*قرآن مجید سے وابستگی، نوعیت اور تقاضے*
*قرآن مجید سے وابستگی، نوعیت اور تقاضے*
*_____________________
تحریر:مریم جمیلہ،*
قرآن مجید کتاب انقلاب ہے یہ رب کائنات کا بندوں پر احسان عظیم ہے یہ انھیں جینے کا طریقہ سکھاتی ہے مقصد حیات سے روشناس کراتی ہے بندوں کو اپنے رب سے ملاتی ہے اصل فلاح وکامرانی کی راہ دکھاتی ہے یہ انکی زندگیوں میں وہ صالح انقلاب برپا کرتی ہے کہ انسان احسن تقویم کی بلندیوں پر پہنچ جاتاہے اپنے خالق و مالک کا محبوب بندہ بن جاتا ہے اور اسکے انعامات واکرامات کا مستحق قرار پاتا ہے وہی اگر کوئی اسکی روشن تعلیمات کو پس پشت ڈال دیں اس سے روگردانی اختیار کریں اس کتاب ھدایت کے ساتھ غلط رویہ اختیار کریں ھٹ دھرمی بے رخی کا عملی مظاہرہ کریں یہی کتاب انھیں اسفل سافلین یعنی سب نیچو سے نیچ کردیتی ہے
لقد خلقناالانسان فی احسن تقویم ثم رددنہ اسفل سافلین( سورہ تین)
انسان نے جب جب بھی الہی ھدایات کے مطابق اپنی عرصہ حیات گزاری وہ دنیا کے امام و پیشوا بنے رہے فلاح و نصرت الہی انھیں میسر آئیں دنیا و ما فیھا انکے آگے سرنگوں ہوئی۔۔۔تو یہ ہے اس کتاب اللہ کی خصوصیات جو انسان کو کامیابی وکامرانی کی راہ دکھاتی ہے رضائے الہی اور فلاح آخرت کی خوشخبری سناتی ہے وہ انسان کو شتر بے مہار نہیں چھوڑتی بلکہ اسے اللہ کا نائب و خلیفہ ہونے کی حیثیت یاد دلاتی ہے اسے ایک ذمےدار فرد بناتی ہے بامقصد زندگی کی طرف دعوت دیتی ہے اور اس کے لئے راہ عمل ہموار کرتی ہے۔۔
قرآن سے وابستگی کیوں؟
انسان اپنی دنیاوی زندگی کو سنوارنے کے لئے کیا کچھ نہیں کرتا دن رات ان ہی سوچوں میں مگن رہتا ہے کہ ترقی کیسے ممکن ہوں اسی کے لئے جدوجہد کرتا ہے سرمایہ لگاتا ہے محنت و مشقت کرتا ہے۔۔۔لیکن کیا ہو جب یہی معلوم نہ ہو کہ دنیا و آخرت کی حقیقی بھلائی کن کاموں سے نصیب ہوا کرتی ہے؟؟؟ یہ قرآن کریم ہی ہے جو ہمیں فلاح کے جامع تصور سے واقف کرواتی ہے۔۔۔اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھام لیں گے اس روشن چراغ سے اپنی زندگی منور کریں گے اسکی تعلیمات کی روشنی میں زندگی کے مدارج کو طے کریں گے اور اس کتاب سے عملاً وابستہ ہو جائیں گے۔۔۔
آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس سے وابستگی کے تقاضے کیا ہیں
*اول یہ کہ ہم اس پر قولاً اور عملاً ایمان لے آئیں۔۔۔
*اسکی آیتوں کی تلاوت ایسی کریں کہ یہ ہمارے ایمان میں اضافے کا سبب بنے۔۔۔
* اس کے احکامات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں کہ لوگ ہمیں مجسم قرآن سمجھنے لگے اور ہمیں دیکھ کر وہ بھی اپنی حیثیت( خلیفہ) جان لیں اور اللہ سے وابستہ ہوجائیں۔۔
*یہ کتاب جو ہمیں اپنا فرض منصبی یاد دلاتی ہے ہم اس کے مطابق عوام الناس کو اللہ کی طرف دعوت دیں گمراہ انسانیت کو راہ راست دکھائیں۔۔
ومن احسن قولاً میں ممن دعا الی اللہ و عمل صالحاً و قال اننی من المسلمین
اور اس شخص سے بہتر اور کس کی بات ہوگی جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں خود بھی نیک عمل کریں اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔( حم السجدہ)
اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کے حقوق و تقاضوں کا استحضار کریں اسے عملی وابستگی کا نمونہ پیش کریں۔۔زندگی کے ہر معاملات میں اس کتاب سے مشورہ طلب کریں پھر یہ ہر راہ پر ہماری رہنمائی کریں گی ہم کو بھٹکنے نہیں دیں گی۔۔ ہمیں ہر شر و فساد اور فسق و فجور کی تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئی گی۔ حدیث کے مطابق امت مسلمہ پر ایک وقت ایسا بھی آنے والا ہے کہ زمین پر فتنہ و فساد اس قدر بڑھ جائے گے کہ گویا آسمان سے بارش ہورہی ہو ایسے میں یہ کتاب مبین ہی ہے جو اس سے وابستہ لوگوں کی ان فتنے فساد سے حفاظت کرے گی گھٹا ٹوپ تاریکی میں انھیں راہ راست دکھائے گی یہ اللہ کی وہ رسی ہے کہ اسکو تھامنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔۔۔
آخرت میں یہی کتاب اپنے ماننے والے کے حق میں اس وقت سفارش کرے گی جب وہ دنیا میں اس کے حقوق کو ادا کرتے رہے ہونگے بصورت دیگر یہ ان کے خلاف بھی گواہی دے گی جب کہ انھوں نے اپنی دنیاوی زندگی میں اسے چھوڑ رکھا ہوگا۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں