شہادت حق
✨ شہادت حق ✨
⭐حاصل مطالعہ ⭐
✍🏻 فردا ارحم
” ہم مسلمان ہیں اور ہم نے خدا کو اور اس کے دین کو مان لیاہے“ ۔ صرف اتنا کہنے سے ہم مسلمان نہیں ہو جاتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا شعور اور انھیں ادا کرنے کی فکر ہونی چاہیے ۔
وہ ذمہ داریاں کیا ہے ؟
وہ صرف یہی نہیں ہے کہ خدا پر ، رسولوں پر ، کتابوں پر ، فرشتوں پر ، آخرت کے دن پر ایمان لے آۓ یا نماز پڑھیں ، روزہ رکھیں ، حج کریں ، زکوة دیں ۔ بلکہ ان سب کے علاوہ ایک بہت بڑی ذمہ داری یہ عاٸد ہوتی ہے کہ ” ہم تمام دنیا کے سامنے اس حق کے گواہ بن کر کھڑے ہو جس پر ہم ایمان لاۓ ہیں ۔ “
یہ ہمارا مقصد وجود ہے جسے ہم نے پورا نہ کیا تو اپنی زندگی ہی اکارت گنوادی ۔
” اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے چھپاۓ ۔ “
( سورہ البقرہ: 140)
یہ شہادت جس کی ذمہ داری ہم پر ڈالی گٸ اس سے مراد یہ ہے کہ جو حق ہمارے پاس ہے ، انسان کے لیۓ فلاح و نجات کی راہ جو ہمیں دکھاٸ گٸ ہے ، دنیا کے سامنے اس کے حق اور صداقت اور راہ راست پر گواہی دینی ہے ۔ اور اس کی غرض قران میں بتاٸ گٸ ہے کہ ” لوگوں کو اللہ پر یہ حجت قاٸم کرنے کا موقع باقی نہ رہے کہ ہم بے خبر تھے اور آپ ہمیں اس چیز پر پکڑتے ہیں جس سے ہم کو خبردار نہ کیا گیا تھا ۔ “
اور اگرحق کی شہادت دینے میں کوتاہی کرے یا حق کے بجاۓ باطل کی شہادت دینے لگے تو ہماری پکڑ کی جاۓ گی ۔
🔹اداۓ شہادت کا طریقہ :
دو طرح کی شہادت ہوتی ہے ۔١۔ *قولی* *شہادت* :
اس کی صورت یہ ہے کہ ہم زبان اور قلم کے ذریعے سے دنیا پر اس حق کو واضح کریں جو انبیا کے ذریعے سے ہمیں پہنچا ہے ۔ اس قالی شہادت کا حق ادا نہیں ہوسکتا جب تک کہ امت مجموعی طور پر ہدایت خلق کے لیۓ اس طرح فکر مند نہ ہو جس طرح انبیا اکرام انفرادی طور پر اس کے لیۓ فکر مند رہا کرتے تھے ۔ ہمارے تمام کاموں میں یہ مقصد لازماً ملحوظ رہے اور ہم اپنے درمیان سے کسی ایسی آواز کے اٹھنے کو کسی حال میں برداشت نہ کریں جو حق کے خلاف شہادت دینے والی ہو ۔٢۔ *عملی* *شہادت* :
ہم اپنی زندگی میں ان اصولوں کا عملاً مظاہرہ کریں جن کو ہم حق کہتے ہیں ۔ دنیا ہمارے برتاٶ میں اس شیرینی کا ذاٸقہ چکھ لیں جو ایمان کی حلاوت سے انسان کے اخلاق و معاملات میں پیدا ہوتی ہے ۔عملی شہادت جب قولی شہادت کے ساتھ مل جاۓ تب وہ ذمہ داری پوری طرح ادا ہوجاتی ہے جو امت مسلمہ پر ڈالی گٸ ہے ۔
اور اس پر بھی جو لوگ راہ راست پر نہ آۓ وہ اپنی کج روی کے خود ذمہ داری ہے ۔
آج مسلمانوں کا نام فخر و عزت ، ذلت و مسکنت اور پسماندگی میں بدل گیا ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم حق کی شہادت دینے میں کوتاہی کرتے گۓ او باطل کی شہادت ادا کرنے میں ہمارا قدم آگے بڑھا ۔ جتنی تیز رفتار سے ہم حق و باطل پر آۓ اتنی ہی تیز رفتار سے ہم گرتے چلے گۓ ۔
اگر ہم قول و عمل سے اسلام کی سچی شہادت دے اور ہم اجتماعی کردار میں پورے اسلام کا ٹھیک ٹھیک مظاہرہ دے تو دنیا میں سر بلند اور آخرت میں سرخرو ہوکر رہے گا ۔ خوف اور حزن ، ذلت اور مسکنت ، مغلوبی و محکومی کے یہ سیاہ بادل چھٹ جاۓ گے ۔
وہ لوگ جو اسلام کو اپنا دین مانتے ہیں وہ اس دین کو واقعی اپنا دین بناٸیں ۔ اس کو انفرادی طور پر اپنی زندگیوں میں ، اجتماعی طور پر اپنے گھروں میں ، اپنے خاندانوں میں عملاً قاٸم کریں اور اپنے قول و عمل سے دنیا کے سامنے اس دین کی سچی گواہی دیں ۔
مسلمان ہونے کی حیثیت سے اقامت دین اور شہادت حق ہماری زندگی کا اصل مقصد ہے ۔
اس مقصد کو پورا کرنے کے لیۓ جماعت اسلامی نے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مسلمانوں کو ان کا فرض یاد دلاٸیں ۔ اور انھیں صاف صاف بتاٸیں کہ اسلام کیا ہے ، اس کے تقاضے کیا ہے ، مسلمان ہونے کے معنی کیا ہے اور مسلمان ہونے کے ساتھ کیا ذمہ داریاں آدمی پر عاٸد ہوتی ہیں ۔
اسلام کے سب تقاضے انفرادی طور پر پورے نہیں کیۓ جاسکتے اس کے لیۓ اجتماعی سعی ضروری ہے ۔ اس لیۓ ایسے لوگ جو مسلمان ہونے کی ذمہ داریوں کا شعور ، اور انھیں ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ متحد ہوجاٸیں اور منظم طریقے سے دین کو عملاً قاٸم کرنے اور دنیا کو اس کی طرف دعوت دینے کی کوشش کریں اور ان مزاحمتوں کو راستے سے ہٹاٸیں جو اقامت دین اور دعوت دین کی راہ میں حاٸل ہو ۔ جماعت کے بغیر زندگی کو جاہلیت کی زندگی اور جماعت سے علیحدہ ہوکر رہنے کو اسلام سے علیحدگی کا ہم معنی قرار دیا ہے ۔
جو لوگ جماعتی نظم کی پابندی قبول کریں انھیں پور ی آزادی ہے کہ جو چاہو جماعت اختیار کرلو ۔ ضروری نہیں کہ وہ ” جماعت اسلامی “ ہی سے جڑ جاۓ ۔ اگر کسی وجہ سے اسے ایک جماعت پر اطمینان نہ ہو اور کوٸ دوسری جماعت ایسی نظر آۓ جو خالص اسلامی طریق پر کام کر رہی ہو تو اس میں شامل ہوجاۓ ۔ اور اگر کسی بھی جماعت پر اطمینان نہ ہو تو اپنے فرض اسلامی کو ادا کرنے کے لیۓ خود نٸ جماعت قاٸم کرلو ۔ لیکن اس میں کوٸ شک نہیں کہ ایک ہی مقصد اور ایک ہی کام کے لیۓ مختلف جماعتیں بننا بظاہر غلط معلوم ہوتا ہے ۔ اور اس میں انتشار کا بھی اندیشہ ہوتا ہے ۔
🔹 *جماعت* *اسلامی* *کا* *لاٸحہ* *عمل* :
جو لوگ جماعت اسلامی کو پسند کرکے اس میں داخل ہوتے ہیں ان سے جماعت کا مطالبہ اس مطالبہ کے سوا کچھ نہیں ہے جو اسلام نے ہر مسلمان سے کیا ہے ۔ جماعت نہ تو اسلام کے اصل مطالبہ پر ذرہ برابر کسی چیز کا اضافہ کرتا ہے اور نہ اس میں سے کوٸ چیز گھٹاتا ہے ۔اب اس (جماعت اسلامی ) پر مسلمانوں کا اعتراضات کا ایک نہ رکنے والا سیلاب امڈ چلا آرہا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جماعت اسلامی اسلام میں نۓ فرقہ کی بنیاد ڈال رہا ہے ۔ جب یہ جماعت شہادت حق کی گواہی دے رہا ہے اور دین کو پھیلا رہا ہے تو آخر ہماری اس تحریک سے امت میں ایک نیا فرقہ کیسے بن جاۓ گا ؟ عجیب بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دامن خود ان غلطیوں سے آمادہ ہیں وہی الزام دینے میں پیش پیش رہتے ہیں ۔
جو لوگ نہ خود اپنا فرض ادا کرنا چاہتے ہیں اور نہ کسی دوسرے کو ادا کرنے دینا چاہتے ہیں وہ کسی قسم کے بہانے اور اعتراضات ڈھونڈ کر نکالتے ہیں اور دوسروں کو خدا کے راستے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں