💫 ‎آٸیڈیل دن ‏💫

💫 *آٸیڈیل* *دن* 💫

✍🏻 *فردہ* *ارحم* *شیخ* *احمد* 

   سہ پہر کا وقت تھا ، ٹھنڈی ٹھنڈی ہواٸیں درخت کو لہرا رہی تھی ، میں آنگن میں بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی ۔ 
اچانک ! لمبا ، موٹا ، چمکتی آنکھوں والا ، پھن دکھاتا ہوا سانپ میرے سامنے آبیٹھا ۔
     پھر کیا !! 
اسے دیکھتے ہی میری سانسیں تھم سی گٸ ، دھڑکنیں رک سی گٸ ، میں اپنے ہوش کھو بیٹھی ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ اب کیا کروں ، کس طرح سے اپنے آپ کو بچاٶں ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے موت میرے قریب ہے ۔
زور سے آوازیں دینے لگی 
” امی۔۔۔۔۔۔ابو۔۔۔۔۔۔ بھیا ۔۔۔
کوٸ تو آٶ۔۔۔۔ یہاں سانپ نکل آیا“ 
لیکن شاید کسی تک میری آواز نہیں پہنچ پارہی تھی ۔اپنے آپ کو بچانے کی کوٸ ترکیب سوجھ بھی نہیں رہی تھی ۔
میں نے اللہ کو آواز دی ۔کہا کہ ” اے رب مجھے کسی بھی طرح یہاں سے نکال دے ، مجھیں اس سانپ سے بچالے ، میری حفاظت کر میرے مولیٰ ۔“ 
   اس نے میری آواز کو سن لیا ، میری اس سانپ سے حفاظت کیا ۔ معجزے کی طرح سانپ میری نظروں سے دور ہوگیا ۔

   کہنے کو تو بہت بڑا لگتا ہے لیکن سب کچھ ایک لمحے میں ہوگیا ۔ 

میں اپنے کمرے کی طرف دوڑتے چلی آٸ اور چار پاٸ پر بیٹھ گٸ ، اطمینان کی سانس لی پھر خیال آیا کہ 
” سات آسمانوں کے اوپر رہنے والا جو مجھ سے کافی دور ہے اس نے ایک پکار میں میری آواز سنا اور میری حفاظت کی ۔ وہ دور ہوکر بھی کافی قریب ہے ۔ 
وہ ہی ہے ، جسے چاہتا آزماتا ہے ، جسے چاہتا سکون دیتا اور جس سے چاہتا سکون چھین بھی لیتا ہے ۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔“ 
ابھی خیالات آہی رہے تھے کہ کھڑکی سے زوردار ہوا کے ساتھ بارش کے چھینٹے چہرے پر گرنے سے آنکھ کھل گٸ ۔ 
میری آنکھ آج روز مرہ وقت سے پہلے ہی کھل گٸ ۔ابھی شاید صبح کے چار بج رہے ہونگے ۔آسمان پر اندھیری پھیلی ہوٸ تھی ۔'تہجد کا وقت ختم پر ہے' یہ خیال آتے ہی فوراً وضو کے لیۓ چلی گٸ ۔ 

جاۓ نماز پر بیٹھے ماضی کے خیالات میں ڈوبتی چلی گٸ ۔۔۔

سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہورہا تھا جب میرے سب سے قریبی دوست ( سہیلی ) نے مجھ سے دغا بازی کی ۔مجھ سے قطع تعلق کر لیا ۔
میں کچھ دن یہی سوچتی رہی کہ "وہ میرے ساتھ ایسا کیوں کر گٸ، شاید اب اسے میری ضرورت نہیں ہے۔ " 
ابھی ایک ٹینشن دور ہوا نہیں تھا کہ ریسلٹ کا ٹینشن سر پر منڈھلا رہا تھا ۔پھر ساتھ یہ بھی خیال تھا کہ 
      مجھے آگے کی پڑھاٸ کی اجازت ملے گی بھی یا نہیں ؟ جو کورس مجھے کرنا ہے اس کے لیۓ شہر کے باہر جاپاٶنگی یا نہیں ؟ 
مزید کٸ مسٸلوں کے ساتھ ۔۔ زندگی کے ہر خوشی کے پل سے محروم ، دوستے سے بات کیۓ بغیر ، بہن بھاٸیوں کے ساتھ یادگار لمحے گزارے بغیر زندگی یونہی گزر رہی تھی اور اب تک بھی ایسے ہی گزر رہی ہے ۔

ذلیخا ہر وقت کہتی رہی کہ 
  ” زارا ، قران کا  مطالعہ کر ، تمھارے ہر مسٸلے کا حل اس میں ہے ، اللہ کے قریب ہوجاٶ ، دعاٸیں مانگو ۔۔۔۔“ 
لیکن میں نے کبھی اس کی ایک نا سنی ۔
دعاٸیں مانگتی تھی لیکن فوراً نا امید ہوجاتی تھی ۔ 
   ۔۔۔۔۔۔۔ابھی ماضی کے خیالات میں ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوٸ شاید امی فجر کے لیۓ جگانے آٸ ہے ۔ 
امی نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور جیسے ہی مجھے جاۓ نماز پر دیکھا تو بہت خوش ہوٸ ۔
ان کے لبوں کی ہلکی سی مسکراہٹ سے میرے دل کے کونے سے خوشی کا احساس ہو رہا تھا ۔
فجر کی نماز سے فارغ ہوٸ تو سوچا کہ" کیوں نہ تھوڑی دیر قران پڑھ لوں ؟ " 
قرات کے ساتھ قران کی تلاوت شروع کی 
   یٰس ۔ والقران الحکیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو دل میں ایک الگ ہی سکون محسوس ہو رہا تھا ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے میں مہینوں سے اسی سکون کی تلاش میں ہوں۔ 
سورت ختم ہوگٸ لیکن دل مزید پڑھنا ہی چاہ رہا تھا ۔۔۔
تلاوت کے بعد میں ورزش کے لیۓ باغ میں چلی آٸ ۔
  صبح کی ٹھنڈی ہواٸیں ، آوازیں کرتے چرند پرند ، جھلملاتی ہوٸ ڈالیوں کے ساتھ ، سرسبز و شاداب باغ میں ورزش کرنے کا مزہ آج دُگنا ہو گیا ۔
یہ وہ مزہ تھا جو پچھلے چند ماہ سے گم ہوگیا تھا ۔ 
ورزش کرتے کرتے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب ناشتہ کا وقت ہوگیا ۔
اتنے میں امی نے آواز لگاٸ 
زارا ۔۔۔۔۔او بیٹی زارا ۔۔۔۔
  ”آرہی ہوں امی “ ۔ 
دوڑتے ہوۓ کمرہ کی طرف چلی آٸ اور نہا کر تیار ہو گٸ ۔پھر ناشتہ کے لیۓ سب کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گٸ ۔
آج ہر کام وقت پر ہورہا ہے اس لیۓ اہل خانہ کے ساتھ ناشتہ کرنے کا موقع ملا ۔
عمر فہام ( چھوٹا بھاٸ ) کی باتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوۓ گھر کا سارا کام ختم ہوگیا اور یونہی دوپہر ہو گٸ ۔ 

ظہر کی اذان صاف سناٸ دے رہی تھی ۔موذن کے پیچھے کلمہ دہراتی رہی ۔اذان کے بعد کی دعا پڑھ کر وضو شروع کیا 
    بسم اللہ الرحمن ۔۔۔۔۔۔
وضو کرتے وقت خیال کر رہی تھی کہ اس بہتے ہوۓ پانی کے ساتھ میرے گناہ بھی بہہ جاۓ اور میں پاک و صاف ہو جاٶں ۔

بہت ہی سکون و اطمینان کے ساتھ ظہر کی بارہ رکعتیں ادا کی اور گڑگڑا کر خدا سے دعاٸیں کی کہ 
” اے اللہ مجھے قلب کا سکون عطا کر ، قلب مومن ہمیشہ پاک و صاف ہوتا ہے میرا بھی دل ہر گناہ سے، ہر برے خیال سے پاک کردے “ 
             آمین ۔ 

امی قیل اللہ کر رہی تھی سوچا کہ میں بھی کچھ دیر آرام کر لوں ۔
قیل اللہ کرنے کے بعد جب اٹھے تو خیال آیا کہ"  ہمارے پڑوس میں جو خالہ جان رہتی ہے وہ کافی بیمار ہے ۔کیوں نا ان کی عیادت کے لیۓ جاٶں ؟" 
میں اور امی کچھ پھل لے کر ان کی خیریت لینے گۓ ۔ میں نے دیکھا کہ خالہ جان بستر پر لیٹی ہانپ رہی تھیں اور ان کی معزور بیٹی ان کے سر ہانے بیٹھی ہوٸ تھی ۔ 
اسے دیکھتے ہی اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے کسی چیز سے محروم نہ رکھا ۔
         الحَمْدُ ِلله الحَمْدُ ِلله 
امی نے ان سے تسلی بخش باتیں کی اور گھر کی طرف روانہ ہوۓ ۔
گھر کے دروازہ پر ابھی قدم رکھے ہی تھے کہ عصر کی اذان ہونے لگی ۔ جیسے ہی اذان ختم ہوٸ ، دعا پڑھتے ہوۓ برقعہ نکال کر نماز کے لیۓ ٹہر گٸ ۔

چونکہ گھر کے تمام افراد مغرب کے فوراً بعد کھانا کھاتے ہیں اسلیۓ امی عصر کے بعد ہی پکانے میں لگ جاتی ۔ آج میں امی کے باورچی خانہ گٸ اور باتیں کرتے کرتے ان کی مدد بھی کی ۔
   باتوں ہی باتوں میں امی نے کٸ باتیں کہی اور کہا کہ 
” اسے گانٹھ باندھ لو اور مستقبل میں ہر وقت میری ان باتوں کو یاد رکھنا ۔“ 
کھانا تیار ہوگیا تو میں ٹفن باندھ کر پڑوسی میں ایک غریب کو دے آٸ ۔انھوں نے مجھے بہت سی دعاٸیں دی ۔
     امی کہتی ہے 
” زندگی میں ہمیشہ کسی کی دعا ہی کام آتی ہے اور وہ کسی کام کرنے سے ہی ملتی ہے ، اسے پیسے دےکر خریدا نہیں جاسکتا ۔“ 
مغرب کی نماز سے فارغ ہوکر دستر خوان بچھایا اور سب مل کر کھانے کیلیۓ بیٹھ گۓ ۔ 
ہم بہن بھاٸ دستر پر باتیں کرتے ہی تھے لیکن آج نٸ بات یہ تھی کہ ابو بھی ہماری باتوں میں شامل تھے ۔ 
مجھ سے پوچھے بغیر رہا نہ گیا کہ 
       ” ابو ! آج آپ کی اتنا زیادہ خوش ہونے کی وجہ ؟ “
ابو نے مسکراتے ہوۓ کہا 
      ” آج میری ، پھول جیسی بیٹی جو پچھلے کٸ مہینوں سے مرجھا گٸ تھی ، اس کے چہرے پر خوشی دیکھ کر میرا دل کھل اٹھا ۔“ 
یہ سن کر میری آنکھوں سے خوشی کے آنسوں بہنے لگے ۔ یہ احساس ہو رہا تھا کہ 
” اللہ کی فرمانبرداری کرنے ،اس کے بتاۓ ہوۓ طریقوں پر چلنے ، نمازوں کی پابندی کرنے ، قران کا مطالعہ کرنے سے زندگی میں کتنی رونق آجاتی ہے ۔ “ 

کھانے کے بعد اللہ کا شکر ادا کیا اور پھر امی کے ساھ مل کر برتن دھونے کے بعد لاٸبریری میں بیٹھ کر کتابوں کا مطالعہ کیا ۔ اور عہد کیا کہ” تمام اچھی باتوں کو اپنی زندگی میں لانے کی کوشش کرونگی ۔“ 
عشا کی نماز پڑھ کر تحریری کام کے لیۓ بیٹھ ہی رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوٸ ۔ 
  ” کون ؟؟؟  “ میں نے پوچھا 
   میں ذلیخا ۔ 
ذلیخا کو کمرے میں بلا کر ہم دونوں باتیں کرنے لگے ۔ آج کی پوری روداد سن کر ذلیخا بہت خوش ہوٸ ۔ 
اسے روانہ کر کے خیال آیا کہ 
 ” کیوں نا اس دن کو کتاب میں قلمبند کرلوں ؟“ 
جیسے جیسے میں تہجد سے رات تک کی روداد لکھ رہی تھی ویسے ویسے دل کی تہہ سے خوشی کی لہر اٹھ رہی تھی ۔ 
روداد ختم کر کے میں جاۓ نماز بچھا کر اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوکر اس کا شکا ادا کیا ۔اور یہ عہد کرلیا کہ ” میں ہر روز کو آج کی طرح پر سکون بنانے کی کوشش کرونگی 
🤲🏻🤲🏻 

” *یا* *اللہ* *ہم* *تمام* *کو* *تیری*  *یاد* *میں* *زندگی* *گزارنے* *کی* *توفیق* *عطا* *فرما* ۔ 
              *آمین*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌷شادی کا رقعہ🌷

حاصل مطالعہ خطبا ت حصہ اول( حقیقت ایمان)

بناؤ ‏اور ‏بگاڑ ‏