی سرد رات میں رات میں ہم بیس لوگوں کا قافلہ آکولہ سے جالنہ کی جانب روانہ  ہوا
ہم لوگ رات کے تین بجے کے قریب جالنہ پہنچے چاچو اور چاچی سے ملنے کے  بعد ہم نے نمازِ تہجد اداکی اور تھکاوٹ زائل کرنے کے لئے لیٹ گئے . فجر کی اذان کی آواز سن کر سب لوگ اپنے بستروں سے نکل کر وضو بنانے چل دئیے . اس کے بعد ہمارے امیرِ خاندان  محترم حامد حسین کی زیرِ امامت نما ز ادا کی گئی. 
نمازِ فجر کے بعد ہم لوگ اورنگ آباد کی جانب روانہ ہوئے. دیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم لوگ اورنگ آباد میں پن چکی کے مقام پر پہنچے اس کے بعد ہم لوگ بی بی کا مقبرہ گئے وہاں تاریخی اشیاء کا مشاہدہ کرنے اور ان پر تبادلئہ خیال کرنے کے بعد ہم لوگ  سدھارتھ گارڈن کے لئے روانہ ہوئے وہاں بارہ بجے کے قریب پہنچے کھانا کھایا اس کے بعد سدھارتھ گارڈن کے پُر لطف ماحول میں  با جماعت نمازِ ظہر ادا کی گئی.ڈھائی بجے کے قریب ہم لوگ خلد آباد پہنچے. شہنشاہ اورنگ زیب کی یادوں کو تازہ کرنے کے بعد ہم لوگ اس عزم وارادے کے ساتھ لوٹے کہ اپنے دیش کی حفاظت اور کامرانی کے لئے ہم ضرور کچھ کریں گے. سوا تین بجے کے قریب قلعہ دولت آباد پہنچے تقریباً ہزار کے قریب اس کی سیڑھیاں ہے اس کی بلندی پر پہنچ کرشہر دیکھنے کے لئے  ہم لوگ پُر جوش سے آگے بڑھنے لگے ابھی آدھی سیڑھیاں ہی طے کی تھی کہ ہم لوگ تھکنے لگے . سب نے کہا کہ تھوڑی دیر یہاں بیٹھ کر ہم لوگ تھکاوٹ زائل کرتے ہیں پھرباقی سیڑھیاں  طے کریں گے . ابھی دو منٹ ہی گزرے تھے کہ بڑے ابو نے ہماری درخواست پر درس دیا جس میں انہوں نے بتایا کہ ہر جگہ ہر حالت میں چاہے حالتِ غم ہو یا خوشی ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اشاعتِ دین کے لئے سر توڑ کوششیں کرنی چاہئے اللہ کے ہر حکم اور ہر فیصلے پر اپنا سر خم کرنا چاہئے .اور دیگر بہترین زندگی کے راز اور اصول جاننے کے بعد ہم لوگ سیڑھیوں کی جانب روانہ ہوئے .ہم میں سے ہر ایک کے ذہن میں اپنی زندگیوں کو سنوارنے اور آخرت کو بہترین بنانے کی سوچیں تھیں. قلعہ دولت آباد کے بعد ہم لوگ العرفان اسکول کی جانب روانہ ہوئے میرے دو بھائی العرفان اسکول کے اسٹوڈنٹ رہ چکے ہیں اس لیے میری خواہش تھی کہ میں العرفان جاؤں,  پڑھائی کے سلسلے میں حیدر آباد  میں ہونے کی وجہ سے انکی موجودگی میں, میں نہ جاسکی تھی اس لیے وہاں جانے کا ارادہ ظاہر کیا اور ہمارے بڑوں نے اپنی رضامندی دے کر میرے فیصلے پر قبولیت کی سند لگادی. یوں ہم لوگ العرفان کی جانب روانہ ہوئے .وہاں پہنچ کر ہم نے اساتذہ سے ملاقات کی اور دیگر چیزوں کا معائنہ کیا نمازِ عصر کے بعد  ہم نے مجتبی فا روق صاحب سے ملاقات کی اور دین کی اشاعت میں مدد کے لئے ان کی نصیحتوں کو اپنے ذہن میں محفوظ کیا اور واپسی کے راستے پر گامزن ہوئے . راستے میں نمازِ مغرب ادا کی دو گھنٹوں کے سفر کے بعد ہم لوگ چاچو کے گھر پہنچے رات کا کھانا کھایا اتنے میں ہی عشاء کی اذانیں ہو گئی اور ہم لوگ نماز کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے نمازِ عشاء کی امامت ہمارے بڑے بھائی نے کی . نماز ادا کرکے اپنے گھر کے لئے روانہ ہوئے .دل تو چاچو کے گھر سے واپس جانے کا ہو ہی نہیں رہا تھا مگر بچپن میں ابو کی کہی ہوئی باتیں یاد آگئی کہ مومن کا قول وعدہ ہوتا ہے اور مومن ہر حال میں اپنے وعدے کی پاسداری کرتا ہے اور وعدہ خلافی کرنا منافق کی علامت ہے پھر کیا؟ واپس جانا تو تھا ہی آخر وعدے کی پاسداری جو کرنی تھی. پھر ہم تمام لوگ بادلنخواستہ آکولہ کی جانب روانہ ہوئے  یوں ہم لوگ ایک آئیڈیل دن گزار کر تھکیے ماندے  لوٹے.
 نوٹ:میرے لئے ہر وہ دن آیڈیل ہے جو میں اپنی فیمیلی کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتے ہو ئے گزارتی ہوں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌷شادی کا رقعہ🌷

حاصل مطالعہ خطبا ت حصہ اول( حقیقت ایمان)

بناؤ ‏اور ‏بگاڑ ‏