حاصل مطالعہ کتاب " خطبات "
حاصل مطالعہ کتاب " خطبات "🔷️
مصنف: مولانا سید ابو لالہ مودودیؒ🔷️
نیہاں سید شاکر ✍️
مرکزی موضوع "روزہ " ہے🔷️
جس میں درج ذیل دو مختلف عنوان کی وضاحت کی گئی ہے
روزہ 🔹️
روزہ کا اصل مقصد🔷️
روزہ 🔹️
اے مسلمانوں! تم پر اسی طرح روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا( البقرۃ 183) پچھلی جتنی امتیں گزری ہے سب اسی طرح روزے رکھتی تھی جس طرح امت محمدی ( ﷺ) رکھتی ہے
روزہ کا اصل مقصد کیا ہے روزہ کیوں فرض کیا گیا ہے ؟؟؟
1️⃣اسلام کا اصل مقصد انسان کی پوری زندگی کو اللہ تعالی کی عبادت بنا دیتا ہے عبادت کا مطلب ہے بندگی۔۔۔
جس کے لئے اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔۔۔۔
میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا اسی لیے کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں (الذاریت 56)
جیسا کہ نماز روزہ حج اور زکواۃ یہ عادتیں بھی ہم پر فرض ہے
2️⃣ روزہ یہ مخفی عبادت ہے مطلب ایسی عبادت جسکا حال خدا اور بندے کے سوا کسی تیسرے پر نہیں کھل سکتا ایک سب کے سامنے سحری کھاۓ اور افطار کے وقت تک *ظاہر* میں کچھ نہ کھائیں پئے مگر چھپ کر پانی پی لے یا کچھ چوری چھپے کھا پی لے تو اللہ تعالی کے سوا اسکی خبر کسی کو نہیں ہوسکتی روزہ چھوڑ کر دوسری عبادتیں کسی نہ کسی طرح ظاہری حرکت سے ادا ہوہی جاتی ہے جیسے نماز میں رکوع سجدہ حج کے دوران سفر ذکوۃ بھی ایک دیتا ہے تو دوسرا لیتا ہے ان عبادتوں کا حال چھپ نہیں سکتا
3️⃣روزہ ایمان کے مضبوطی کی علامت ہے مطلب یہ کہ جس کے دل میں ذرا سا بھی شک ہوتا کہ آخرت ہوگی یا نہ ہوگی اور اس میں عذاب و ثواب ہوگا یا نہ ہوگا تو وہ اپنا روزہ کبھی مکمل نہیں کرسکتا
4️⃣تقوی اور پرہیزگاری کے سلسلے میں(البقرۃ 183) میں ہم نے دیکھا کہ اے اہل ایمان! تمہارے اوپر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کیے گئے تھے شاید کے تم پرہیزگار بن جاؤ
5️⃣ روزہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ اطاعت کی طویل مشق ہیں جبکہ دوسرے عبادات جیسا کہ نماز کی مدت چند منٹ سے ذیادہ نہیں ہوتا ذکوۃ ادا کرنے کا وقت سال بھر میں ایک دفعہ آتا ہے اور ہوہی چلا جاتا ہے حج میں البتہ لمبی مدت ہوتی ہے مگر اس کا موقع عمر بھر میں ایک دفعہ آتا ہے اور وہ بھی سب کے لئے نہیں
⚫تربیت کے لئے سازگار اجتماعی ماحول لاتا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ اس میں پوری دنیا ایک ہی وقت پر عبادت کرتی ہے جیسے کے سحر کا وقت نمازوں کا وقت افطار کا وقت وغیرہ لاکھوں کروڑوں آدمیوں کے مل کر روزہ رکھنے سے وہ لاکھوں کروڑوں گنے زیادہ بڑھ جاتے ہے اور رمضان المبارک کا مہینہ پوری فضا کو نیکی اور پرہیزگاری کی روح سے بھر دیتا ہے پوری قوم میں گویا تقوی کی کھیتی سر سبز ہوجاتی ہے
⚫اسی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔۔
آدمی کا ہر عمل خدا ک ہاں کچھ نہ کچھ بڑھتا ہے ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک پھلتی پھولتی ہے مگر اللہ تعالی فرماتا ہے کہ روزہ اس سے مستثنی ہےوہ خاص میرے لیے ہے اور میں اسکا جتنا چاہتا ہوں بدلہ دیتا ہوں
ویسے تو رمضان نیکیاں سمیٹنے کا مہینہ ہے اور اللہ تعالی روزے کا بدلہ خود دےگا اور بے شک اسکے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے جسکو چاہے جو دے جتنا دے ہم یہ سوچتے کہ جیسا ہر امتحان کا نتیجہ ہوتا ہے تو کیا ہماری عبادتوں کے بھی نتائج ہونگے؟؟؟
ہماری نمازوں روزوں اور دیگر عبادتوں کے کیا نتائج ہونگے؟؟؟
ہم کوئی بھی عبادت خواہ وہ ایک چھوٹی سی نیکی ہی کیوں نہ ہو اگر خالص اللہ تعالی کی رضا کے لئے کریں تو اللہ تعالی یوم قیامت رائ برابر نیکی کا بھی اجر دےگا۔۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں