ایڈجسمنٹ
ایڈجسمنٹ 🌹
مریم جمیلہ ✍🏻
"امی یہ کیا میں نے آپ سے کہا تھا کہ مجھے عید پر دو جوڑے چاہیئے ساتھ ہی فینسی جوتی،میچنگ پرس،میک اپ کٹ،ڈائیمنڈ کے کنگن،گلے کا سیٹ،ملٹی کلر رنگ،ائیررنگ،ہیئرکلپ اور پرفیوم سبھی لے آنا مگر آپ نے تو صرف یہ سادہ سا کاٹن سوٹ ہی خریدا ہے اور یہ کیا!!یہ جوتی اور چوڑیاں تو اس پر ذرا میچ نہیں ہورہی۔اف خدایا!!کیسے گزرےگی میری عید؟؟میری سب سہیلیاں خوب تیاررہے گی اور میں؟؟
میری معصوم پری!تم تو ویسی ہی بڑی پیاری لگتی ہو۔۔تمہیں تیار ہونے کی ضرورت ہی نہیں۔۔اشیاءکی فراوانی ہی خوشیوں کی ضامن نہیں ہوتی اور عید کی اصل خوشی تو عبادات میں فرائض و واجبات کے علاوہ سنن و نوافل کی پابندی ہمدردی و غمگساری،غریبوں کی امداد سے حاصل ہواکرتی ہے۔۔مشہور مقولہ ہے خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہے تم کسی غریب کی مدد کرکے اسے بھی اپنی خوشی میں شامل کر سکتی ہو۔۔اور وہ میں کیسے کر سکتی ہوں بتائیں مجھے؟تم عید پر دو جوڑے رکھنے کہ بجائے ایک ہی جوڑے پر اکتفا کر لو باقی دوسراجوڑا کسی غریب ضرورت مند کو دےدو۔۔اسطرح تم اسے بھی اپنی خوشی میں شامل کر لوں گی۔۔اور یہ ضروری تو نہیں کہ ہم ہمیشہ ایسے ہی خوشحال رہے گے کبھی بےسروسامانی اور مفلسی سے دوچار نہیں ہونگے میری بچی وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتااسی لئے ہر مشکل وقت اور حالات میں ایڈجسمنٹ کرنے کی صلاحیت ہم میں ہونی چاہئیے۔۔
ایڈجسمنٹ کیا ہے یہ ایڈجسمنٹ؟؟؟ اس نے کالج کے بیگ کو میز پرتقریبا پٹخ ہی دیااور وہی سے آواز لگائی۔۔امی بہت تھک گئی ہوں پانی ہی پلادیں۔۔بیٹی منہ ہاتھ تو دھولو پانی سے بھراگلاس ماں نے اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا۔اوریہ کیاایک ہی سانس میں سارا پانی پی گئی۔۔امی آپ نا رہنے دیں!!میں ابھی کالج سے لیکچر ہی سن کر آرہی ہوں کم از کم آپ تو لکچررصاحبہ نہ بنیں۔۔۔اچھا یہ بتائیں کھانے میں کیا بنا ہے؟؟تم فریش ہو جائو میں کھانا لگواتی ہوں۔۔۔۔
امی یہ کیا پھر وہی کریلے کی سبزی !!!اسے ہٹادیجئے میرے سامنے سے میں نے نہیں کھانا۔۔میں نے آپ سے کہا تھانا چکن قورمہ بنانا۔۔۔؟؟ بیٹی کوئی بازارنہیں جاسکا اسے ہی کھالو بھائی نے بھی بڑی شوق سے کھایاہے تمہیں بھی پسند آئےگا۔۔اور میری بچی یہ بات کبھی مت بھولنا کہ کھانا اللہ کی بڑی عظیم نعمت ہے اسکی یوں ناقدری نہیں کرتے اور جو بھی میسرآجائے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کھالیتےہیں۔۔ ہمارے اپنے اطراف میں ہی دیکھ لو کئی غریب ونادار لوگ ہیں جنھیں دووقت کی روٹی تک میسر نہیں آتی ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیئے۔۔ہم ہرحال میں اللہ کا شکر ادا کرنے والے بنیں اور ہر حال میں خوش رہیں یہی تو ہے ایڈجسمنٹ۔۔
پھرسے ایڈجسمنٹ؟؟؟
🔹🔸🔶🔹🔸🔶میں ایک ماں ہوں ہر ماں کی طرح اپنے بچوں کے لئےدل میں کئی سو ارمان سجائے ہوئے۔۔۔انکا شاندار مستقبل ہو،بہترین لائف اسٹائیل،انھیں کسی چیز کی کمی نہ ہو،زندگی کی ہر خوشی ہر سہولت ہرعیش وآرام انھیں میسر ہو۔۔اللہ انھیں ہروقت اپنی امان میں رکھیں ان پر کبھی کوئی غم سایہ نہ کرےاور نہ ہی تنگدستی و بےسروسامانی کا وہ شکار ہو اسطرح کی تمام نیک خواہشات کے ساتھ میں اپنے رب کریم سے دعا کرتی ہوں لیکن پھر بھی میں انھیں ایڈجسمنٹ اورقناعت پسندی کا درس کیوں پڑھاتی ہوں خصوصا اپنی اکلوتی پیاری بیٹی صائمہ کو جو کہ میرےجگر کا ٹکڑا ہے۔۔اسکو لے کر کتنے ہی ارمان اور کتنی ہی آرزوئیں اور خواہشات میرے دل میں کروٹیں بدلتی رہتی ہے۔۔مجھے اس وقت ذرا بھی اچھا نہیں لگتا جب وہ میرے ساتھ گھر کے کاموں میں میرا ہاتھ بٹاتی میں سوچتی اس نے ساری عمر تو یہی کام کرنا ہےابھی سے ہی اس سے کیوں کام لوں تب ہی میرے ذہن میں خیال گزرتا اس وقت اسکا کیا ہونگا جب ان ہی کاموں میں نااہلی کی بنا پر سسرال میں اسے ذہنی اذیت دی جارہی ہونگی؟؟؟جب وہ بڑھیا کھانوں،بہترین ملبوسات،عیش وآرام زینت و آرائش کے مطالبات کرتی میرا دل کہتا کہ میں اسکے تمام مطالبات و تقاضوں کو پورا کر لوں لیکن دوسرے ہی لمحے میں اسے قناعت پسندی و کفایت شعاری اور ایڈجسمنٹ کی تعلیم ہی کیوں دیتی؟؟آخر کیوں؟؟یہ سوال ایک لمبے عرصہ تک میں سمجھ نہیں پائی اور آج جبکہ عید کا دن ہے میں اپنی اکلوتی لخت جگر سے مل کر آرہی ہوں۔۔میں کیسے کہوں میرا دل بھاری بوجھ محسوس کر رہا ہے۔۔آنسوئوں کا سیلاب میری پلکوں کے بند کو توڑکر میرے صبروضبط کی توہین کرنے پر تلا ہوا ہے۔۔۔شاید یہ خوشی کے آنسوں ہے؟ہاں!خوشی کے ہی تو ہے۔۔۔میری تعلیم و تربیت رنگ لائی۔۔میرے لئے صدقہ جاریہ بننے والی میری بیٹی جسکا رشتہ ہم نے محض اخلاق کی بنیاد پر ریاض سے طے کیا تھا بہت ہی سادہ زندگی بسر کرنے والا ریاض احکام شریعت کا پابند کم تنخواہ پر ملازمت کرنے والا جس پر اہل خانہ کے اخراجات کا بھاری بوجھ تھا۔۔میری نازوں پلی بیٹی اپنے شوہر کے شانہ بشآنہ ہر مشکل وقت کا مقابلہ کرنا ثابت قدم رہنا اور صبروشکر کے ساتھ ایڈجسمنٹ کرنا اسنے سیکھ لیا تھا۔۔ہر طرح کی بے سروسامانی کے باوجوداسکا پھول کی طرح مسکراتا چہرہ میری نظروں میں گھوم رہا ہے۔ہر عید پر بھاری ملبوسات پہن کر بھی ناراض ہو جانے والی آج پرانے خستہ حال جوڑے میں بھی خوش و خرم نظر آرہی تھی۔۔"شوہر کی تنخواہ اتنی ہی ہے کہ بچوں کو نئے کپڑے خرید سکیں۔اپنے بچوں کو خوش دیکھ کر میری خوشی دوگنا بڑھ گئی ہےمیں مطمئن ہوں اور بہت خوش ہوں۔۔میں نے ایڈجسمنٹ کرنا سیکھ لیا ہے امی جان آپکی محنت رائگاں نہیں گئی اسی لئے آپ بھی ہماری خوشی میں شامل ہو جائیں " ۔۔عید کے دن اسکے ہاتھوں سے بنا ہوا سادا کھانا سارے مرغن و لذت دار کھانوں سے زیادہ لذیذتھا۔۔
آخر میں۔۔۔۔۔میاں بیوی میں جدائی جسے شیطان اپنی بڑی فتح قرار دیتا ہے کیا اسکی بنیادی وجہ بے صبری،ناشکری و نا قدری اور یہی ایڈجسمنٹ کی کمی نہیں ہے۔۔۔؟؟؟؟
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں