🌺صلح بہتر ہے🌺
🌺صلح بہتر ہے🌺
(ایک ایسی کہانی جس کا حقیقت سے گہرا تعلق ہے۔)
(مریم جمیلہ (جالنہ ✍🏻
وہ بوجھل قدموں سے سڑک کے ایک کنارے ان تینوں کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔"امی ہم کہاں جا رہے ہیں؟"معصوم تین سالہ ندا نے اس سے سوال کیا جو کہ اسکی انگلی پکڑ کر چل رہی تھی۔اس نے ایک نگاہ اپنی معصوم بچی پر ڈالی اور پھر کیا تھا آنسوؤں کا سیلاب اسکی آنکھوں سے امڈ پڑا وہ کچھ بول ہی نہیں پائی بچی اپنی ماں کی اس کیفیت کو دیکھ کر گھبرا اٹھی اس نے آگے بڑھ کر اپنے والد کا ہاتھ تھام لیا اور کہنے لگی"ابو امی کو کیا ہوا؟وہ کیوں رو رہی ہیں؟اور ہم اتنی صبح یہ کس جگہ آگئے؟آخر ہم جا کہاں رہے ہیں؟"
" چپ کرو اپنی ماں کے ساتھ چلو زیادہ سوال کئے نا تو ایک تھپڑ لگاؤں گا"اس نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔"جیسی ماں ویسی بیٹی پتہ نہیں وہ کونسی منحوس گھڑی تھی جب ایسی بدسلیقہ بدتہذیب بہو ہم بیاہ کر لے آئے ہمارے آنکھوں پٹی بندھی تھی نا اسی لئے سمجھ نہیں آیا خیر اب بھی کچھ نہیں بگڑا دیر آئے درست آئے ہم یہ فیصلہ آج کر ہی لیں گے۔"یہ اسکی ساس تھی جو تیوریاں چڑھائے چہرے کی عجیب و غریب شکلیں بنائے بغیر رکے بول رہی تھی معصوم ندا یہ سب دیکھ کر پریشان سی ہونے لگی وہ کبھی اپنی ماں کا ہاتھ پکڑتی کبھی دادی کے ساتھ چلتی کبھی اپنے باپ کے ہاتھ کو تھامتی مگر یہ سب کیا ہو رہا تھا اس کے فہم و سمجھ سے باہر تھا اسے بہت بھوک لگ رہی تھی۔صبح کی پہلی بس سے وہ لوگ اپنے گاوں سے شہر کے لئے روانہ ہوئے تھے ایک انجان شہر جہاں اسکی قسمت کا فیصلہ لینے کے لئے یہ مختصر سا قافلہ روانہ ہوا تقریبا ایک گھنٹہ کی مسافت کے بعد یہ اپنی منزل پر اتر گئے۔۔۔مگر پتہ اب بھی معلوم نہیں تھا کہ جانا کہاں ہے۔۔۔بس سے اترنے کے بعد تقریبا پندرہ منٹ سے یہ مسلسل پیدل چل رہے تھے۔۔اسکو اپنا ہر اٹھتا ہوا قدم پچھلے قدم سے بھاری محسوس ہو رہا تھا اسے لگ رہا تھا جیسے وہ سیاہ رات کی مسافر ہے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اسے راستہ سمجھ نہیں آرہا ہو۔۔۔مستقبل کو لےکر خدشات اندیشے ناکامی ذلت ورسوائ سماج کے لوگوں کی اٹھتی نگاہیں۔۔۔۔وہ بس یہی کہتی جاتی "اللہ رحم کر میں اپنے مستقبل کو لےکر بہت خوفزدہ ہوں۔۔۔۔"وہ کبھی اپنی معصوم بچی پر نظر ڈالتی کبھی اپنے سپاٹ چہرے والے شوہر کو دیکھتی جس کا دل اسے محبت خلوص اپنائت ہمدردی مصالحت ومفاہمت ان تمام جذبات سے عاری نظر آتا۔۔۔میں اس شخص سے کونسی آس اور امید لگا رہی ہوں؟؟جو کہ مجھ پر ایک نگاہ بھی نہیں ڈالتا۔اسے عزیز ہے تو بس اپنے والدین اور اپنی بہنیں جن کے کہنے پر ہی تو وہ یہ فیصلہ لینے پر مجبور ہوا ہے ۔"میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں بہت امیدیں ہیں انکو مجھ سے اور تم نے انکی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔۔۔جنازہ اٹھا دیا تم نے ان کے ارمانوں کا۔۔۔"ایسا کیا کیا میں نے؟؟خاموش مجھ سے اگر منہ زوری کی نا تو مار مار کر ادھ مری کردوں گا سمجھ آئی۔۔۔"وہ ہی تلخ یادیں تلخ باتیں اسکے ذہن کو دیمک کی طرح کرید رہی تھی وہ یوں محسوس کر رہی تھی گویا اس کا سر پھٹ جائے گا اور یہی اسکی موت واقع ہو جائیگی۔۔۔کاش۔۔!!ایسا ہوجائے یہ ذلت میں سہ نہیں پاونگی۔۔۔آنسوؤں سے اسکا حجاب پورا گیلا ہو گیا تھا۔۔اسے اپنے سامنے اندھیرا ہی نظر آ رہا تھا سورج کی بڑھتی روشنی کا اس پر کچھ اثر ہی نہیں تھا وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ ڈراؤنی کالی رات میں کسی نامعلوم سڑک پر چل رہی ہے۔۔۔
بھائی صاحب یہ شرعی پنچایت کا آفس کہاں ہے؟ یہ اسکے سسر تھے صفدر صاحب راستے سے گزر رہے کسی اجنبی شخص کو روک کر انھوں نے پتہ معلوم کرنا چاہا۔۔یہ جو سامنے والی گلی نظر آرہی ہے نا اسکے آخر میں ہی آفس ہے آپ وہاں چلیں جائیں۔۔۔جی بہت بہت شکریہ نوازش۔۔اب وہ لوگ آفس کے سامنے کھڑے تھے مگر اس پر تو بڑا سا تالا لگا تھا انھوں نے پھر کسی کو روک کر پوچھا تو معلوم ہوا کہ آفس تو صبح دس بجے کے بعد ہی کھلتا ہے۔۔۔اور ابھی تو نو بج رہے تھے۔۔۔اب کہاں جائیں؟؟انجان شہر اجنبی لوگ۔۔۔"میرے گھر بارات بھی مقررہ وقت سے پہلے لے آئے تھے یہ لوگ آخر ہر بات میں اتنی جلدی کیوں کرتے ہیں؟"سوالیہ نشان کے ساتھ پھر سے پرانی یادیں اس کے ذہن میں گردش کرنے لگی۔۔۔امی امی مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔۔"کھاؤں کھداڑ کی دنیا اجاڑ ہی رہتی نہیں کھائے گی تو مر نہیں جائے گی۔۔"یہ اسکی بدلحاظ ساس تھی جو زبان سے زہر انڈیل رہی تھی۔۔۔معصوم ندا نے اب رونا شروع کر دیا۔۔۔
کیوں نا آپ افتخار صاحب کے گھر چلیں جائیں وہ جو مسجد نظر آرہی ہے نا اسکے دائیں بازو انکا گھر ہے شرعی دفتر کے زیادہ تر کاموں کو وہ ہی سنبھالتے ہیں۔۔ایک راہگیر نے انکی رہنمائی کی۔۔۔جی بہت بہت شکریہ ہم وہیں چلیں جاتے ہیں۔۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
امامہ کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی تب ہی دروازے پر دستک ہوئی"بیٹی سارہ دروازے پر دیکھو کون آیا ہے؟"اس نے وہی سے آواز لگائی۔تھوڑی دیر میں سارہ کچن میں پریشان سی آئی "امی وہ۔۔۔۔"ہاں بولو بیٹی کون آیا ہے؟اتنی پریشان کیوں ہو؟امی پتہ نہیں کون آئے ہیں کچھ اجنبی لوگ ہیں دو مرد اور دو عورتیں ساتھ میں ایک چھوٹی سی بچی ہےاور ان میں سے ایک خاتون بہت رو رہی ہے ابو نے انھیں ہال میں بٹھایا ہیں اور آپ کو بلوا رہے ہیں جلدی چلیں۔۔۔خدا خیر کرے۔۔۔چلو بیٹی۔۔"وہ دونوں تیزی سے ہال کی جانب بڑھے۔۔۔بڑے سے ہال میں مخملی قالین بچھا ہوا تھا۔اسکی ایک جانب دیوار میں کتابوں سے مزین کی ہوئ الماری اور اسی کو لگ کر کمپیوٹر ٹیبل تھا جس پر خوبصورت گلدستہ رکھا ہوا تھا۔۔ایک بڑی سی کھڑکی تھی جو لان کی طرف کھلتی تھی۔۔لان میں چمیلی کی بیل پھیلی ہوئی تھی۔۔گلاب موگرا گل عباس غرضیکہ مختلف رنگ و خوشبو کے پھولوں کے پودے لگے ہوئےتھے جن کی بھینی بھینی خوشبو سے ماحول ہمیشہ معطر رہتا۔۔۔ہال کے دائیں جانب خوبصورت صوفہ سیٹ رکھا ہوا تھا اور بائیں جانب ایک دیوان تھا جس پر خوش رنگ چادر بچھی ہوئی تھی اور اس پر موجود گائو تکیے اسکی خوبصورتی کو مزید بڑھا رہے تھے۔۔۔درمیان میں ایک پردہ لگا ہوا تھا جس کی ایک جانب دیوان پر وہ دو خواتین بیٹھی ہوئی تھی اور دوسری جانب صوفے پر افتخار صاحب ان دونوں مرد حضرات کے ساتھ بیٹھے تھے۔۔۔شازیہ کی ساس نے ہال میں رکھی ہر چیز پر طائرانہ نظر ڈالی کمرے کی صفائی و نفاست خوبصورتی کو دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئی۔۔۔
امامہ سلام کرتی ہوئے داخل ہوئی شازیہ نے سر کے اشارے سلام کا جواب دیا اور اسکی ساس نے بلند آواز میں وعلیکم السلام کہا۔۔۔امامہ ان دونوں کو بغور دیکھنے لگی شازیہ کی ساس کمرےمیں موجود ہر چیز کا باریکی سے مشاہدہ کر رہی تھی۔۔۔جبکہ شازیہ غمگین بیٹھی تھی اسکی متورم سوجھی ہوئی آنکھیں اس بات کا پتہ دے رہی تھی کہ وہ بہت زیادہ تھکی ہوئی اور صدمہ سے دو چار ہے کئی راتوں کی جاگی ہوئی اور پتہ نہیں کب سے مسلسل روئے جارہی ہے اس کے ساتھ موجود معصوم ندا بھی رو رو کر نڈھال ہو چکی تھی یکساں رونے کی وجہ سے اسکی آواز بالکل بدل گئی تھی ایک عجیب ہی درد تھا ان ماں بیٹی کی گریہ زاری میں امامہ یہ منظر دیکھ کر تڑپ اٹھی وہ جلدی سے اسکی طرف بڑھی اور اسکا ہاتھ تھام کر مخلصانہ انداز میں گویا ہوئی"بہن کیا ہوا ہے تم کیوں اتنا رو رہی ہو ہمیں بتاؤں مسئلہ کیا ہے ہم کچھ مدد کر دیں۔۔۔"اس کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے مگر اسکی آنکھیں بہت کچھ بتارہی تھی کچھ تو درد ناک حادثہ ہوا تھا اسکے ساتھ یا شاید ہونے والا تھا جس کے خوف میں وہ مبتلا نظر آرہی تھی۔۔۔امامہ اسکا ہاتھ پکڑ کر واش روم تک لے آئی اور جب پانی سے چہرے کو دھونے کے بعد ذرا طبیعت سنبھلی تو امامہ نے اسے اپنے کمرے میں بٹھایا پانی دیا اور استفسار کرنے لگی۔۔"بتاؤ بہن کیا بات ہے کیوں اس قدر پریشان ہو؟"باجی میری زندگی برباد ہو جائیگی۔۔۔وہ پھر رونے لگی"اللہ خیر کرے گا۔۔کیوں ایسا بول رہی ہو؟؟آخر کیا ہوا ہے تمھارے ساتھ؟؟مجھے تفصیلات بتاؤ۔۔"یہ لوگ میرے شوہر ساس اور سسر ہیں مجھے طلاق دینے کے لئے یہاں لے آئے ہیں۔۔باجی پلیز انھیں سمجھائے میں طلاق نہیں چاہتی میرے والدین بہت غریب ہیں گھر میں دو بہنیں اور ہیں جن کی شادی ہونی باقی ہے۔۔اور پھر میں امید سے بھی ہوں۔۔۔۔ انھوں نے اگر مجھے یوں چھوڑ دیا تو میرا اور میرے بچوں کا کیا ہوگا؟؟؟میری شخصیت پر بدنما داغ لگ جائے گا میری بہنوں سے کون شادی کرے گا؟؟میرے ماں باپ تو جیتے جی مر جائیں گے۔۔۔پلیز اس ذلت و رسوائی سے مجھے بچائیں۔۔۔"اب اسکی ہچکی بندھ چکی تھی امامہ نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا "بہن فکر مت کرو چلو سب کے ساتھ بیٹھ کر بات کرتے ہیں انشاءاللہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا تم اطمینان رکھو ہم ہیں تمہارے ساتھ آؤ چلیں۔۔"
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
افتخار صاحب شازیہ کے شوہر عرفان سے مخاطب ہو کر کہنے لگے"جی فرمائیں ہم سن رہے ہیں کیا مسئلہ درپیش ہے آپ کو"عرفان نے کہنا شروع کیا"یہ میرے والد صفدر صاحب ہیں قریب کے دیہات سے ہمارا تعلق ہے میں ضلع پریشد اسکول میں پرائمری ٹیچر ہوں میری تین بہنیں ہیں میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں میرے والد زراعت پیشہ ہے گاؤں میں ان کی کچھ زمین بھی ہیں میری بہنوں کی شادی ہو چکی ہیں وہ اپنے اپنے گھروں پر خوش آباد ہیں میری تنخواہ اور کھیتی باڑی سے ملنے والی رقم سے ہمارا گھر چلتا ہے ہر طرح کی سہولتیں اور آسائشیں ہمیں میسر ہیں گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے معاشرے میں ہماری بہت عزت ہے معزز گھرانہ ہے ہمارا۔۔۔۔کچھ دیر توقف کے بعد وہ پھر کہنے لگا' مسئلہ دراصل یہ ہے کہ میں اپنی بیوی شازیہ کو طلاق دینا چاہتا ہوں۔۔میں کورٹ سے یہ فیصلہ لینے والا تھا لیکن ہمارے تعلقات کے لوگوں نے ہمیں مشورہ دیا کہ شہر جاکر شرعی عدالت سے رجوع کریں اور شرعی طریقے کے مطابق علیحدگی اختیار کریں یہی بہتر ہوگا اسی لئے ہم یہاں آئے ہیں براہ کرم اس ضمن میں ہماری مدد فرمائے۔"
جی بہت اچھا کیا آپ نے جو یہاں چلے آئیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم شرعی احکامات کے پابند ہیں یہ ہمارے لئے بڑی خوش آئند بات ہے کہ ہم اپنے مسائل کا حل شریعت سے معلوم کریں۔۔۔۔جیسا کہ آپ نے کہا کہ آپ اپنی بیوی سے علیحدگی چاہتے ہے اسکی کوئی بنیادی وجہ تو ہوگی نا۔۔۔آپ کیوں اس طرح کا فیصلہ لینے پر مجبور ہوئے ہے آپ ہمیں تفصیلات بتائیں انشاءاللہ ہم دونوں پہلوؤں سے غور کریں گے۔۔۔"
"دیکھئے جناب میری جو والدہ ہے وہ بہت ہی زیادہ صفائی پسند ہے۔وہ گھر کو کباڑ خانہ ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔۔۔گھر میں گندگی غلاظت اسے قطعاً منظور نہیں۔۔۔چیزوں کی بےترتیبی اس سے برداشت نہیں ہوتی۔۔۔ہم چار بہن بھائی ہیں ہماری والدہ نے ہم کو بچپن ہی سے صاف ستھرا رہنے اور گھر کو صاف ستھرا رکھنے کی تعلیم و تلقین کی ہے۔۔۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ گندگی کو میں خود بھی برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔اور میری والدہ بہت بڑھیا کھانا بناتی ہے۔۔ہم سبھی اچھا اور لذیذ کھانا کھانے کے شوقین و عادی ہیں۔۔ہماری شادی کو چار سال مکمل ہوچکے ہیں اور اس پورے عرصے میں میری بیوی نہ تو اچھا کھانا بنانا سیکھ پائی اور نہ ہی گھر کی صاف صفائی کا اسے معلوم وہ خود بھی صاف ستھرا نہیں رہتی اور بچی کی صفائی کا خیال نہیں کرتی اسی لئے بچی بار بار بیمار پڑ جاتی ہے۔۔۔طہارت اور پاکیزگی کے اصول سے وہ عاری ہیں۔۔۔اور اس پر مزید یہ کہ وہ سیکھنا بھی نہیں چاہتی۔۔۔میری والدہ خود بھی اسے کئی مرتبہ کام سکھاتی اور سمجھاتی ہے اور بعض اوقات غصے میں اگر ہو تو ڈانٹ بھی دیتی ہے ظاہر ہے کہ انسان اگر غلطی کریں تو ان کے بڑوں کا کام ہی ہوتا ہے اس غلطی کی اصلاح کرنا اگر وہ نہ مانے تو سمجھانے کے اور طریقے بھی ہوتے ہیں ڈانٹ ڈپٹ بھی کی جاتی ہے تو اسکا مطلب یہ تو نہیں ہے نا کہ انسان ہٹ دھرمی اختیار کرلیں اپنی ضد پر اڑا رہے اور سیکھنے کے لئے تیار ہی نہ ہو۔۔۔سکھانے اور سمجھانے کے باوجود بھی نہ تو اسکے طور طریقے میں کوئی تبدیلی آئی اور نہ ہی رویہ میں وہ کچھ کہنے پر بس روٹھ کے بیٹھ جاتی ہے بات کو سمجھتی نہیں منہ پھلا لیتی ہے۔۔۔اسکی ان ہی حرکتوں سے میں بہت عاجز آگیا ہوں بہت بیزار ہو گیا ہوں۔۔۔آئے دن ان ہی باتوں پر امی اور بیوی میں توتو میں میں ہوتی رہتی ہےاور گھر میدان جنگ نظر آتا ہے جس میں میں نہتا سپاہی ہوں لیکن اب نہیں میں اس عورت کے ساتھ مزید گزارا نہیں کر سکتا مجھے اس سے علیحدگی چاہئے بس۔۔۔۔"
میرا بیٹا بالکل صحیح کہ رہا ہے میرا تو یہ تاثر ہے کہ جب سے ہم اسکو بیاہ کر لے آئے ہمارے گھر کی تو خیر و برکت ہی اٹھ گئی ہے یہ بہت ہی گندی عورت ہے اسے صفائی سے کوئی لگاؤ نہیں میں بہت دیر سے آپ کے گھر کو دیکھ رہی ہوں اس میں سلیقے سے رکھی ہوئی ہر چیز صفائی کا یہ اہتمام آپکی پاکیزگی اور سلیقہ شعاری کی گواہی دیتی ہیں۔۔۔ایک عورت کا اصل جوہر تو یہی ہے نا۔۔
افتخار صاحب شازیہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے "میری بہن آپ کے بارے میں یہ جو باتیں ہورہی ہے کیا یہ سب صحیح ہے؟" شازیہ نے لجاجت اور شرمندگی سے کہا "جی ہاں ان لوگوں کی کہی ہوئی ہر بات بالکل صحیح ہے میں ایسی ہی ہوں میں اسکا اعتراف کرتی ہوں ۔۔"امامہ ہکا بکا اس کے چہرے کو تکنے لگی وہ اسکی کمال درجے کی صاف گوئی پر حیران وششدر تھی اپنی صفائی میں کچھ بھی نہیں کہا اس نے۔۔۔۔۔۔اللہ خیر کرے وہ دل میں دعائیں کرنے لگی۔۔شازیہ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا"لیکن میری آپ سے گزارش ہے کہ محض میری اس کمزوری کو بنیاد بناکر مجھے یوں در بدر نہ کیا جائے میں اپنے آپ کو بدلنے کا عزم کرتی ہوں اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کی پوری کوشش کرونگی انشاءاللہ میں آپکو شکایت کا موقع نہیں دونگی بس مجھے تھوڑا وقت دیں۔۔۔عرفان نے جواباً کہا "لیکن افتخار صاحب اسے مزید برداشت کرنا میرے لئے بہت مشکل ہے میں اس سے علیحدگی ہی چاہتاہوں۔۔۔"
🍃🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍃
انسان کی فطرت موسموں کے تغیر کی پابند نہیں ہوا کرتی جذبات احساسات میلانات اور رجحانات وقت کے ساتھ بدلتے حالات میں اپنی سنگینی کو کروٹ لیتے محسوس کرتے ہیں۔۔۔
دنیا کی رنگینی چکا چوند کردینے والی جگمگاہٹ تھکا دینے والی بھاگ دوڑ کے ماحول میں کچھ غلطیاں انسان کو زندگی کی بدترین اذیت میں مبتلا کردینے کے لئے کافی ہوتی ہیں۔۔۔
جن آ نکھوں نے کبھی مستقبل کے روشن خواب اپنے کائناتِ دل میں سجائیں تھے اب انہیں آنکھوں میں شبنمی آنسوؤں کی جھڑی تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔وہ ہراساں و پریشان سی دل میں امید کی کرن جگائے اپنے اطراف سے بے پرواہ بارگاہ ایزدی میں مشغول مناجات ہو گئی۔۔۔"رب کریم میرے حال پر رحم فرما اس مشکل گھڑی سے نجات دے دیں ذلت و رسوائی سے مجھے بچالیں۔۔"اطمینان قلب اسے نصیب ہوا۔۔۔
امامہ جو پردے کے پیچھے سے یہ ساری گفتگو سن رہی تھی اس نے اپنی بیٹی سارہ کے ذریعہ افتخار صاحب کو بلا بھیجا۔۔۔"کہوں کیا بات ہے کچھ اہم بات کرنی ہے کیا جو مجھے اسطرح بلوایا ہے" جی بہت اہم ہے میں نے بہن شازیہ سے تخلیہ میں بات کی ہے بہت نادم ہے وہ اور اپنے مستقبل کو لے کر خوفزدہ بھی اور اہم بات یہ ہے کہ وہ حمل سے ہے ایسے میں اس کے سسرال کے لوگ طلاق کا مطالبہ کیسے کرسکتے ہیں یہ تو شرعاً جائز نہیں۔۔" افتخار صاحب ممنون نظروں سے امامہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگے" تم نے تو میری مشکل حل کردی ہے میں بات کرتا ہوں ان سے۔۔۔"
کمرے میں کچھ دیر یونہی خاموشی رہی پھر افتخار صاحب اٹھے اپنی بک شیلف میں سے قرآن مجید لیا اور کچھ آیتوں کی تلاوت و ترجمانی شروع کی۔۔۔"خطبہ نکاح میں جن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہیں کیا آپ نے کبھی اسکی معنویت پر غور کیا ہے؟وہ ہم سے کیا تقاضے کرتی ہیں؟خصوصاً خطبہ نکاح میں ان ہی آیتوں کی تلاوت کیوں کی جاتی ہے؟؟
آئیے میں آپکو سمجھاتا ہوں۔۔۔سورہ آل عمران سورہ نساء اور سورہ احزاب جیسے تین مختلف مقامات سے لی گئی یہ آیتیں جو ہمیں تقوی وپرہیزگاری،خداترسی وفکرآخرت،اطاعت رسول اور شریعت کی پابندی،حقوق کی پاسداری اور فرائض کی ادائیگی اور صلہ رحمی کا درس دیتی ہیں۔۔۔وہ ہمیں نصیحت کرتی ہے کہ ہم ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے اپنے اعمال اور اطوار کا جائزہ لیتے رہیں اپنی زبان کا صحیح استعمال کریں ہر معاملے میں عدل و انصاف پر قائم رہیں۔۔کسی پر زبان درازی،حق تلفی،نا انصافی اور اپنے فرائض سے رو گردانی کی شریعت ہمیں اجازت نہیں دیتی۔۔نکاح تو ایک پاکیزہ مضبوط معاہدہ ہوتا ہے یہ وہ عہد و پیمان ہوتا ہے جسے ہم اپنی مرضی و خوشی سے نکاح کی مجلس میں وکیل وگواہان کے سامنے قبول کرتے ہیں پھر پتہ نہیں کیوں ہم ہی اس معاہدہ کی عہد شکنی کے لئے اتنے جلد باز کیوں نظر آتے ہیں۔۔۔"انکی ہر بات کو سبھی خاموشی سے سن رہے تھے کچھ دیر توقف کے بعد وہ پھر کہنے لگے"دیکھئے بھائی میں آپ کے مسئلے کو اچھی طرح سمجھتا ہوں لیکن پھر بھی میں یہی کہوں گا کہ کوئی بھی فیصلہ جلدبازی میں نہیں کرنا چاہئے خصوصاًنکاح کو توڑنا اللہ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ آدمی ازدواجی تعلق کو منقطع کرنے میں جلدبازی سے کام لیں۔۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے"نکاح کرو اور طلاق نہ دو کیونکہ اللہ ایسے مردوں اور عورتوں کو پسند نہیں کرتا جو بھنورے کی طرح پھول پھول کا مزہ چکھتے پھریں۔'طلاق بالکل آخری چارہ کار ہے جس کو ناگزیر حالات میں ہی استعمال کرنا چاہئے اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"طلاق اگرچہ جائز ہے مگر تمام جائز کاموں میں اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہی ہے۔"میاں بیوی میں طلاق ہو جانے پر شیطان اپنی فتح کا جشن مناتا ہے۔ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔میاں بیوی میں اکثر ایسی ہی کچھ باتوں کو لےکر ان بن ہو جاتی ہے دوریاں بڑھ جاتی ہیں حالات کشیدہ ہونے لگتے ہیں لیکن پھر بھی اللہ تعالی ہمیں یہی ہدایت فرماتا ہے *"والصلح خیر"اور صلح بہتر ہے* لہذا ہمیں صلح کر لینی چاہیے۔۔۔رہی بات ناپسندیدگی کی تو اس ضمن میں بھی قرآن ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ "اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں ناپسند ہو تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔"(سورہ نساء۔آیت۔۱۹)
صفدر صاحب جو بہت صبر سے ساری گفتگو کو سماعت فرما رہے تھے گردن کو تھوڑا سا خم دیتے ہوئے گویا ہوئے"جناب آپ کی ساری باتیں صحیح ہیں اور ہونا بھی یہی چاہئے۔۔لیکن میں آپکو بتادوں کہ ہماری اپنی تین بیٹیاں ہیں سسرال میں سب ہی ان کے گرویدہ ہیں پتہ ہے کیوں انکی سلیقہ شعاری اور اخلاق و کردار کی وجہ سےتو ہمیں بھی حق ہے نا کہ ہم ایسی بہو کی تمنا کرے۔۔۔ہمارا ایک ہی بیٹا ہے اسکی خوشی میں ہم بھی خوش ہیں لیکن جہاں وہ ناراض ہوگا تو ہم ہی اسکی فکر کریں گے نا۔۔"
جی بالکل درست ہے لیکن آپ اس پہلو سے بھی غور کریں کہ اگر خدانخواستہ اسی کمزوری کی بنا پر اگر آپ کی اپنی بیٹی کے ساتھ اسطرح کا معاملہ اختیار کیا جاتا تو آپ کیسا محسوس کرتے۔۔۔؟؟؟" ایک اوربات جو مجھے ابھی معلوم ہوئی ہے کہ بہن شازیہ حمل سے ہے اخلاقاً یہ قطعی طور پر درست نہیں کہ بیوی حمل سے ہو اور شوہر اسے طلاق نہیں دے دیں۔۔۔خدارا انسانیت کا درد سمجھئے براہ کرم ایسا نہ کریں۔۔۔اسے اپنی اصلاح کا ایک آخری موقع تو دیں۔۔۔انشاءاللہ بہتر ہی ہوگا۔۔۔آپ مجھے اسکا بڑا بھائی سمجھے میں اسکی ضمانت لیتا ہوں اسے اپنی اصلاح کے لئے ۵ماہ کا عرصہ دیجیئے میں یقین دلاتا ہوں انشاءاللہ یہ اپنے آپ کو بدل دے گی۔۔"
ٹھیک ہے آپ کے کہنے پر ہم ابھی کچھ فیصلہ نہیں کرتے لیکن اگر اسکے انداز و اطوار اور رویہ میں تبدیلی نہیں آئی تو مجبوراً ہم اسے طلاق دے دیں گے۔۔لیکن ابھی ہم اسے اپنے گھر نہیں لے جاسکتے آپ اسے اس کے والدین کے حوالے کردیں ہمیں اب جانا ہوگا"اتنا کہ کر صفدر صاحب اٹھ کھڑے ہوئے ساتھ ہی انکی بیوی اور بیٹا بھی چلنے کو تیار ہو گئے۔۔۔۔
افتخار صاحب نے عرفان سے شازیہ کے والد احمد صاحب کا نمبر حاصل کر لیا تھا اب وہ انھیں فون ملا رہے تھے۔۔معصوم ندا اب رو رو کر سو چکی تھی امامہ نے اسے گود میں اٹھا لیا اور شازیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے بیڈروم میں لے آئی اس نے بچی کو بیڈ پر لٹا دیا اور اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہنے لگی"شازیہ بہن تم فکر نہ کرو انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا اب تم تھوڑا آرام کر لو میں تمہارے لئے کھانا بناتی ہوں افتخار صاحب کی تمہارے والد صاحب سے بات ہو گئی ہے انشاءاللہ وہ اپنے گاوں سے یہاں ایک ڈیڑھ گھنٹہ میں پہنچ جائیں گے۔۔امامہ انھیں بیڈروم میں چھوڑ کر کچن میں چلی گئی۔۔۔
وہ اپنی سوچ میں گم تھی اسکی زندگی میں اب کونسا نیا موڑ آنے والا تھا؟؟وہ بہت فکر کر رہی تھی۔۔اپنی بچی پر نظر ڈالتی اور بیقرار ہو جاتی۔۔"اللہ اسکا نصیب اچھا کرے۔۔"بے خیالی میں یہ دعا اچانک اسکی زبان پر جاری ہوئ۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں آج وہ اتنا روئ تھی وہ ایسی تو نہیں تھی۔۔۔چنچل شوخ مزاج شازیہ ہر وقت کسی نا کسی کی کھینچائی کرتے رہنا اسکا مرغوب مشغلہ تھا رونا تو اسے آتا ہی نہیں تھا۔۔۔گھریلو کاموں سے ہمیشہ عدم دلچسپی ظاہر کرتی یا یوں کہنا بہتر ہوگا کہ وہ امور خانہ داری سے راہ فرار اختیار کرتی۔۔۔کیا واقعی طریقہ سلیقہ گھریلو کام کاج میں مہارت ایک عورت کا اصل جوہر ہے ۔۔۔لیکن پھر شادی کے لئے عورت کی خوبصورتی کو ہی کیوں بنیاد بناتے ہیں لوگ؟؟ کئی لڑکیوں کو رد کرنے کے بعد انھوں میرا انتخاب کیا تھا آخر کیوں؟؟"ایسے عجیب قسم کے سوال میرے ذہن میں کیوں ابھر رہے ہیں۔۔۔" اس نے اپنے سر کو جھٹک دیا اور اب وہ اپنے اطراف میں دیکھنے لگی اس نے ایک نظر میں کمرے کا مکمل جائزہ لے لیا۔۔۔کمرے میں سلیقے سے رکھی ہوئی ہر چیز صفائی کا اہتمام اس کے مکینوں کی صفائی پسندی اور سلیقہ شعاری کی گواہی دے رہی تھی۔۔۔۔کمرے کی نفاست اور خوبصورتی کو دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئی دور کہیں دور سے جانی پہچانی آواز اسکے کانوں میں گونجنے لگی یہ 'تو امی کی آواز ہے'
"شازی۔۔۔!!بیٹی اپنا کام خود کرلیا کرو۔۔یہ سستی کاہلی تمہیں بہت مہنگی پڑے گی تم نا تو خود کے کپڑے دھوتی ہو نا انھیں ترتیب سے الماری میں رکھتی تمہاری دوسری بہنیں بھی تو دیکھونا گھر کا سارا کام کرتی ہیں اور تمہیں تو بس باتیں بگھارنے کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں آتا۔۔آگے تمہیں خاتون خانہ بننا ہے اور ایک عورت اچھے اخلاق ،کام کاج اور سگھڑاپے سے ہی پیاری لگتی ہے۔۔تمہاری اگر یہی چال رہی نا تو اپنے میاں کے گھر ذلیل و خوار ہوگی دیکھ لینا۔۔۔"امی آپ مجھے بد دعا دے رہی ہیں۔۔۔!!ارے نہیں میری بچی میں تمہیں بد دعا کیسے دے سکتی ہوں میں تو تمہیں بس نصیحت کررہی ہوں۔۔اللہ تمہارا مقدر اچھا کرے۔۔"تو ٹھیک ہے وقت پر دیکھا جائے گا ابھی فی الحال جائیں میری جان چھوڑے۔۔"
"شازیہ کیا میں اندر آسکتی ہوں؟؟"آواز پر وہ چونک سی گئی اسے ایسا لگا جیسے تخیلات کی دنیا میں وہ کہیں کھو گئی تھی اور اچانک اسے ہوش آگیا۔۔۔"جی آ جائیں"اس نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔۔امامہ ٹرے میں بسکٹ اور چائے لئے داخل ہوئی۔۔"باجی آپ نے خوامخواہ زحمت کی"اس نے تکلفاً کہا۔۔ارے اس میں زحمت کیسی تم مجھے اپنی بڑی بہن ہی سمجھو۔۔امامہ اس کے قریب آکر بیٹھ گئی۔۔"باجی آپ سے ایک سوال پوچھوں؟"ہاں۔۔!!کیوں نہیں بالکل۔۔۔افتخار صاحب نے کہا کہ نکاح ایک پاکیزہ مضبوط معاہدہ ہوتا ہے۔۔۔جب یہ اتنا ہی مضبوط ہوتا ہے تو لوگ معمولی معمولی باتوں کو بنیاد بنا کر کیوں اسے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں؟؟اس رشتہ کو نبھانے کے لئے وہ ان باتوں کو نظرانداز کیوں نہیں کرتے؟؟"
"وہ اس لئے کہ یہ رشتہ جتنا مضبوط ہوتا ہے شیطان اتنے ہی وسائل کے ساتھ اسکو توڑنے کے لئے حملہ آور ہوتا۔۔۔نکاح کے ذریعہ ہم خاندانی نظام کی بنیاد ڈالتے ہیں پاکیزہ معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں اور وہ ہمارا ازلی دشمن ہے ہمارے بیچ بے حیائی اور منکرات کو پھیلاتا ہے۔۔ازدواجی زندگی کے اس پورے سفر میں ہر موڑ پر گھات لگائے بیٹھا ہوتا ہے کہ کبھی ہم سے غلطی سرزد ہو اور وہ ہمیں پھانس لیں۔۔۔آخر ہم کیوں صرف اپنے حقوق کے مطالبوں پر ڈٹے ہوتے ہیں اپنے فرائض کی ادائیگی کیوں نہیں کرتے؟؟ایک عورت ہونے کی حیثیت سے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے شوہر اپنے بچوں اور گھر کے بڑے بزرگوں کا خیال رکھیں انکی ضروریات کو پورا کریں۔۔اگر ہم اپنے ان فرائض سے منہ موڑیں گے تو جب بارگاہ خداوندی میں ان سے متعلق باز پرس کی جائےگی تو ہم کیا جواب دیں گے؟؟انسانی طبیعت اور فطرت صفائی کو پسند کرتی ہے۔۔اسلام میں تو اسے نصف ایمان قراردیا گیا۔۔ہم اگر عبادت کی نیت سے اسکا اہتمام کریں گے تو ہمیں اسکا ثواب بھی ملے گا۔۔۔اور خصوصاً شوہر اپنے بیوی بچوں اور گھر کو صاف ستھرا دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔۔"
"سچ کہا باجی آپ نے مجھے اس بات کا بہت احساس ہوا ہے میری امی مجھے اکثر ایسی ہی نصیحتیں کیا کرتی تھیں مگر میں انکی باتوں کو دل پر نہیں لیتی لیکن اب نہیں میں اپنے آپ کو بدلوں گی میں امورخانہ داری میں مہارت حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرونگی آپ میرے حق میں دعا کریں۔۔اللہ تمہاری مدد فرمائے بہن انشاءاللہ تم کامیاب رہونگی۔۔۔اچھا میں ذرا کچن میں دیکھ آتی ہوں تم یہ چائے بسکٹ کھالینا پھر میں تھوڑی دیر میں کھانا لگوادونگی ۔۔۔"
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
امامہ چولھے پر چاولوں کو دم دے چکی تھی جبکہ دوسری طرف سالن بھی بن چکا تھا ساتھ ہی گلاب جامن بھی تیار ہوچکے تھے۔۔اس نے دوسرا چولھا آن کیا اور اس پر روٹیاں بنانے کے لئے توا رکھ دیا اب وہ روٹی بنانے لگی"کس قدر کمزور اور ضعیف ہوتا ہے انسان۔۔!!یا شاید ایمان کی کمزوری ہے جو اسے شیطان کی اکساہٹوں پر عمل کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔۔کوئی اتنی چھوٹی باتوں کو بھی بنیاد بنا کر طلاق کا مطالبہ کر سکتا ہے۔۔۔!!!"وہ خود ہی سے بات کرنے لگی۔۔"پتہ نہیں کیوں گھر کے بڑے اپنے آپ کو مکمل اور پارسا کیوں سمجھتے ہیں۔۔؟ وہ اپنے چھوٹوں کی غلطی و کوتاہی نظرانداز کیوں نہیں کرتے ۔۔؟؟خصوصاً ایک بہو کو جو کہ کسی کی نور نظر،گوشہ جگر ہوتی ہے اللہ کا واسطہ دے کر اسے بیاہ کر لاتے ہیں ایک مضبوط عہد و پیمان کے ساتھ اسے گھر کی زینت بناتے ہیں۔۔۔ لیکن اسکی غلطیوں کو معاف کر کے اعلیٰ ظرفی کیوں نہیں دکھاتے۔۔؟؟ایسے ہی کمزور مسلمان ہیں جو باطل کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ اپنا زور آزمائیں،سازشیں رچائیں،اسلام مخالف قوانین کا نفاذ کریں۔۔ہم نکاح کی عظمت اور اس سے حاصل ہونے والے برکات و ثمرات اور طلاق کی صورت میں حاصل ہونے والی تباہیاں اور نقصانات کو کیوں نہیں سمجھتے؟؟؟اس قسم خیالات کا ایک طویل سلسلہ تھا جو اس کے ذہن میں چل رہا تھا۔۔۔اس نے اپنے رب سے خیر کی دعا مانگی،"خدایا! ان کے بیچ صلح کرادے،ان کے خاندان کو ٹوٹنے بکھرنےسے بچا،کوئی ایسا ذریعہ پیدا فرما جو ان کے درمیان محبت میں اضافہ کا سبب بنے۔۔۔"وہ آبدیدہ تھی لیکن دعا کے بعد اسے طمانیت قلب نصیب ہوا۔۔
"کیاکھانا تیار ہو چکا ہے؟؟احمد صاحب آگئے ہیں۔۔"افتخار صاحب نے اس سے استفسار کیا۔۔"جی آپ انھیں بٹھائیں میں کھانا بھجواتی ہوں۔۔"وہ اپنے کام کو مکمل کر چکی تھی۔۔
کھانے سے فراغت کے بعد احمد صاحب نے اپنی بیٹی کے سسرال والوں کی کمزوریوں اور شکایتوں کا تذکرہ کیا کہ وہ کسی طرح ان کی بیٹی کو لعن طعن کرتے ہیں اسکا مذاق اڑاتے ہیں ہر آنے جانے والے لوگوں میں اسکی نا اہلی کا اعلان کرتے ہیں اور بعض دفعہ تو عرفان نے اس پر اسی وجہ سے دست درازی بھی کی لیکن ہم نے کبھی اس پر ایکشن نہیں لیا الٹا ہم اپنی بچی کو ہی سمجھاتے رہیں لیکن ان کی اس حرکت پر دل بہت رنجیدہ ہوا ہے۔۔ہم اپنی بیٹی کو لےکر چلیں تو جائیں گے لیکن اس بات کی کیا گارنٹی کہ ۵ماہ بعد وہ اسے بخوشی واپس لے جائیں گے؟؟"
"دیکھئے احمد صاحب ہم نے صلح میں پہل کی ہے ہم نہیں چاہتے کہ یہ رشتہ ٹوٹے اور شیطان اپنی فلاح پا لیں۔۔آپ اللہ پر توکل کرے وہ ضرور ہماری مدد فرمائے گا۔۔۔اس کی حکمتیں مصلحتیں ہم نہیں سمجھ سکتے۔۔ اور بہن شازیہ میں آپ کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ آپ اس بات کو سنجیدگی سے لیں۔۔۔گھریلو کاموں میں مہارت حاصل کریں اب اپنا گھر بچانا اور اسے سجانا سنوارنا آپ کے ہاتھوں میں ہیں۔۔ عورتیں ہی گھر کی رونق ہوا کرتی ہیں امورخانہ داری ایک عورت کی پہچان ہے براہ کرم آپ اس پر خصوصی توجہ دیں محنت کریں۔۔"اس نے اثبات میں جواب دیا"جی بالکل میں پوری کوشش کروں گی آپ میرے حق میں دعا کریں۔۔"کچھ دیر بعد وہ لوگ رخصت ہوگئے اور یہ مجلس ختم ہوئی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
زندگی کے نشیب و فراز انسان کو نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں ۔۔۔کچھ واقعات و حادثات ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہماری آنکھیں کھولنے کااور خواب غفلت سے بیداری کا ذریعہ بنتے ہیں۔۔۔کچھ رشتوں کی اہمیت اسی وقت سمجھ آتی ہیں جب وہ دور ہو جاتے ہیں۔۔۔ابھی دو ماہ پہلے ہی وہ اسے چھوڑ گئے تھے۔۔۔۔اور تب ہی"شازیہ تم واپس لوٹ آؤ امی کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے وہ ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے۔۔۔"
"اللہ اکبر!!کیسے کب؟؟"دو دن پہلے ہم لوگ بہت پریشان ہیں۔ " نہیں شازیہ ان لوگوں نے تمہیں کتنا ذلیل و خوار کیا تمہاری عزت نفس کو ٹھیس پہچائی یہ لوگ محبت اور ہمدردی کے لائق نہیں اچھا ہوا یہی ہونا تھا ان کے ساتھ تم نہ جانا اب وہاں۔۔۔اللہ کی پناہ اللہ مجھے شیطانی وسوسے سے بچا لیں۔۔۔ "میری بیٹی!! عورتیں ہی گھروں کو آباد کرتی ہیں وہ ہی گھر کو ٹوٹنے بکھرنے سے بچاسکتی ہیں زندگی میں کسی بھی مسئلے کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بننے دینا"اپنی ماں کی نصیحت اسے یاد آگئی۔۔۔
"آپ فکر نہ کریں میں آج دوپہر تک پہنچ جاؤں گی انشاءاللہ۔۔"اتنا سب سن لینے کے بعد اسے اپنے مائکہ میں کیسے قرار آتا وہ دوڑی چلی آئی۔۔۔۔اب تو سب کچھ بدل چکا تھا اس نے اپنے اخلاق و کردار جذبہ خدمت سلیقہ مندی اور صفائی پسندی سے سب کے دل کو موہ لیا تھا۔۔۔۔شوہر اب معذرتیں کرتا اپنی پچھلی غلطیوں پر پشیمان ہوتا۔۔۔اس کے جذبہ خدمت اور جانثاری کی وجہ سے ساس بہت خوش ہوتی اور دن رات بیٹی بیٹی کہ کر مخاطب کرتی۔۔اس کی شخصیت میں اتنی مثبت تبدیلی آخر کیسے آئی؟؟؟اس نے اپنا تعلق اللہ سے جوڑ لیا،اسی سے مدد طلب کی،صبر و تحمل سے مشکل وقت کا سامنا کیا شیطان کی اکساہٹوں سے اللہ کی پناہ مانگی۔۔۔حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان جس راہ کا انتخاب کریں وہ اس کے لئے آسان کر دی جاتی ہے۔۔ پھر ایک دن اچانک اسکی زندگی کی خوشیاں دوبالا ہوگئی۔۔ ۔
افتخار صاحب صبح کے وقت آنکھوں پر عینک چڑھائے اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے تبھی ان کے فون کی گھنٹی بجی۔۔۔" السلام علیکم جناب! صفدر بول رہا ہوں۔۔۔۔"جی وعلیکم السلام کیسے ہیں آپ؟ بہت خوش پہلے آپ ہمیں مبارکباد دیں۔۔" ماشااللہ جی مبارک ہو مگر میں سمجھ نہیں پایا" میں پھر سےدادا بن گیا ہوں عرفان اور شازیہ کے یہاں بیٹا ہوا ہے۔۔۔ماشااللہ بہت بہت مبارک ہماری بہو رانی اب بہت بدل چکی ہیں ہم اسے اس واقعہ کے دو ماہ بعد ہی اپنے گھر لے آئے تھے بہت لائق بچی ہے وہ اسے سمجھنے میں ہم سے غلطی ہوئی بہت زیادتی کی ہم نے اس کے ساتھ لیکن وہ بہت با اخلاق ہے اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی اس نے ہمارا خیال رکھا ہم اس سے بہت مطمئن اور خوش ہیں" اللہ آپ کے تعلقات کو مضبوط بنائیں آپ کے مسائل حل کریں اور ایسی ہی ڈھیر ساری خوشیاں آپ کو نصیب فرماۓ" آمین ثم آمین "ہم اپنے گاؤں میں دعوت رکھیں گے آپ آئیے گا ضرور۔۔۔"جی انشاءاللہ
سچ فرمایا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ "بچے جنت کے پھول ہوتے ہیں" یہ اپنی خوشبو سے رشتوں کو مہکاتے ہیں اس کی مضبوطی کا ذریعہ بنتے ہیں وہ اسی سوچ میں گم تھے ان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنے لگیں۔۔۔ماشااللہ آپ تو بہت خوش نظر آرہے ہیں۔۔۔"ارے!بات ہی کچھ ایسی ہے آؤ یہاں بیٹھوں" انھوں نے امامہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے بازو بٹھاتے ہوئے کہا "صفدر صاحب کا فون آیا تھا شازیہ کو بیٹا عطاء ہوا ہے وہ بہت خوش نظر آرہے تھے انہوں نے صلح کرلی ہیں اور بہت پہلے ہی اپنی بہو کو گھر لے گئے ہیں ۔۔اللہ کا شکرواحسان ہیں چلیں یہ معاملہ بھی خیر و خوبی سے اپنے انجام کو پہنچا۔۔۔۔اللہ ہمیں شریعت کا پابند بناۓ۔۔۔آمین
_"۔۔۔اور ان کے ساتھ بھلےطریقے سے زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں پسند نہ ہو تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔۔ سورہ نساء_
ختم شد
ماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریں