حاصل مطالعہ کتاب "خطبات"
حاصل مطالعہ کتاب "خطبات"
مصنف: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
حصہ دوم
مریم جمیلہ ✍🏻
مرکزی موضوع " اسلام" ہے
جس کے تحت درج ذیل پانچ مختلف عناوین کی وضاحت کی گئی ہے
۔مسلمان کسے کہتے ہیں؟
۔ایمان کی کسوٹی؟
۔اسلام کا معیار
۔خدا کی اطاعت کس لئے؟
۔دین اور شریعت
پہلے نکتہ(مسلمان کسے کہتے ہیں) کے تحت مولانا فرماتے ہیں کہ
*کفر یہ ہے کہ آدمی خدا کی فرمانبرداری سے انکار کر دے اور اسلام یہ ہے کہ آدمی صرف خدا کا فرمانبردار ہو اور ہر ایسے طریقے یا قانون یا حکم کو ماننے سے انکار کردے جو خدا کی بھیجی ہوئی ھدایت کے خلاف ہو۔۔
*اور اگر وہ بعض معاملات میں تو خدا کی ھدایت کو مانتا ہو اور بعض میں اپنی نفسانی خواہشات کو یا رسم و رواج کو یا انسانوں کے قانون کو خدا کے قانون پر ترجیح دیتا ہو تو جس قدر بھی وہ خدا کے قانون کی بغاوت کرتا ہے اسی قدر کفر میں مبتلا ہے۔
پھر قرآن مجید کی مختلف آیتو( سورہ آل عمران۶۴۔۔آل عمران ۸۳) کے حوالے کے تحت فرماتے ہیں کہ
اصل دین خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے اور عبادت یہی ہے کہ زندگی کے ہر معاملات میں اسی کے احکام کی اطاعت کی جائے جس چیز سے اس نے منع فرمایا ہے اس سے رک جائیں اور جس چیز کا اس نے حکم دیا ہے اس پر عمل کیا جائے۔۔
اگر تم نے خدا کے حکم کو چھوڑ کر کسی کی بات بھی مانی تو خدائی میں اس کو شریک کیا کیونکہ حکم دینے والا صرف خدا ہے ان الحکم الا للہ
( سورہ انعام)
قرآن مجید کی رو سے انسان گمراہی میں کب اور کیسے مبتلا ہوتا ہے؟ اس کے تین راستے ہیں
۔نفس کی بندگی
( یعنی خواہشات نفس کی پیروی)
جو شخص خواہشات کا بندہ بن گیا اس کے لئے خدا کا بندہ بننا ممکن ہی نہیں۔
۔باپ دادا کی اندھی تقلید
باپ دادا سے جو رسم و رواج عقیدے خیالات رنگ ڈھنگ چلے آرہے ہوآدمی ان کا غلام بن جائے اور خدا کے حکم سے بڑھ کر ان کو سمجھے۔۔یہ ایسی گمراہی ہے جس میں تقریباً ہر زمانے کے جاھل لوگ مبتلا رہے اور ہمیشہ خدا اور رسولوں کی ھدایت کو ماننے سے یہی چیز انسان کو روکتی رہی۔۔
۔غیر اللہ کی اطاعت
یعنی دنیا کے لوگوں کی بندگی
جس میں دولت مند لوگ اور حکام وقت اور بناوٹی پیشوا اور گمراہ قومیں سبھی شامل ہے۔
یہ تین بڑے بڑے بت ہیں جو خدائی کے دعویدار بنے ہوئے ہیں جو شخص مسلمان بننا چاہتا ہو اس کو سب سے پہلے ان تینوں بتوں کو توڑنا چاہئے۔۔۔
پھر انھوں نے سیرت صحابہ میں سے اللہ کی اطاعت کی چند مثالیں بیان فرمائیں
جس میں ترک شراب۔۔جب منادی کروائی گئی کہ شراب حرام کردی گئی تو مدینہ کی گلیوں میں شراب اس طرح بہ رہی تھی جیسے بارش کا پانی۔۔
اقرار جرم۔۔۔ایک شخص جس نے زنا کیا تھا جس کا کوئی گوشہ نہ تھا کوئی عدالت تک پکڑ کر لے جانے والا نہیں صرف دل میں ایمان جس کی بنا پر اس نے اللہ کے رسول کے سامنے اقرار جرم کیا اور درخواست کی کہ جو گناہ میں نے کیا ہے اس کی مجھے سزا دی جائے۔
قطع علائق۔۔بدر اور احد کی لڑائی میں اہل ایمان کے روبرو جو دشمن تھے ان میں زیادہ تر ان کے خونی رشتہ دار تھے کسی کا بھائی کسی کا باپ کسی کا بیٹا قریب سے قریب تر رشتہ دار ایک دوسرے کے مدمقابل آئے اور اسطرح لڑے کہ گویا یہ ایک دوسرے کو جانتے نہ ہو۔۔
پرانے رسم و رواج سے توبہ۔۔ان تمام پرانے رسم و رواج سے توبہ کی جو باپ دادا سے چلی آرہی تھی۔بت پرستی شراب جوا زنا چوری رہزنی عورتوں کا بے پردہ گھومنا عورت کو وراثت میں حصہ نہ دینا متبنی( منہ بولی اولاد کو سگی اولاد کی حیثیت دینا) غرض کونسی رسم ایسی تھی جس کو توڑنے کا حکم اسلام نے دیا ہو اور صحابہ نے عمل کر دکھایا۔۔
خدا کی خوشنودی کا راستہ یہی ہے کہ جو چیزیں تم کو عزیز ہیں ان کو خدا کی خاطر قربان کردو۔۔اور اسلام کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ انسان اپنی بندگی کو اپنے مرنے جینے کو صرف اللہ کے لئے خالص کردے اس کے سوا کسی کو اس میں شریک نہ کرے۔۔
مسلمانوں کی دو قسمیں بتائی گئی
۱۔جزوی مسلمان( قانونی مسلمان ) جو خدا اور رسول کا اقرار کرکے محض اسلام کو اپنا مذہب ماں لیتے ہیں مگر اعمال ان کے مسلمانوں جیسے نہیں ہوتے وہ وہی روایتوں کی پابندی کرتے اپنے نفس کی بندگی کرتے ہیں اور مذہب کو اپنی کل زندگی کا ایک جز اور ایک شعبہ ہی بنا کر رکھتے ہیں۔۔
۔حقیقی مسلمان
( پورے مسلمان)
دوسری قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اپنی پوری شخصیت کو اسلام کے حوالے کردیں اللہ کو یہی مسلمان مطلوب ہیں اور تاریخی کارنامے ایسے ہی مسلمانوں نے انجام دیتے ہیں اور حقیقی غلبہ ان ہی کو نصیب ہوا کرتا ہے۔
*خدا کی اطاعت کس لئے؟
اللہ کی اطاعت میں ہی انسان کی فلاح و بہتری ہے غیر اللہ کی اطاعت محض گمراہی کے سوا کچھ نہیں اور حقیقی ھدایت صرف اللہ کی طرف سے ہے اور ان الہی ہدایات سے استفادہ کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ پر اس کے رسول پر سچے دل سے ایمان لائیں اور ایمان لانے کے بعد اس کی اطاعت کریں۔۔
دیں اور شریعت کی وضاحت میں مولانا فرماتے ہیں کہ
دین کے کئی معنی ہے ایک معنی عزت حکومت سلطنت بادشاہی اور فرما روائی ہے
دوسرے معنی اس کے بالکل برعکس ہے یعنی زیردستی اطاعت غلامی تابعداری اور بندگی ہے۔
تیسرے معنی حساب کرنے فیصلہ کرنے اور اعمال کی سزا و سزا کے ہیں قرآن مجید میں دین ان ہی تین معنوں میں آیا ہے۔۔
جب کہ شریعت کے معنی طریقے اور راستے کے ہیں جب دیں اسلام کو قبول کرکے ہم مسلمان ہوگئے تو جس طریقے سے خدا کی بندگی کرنی ہے اور اس کی فرمانبرداری میں جس راستہ پر چلنا ہے اسکا نام شریعت ہے اور یہ طریقہ اور راستہ خدا اپنے رسول کے ذریعہ سے ہی بتاتا ہے فرق یہ ہے کہ دین ہمیشہ سے ایک تھا اور ایک رہا اور اب بھی ایک ہی ہے مگر شریعتیں بہت سی آئی بہت سی منسوخ ہوئی بہت سی بدلی گئی اور کبھی ان کے بدلنے سے دیں نہیں بدلا۔۔
دیں اور شریعت کے فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے جو بگاڑ فرقہ بندی پیدا ہوتی ہے اس کے نقصانات کی وضاحت مولانا نے آخر میں کی ہے۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں