مسلم خواتین سے اسلام کے مطالبات

💫مسلم خواتین سے اسلام کے مطالبات 💫

💫حاصل مطالعہ💫

🖊️شمامہ ابتسام

مصنف: مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی

      شہر لاہور کی جماعت اسلامی کی رکن اور ہمدرد خواتین کے ایک اجتماع عام میں مولانا ایک تقریر فرمائی تھی 
      مولانا نے اپنی کتاب کے شروعات میں خدا کی تعریف میں کہا ہے کہ تعریف اس خدا کی جو ساری کائنات کا اور اس کے رہنے والوں کا خالق، مالک، رازق اور نگہبان ہے اور ہمیں میں عقل عطا کی، صحیح اور غلط کی سمجھدی، بھلے اور برے کی تمیز بخشی، انسان کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب نازل کی اور اپنے رسول بھیجے اور درود و سلام ہو اللہ کے ان نیک بندوں پر جنہوں نے نے انسان کو زندگی بسر کرنے کا سیدھا راستہ دکھایا پاکیزہ اخلاقی تعلیم دی 
      جس دنیا میں ہم رہتے ہیں یا جسے ہم دنیا اسلام کے نام سے موسوم کرتے ہیں اس کو مولانا نے ایک چڑیا گھر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ایک چڑیا گھر میں مختلف قسم کے جانور ہوتے ہیں جن میں کوئی چیز اس کے سوا مشترک نہیں ہوتی کہ سب ایک چڑیا گھر میں رہتے ہیں تقریبا ایسا ہی آل مسلمانوں کی دنیا کا بھی ہے جس میں قسم قسم کے آدمی جمع ہے ان میں ایسے بھی موجود ہے جن کو خدا کے وجود میں شک ہے ایسے بھی ہیں جن کو وحی و رسالت پر یقین نہیں کوئی آخرت کو جھٹلاتا ہے کسی کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے بعد خدا کو اس زندگی کا حساب بھی پیش کرنا ہے کچھ کی نگاہ میں اسلام کا طریقہ زندگی صحیح نہیں ہے اور انہوں نے دوسرے طریقوں میں سے اپنے خواہشات کے مطابق کوئی طریقہ پسند کر رکھا ہے اور ان تمام کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور مسلمان کہلائے جانے پر اصرار بھی کرتے ہیں  اور وہ تمام حقوق چاہتے ہیں جو ایک مسلمان سوسائٹی میں مسلمان کے ہوتے ہیں مگر اس مجموعے میں ایسے بھی لوگ پائے جاتے ہیں جو فی الواقع  اس معنی میں مسلمان ہیں جس معنی میں اسلام کسی شخص کو مسلمان کہتا ہے
    آخر یہ صورت حالات کیوں ہے ؟ اس کی کیا وجہ ہے؟
      اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ہمارے مسلمان زیادہ تر نسلی مسلمانوں پر مشتمل ہےان کے باپ دادا مسلمان تھے اس لئے وہ مسلمان ہیں ہمیں پیدائش سے نصب مل سکتا ہے نصیب مل سکتی ہے وطنیت مل سکتی ہے مگر ہم اس بات پر سنجیدگی کی سے غور کریں تو یہ حقیقت آپ پر واضح ہوجائے گی کہ کسی شخص کو محض پیدائش سے اسلام نہیں مل سکتا  ماں کے پیٹ سے بات کے نطفہ سے آدمی کو دین نہیں مل سکتا دین تو صرف اس طرح حاصل ہو سکتا ہے کہ کہ آدمی جان بوجھ کر اسے پسند کرے اور اپنے پورے ارادے سے اس کو اختیار کرے جو لوگ صرف نسلی مسلمان ہیں اور محض باپ دادا کی وجہ سے مسلمان گھر میں پیدا ہوئے ان کے نام تو مسلمان ہیں پر وہ صفات ان میں کھوئی ہوئی ہے جس کا نام اسلام ہے نہ ہی وہ اسلامی طریق کی زندگی گزارتے ہے نہ ہی اس پر چلنے کا کوئی ارادہ کیا ہے  اسلام کی حقیقت نبی  کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں یہ ہے کہ کہ
"ایمان کا مزہ چکھا اس شخص نے جو راضی ہوگیا اس پر کے اللہ ہی اس کا رب ہوں اسلام اس کا طریقہ زندگی ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رہنما ہو " 
مسلمان ہونے کے معنی 
 ۱۔ مسلمان ہونے کے معنی یہ ہے کہ آدمی پورے شعور کے ساتھ یہ فیصلہ کر لے کے دنیا میں خدائی،پروردگاری اور آقای کے جتنے مدعی پائے جاتے ہیںان میں سے صرف ایک رب العالمین ہی کی بندگی اسے کرنی ہے صرف اللہ ہی کی ہستی ایسی ہے جس کے آگے سر اطاعت سے جھکا دینا ہے ہے اور وہی ہے جس کی مرضی ڈھونڈنی ہے
۲۔ پھر مسلمان ہونے کے معنی یہ ہے کہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے مختلف طریقوں کو درمیان آدمی کو صرف وہی کے طریقہ زندگی پسند کرنا ہے جس کو اسلام نے پیش کیا ہے
۳۔ پھر مسلمان ہونے کے معنی یہ ہے کہ دنیا میں انسان کی رہنمائی اور رہبری کے جتنے مدعی گزرے ہے اور آج پائے جاتے ہیں ان سب کے درمیان  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آدمی اپنی رہنمائی کے لئے چن لے اور آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں 
      اس طرح جب اللہ کو اپنا رب اسلام کو اپنا دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رہنما تسلیم کر لے تب کہیں وہ مسلمان ہوتا ہے اب اسے چاہیے کہ وہ اپنی خواہشات کو اللہ کی مرضی اور اسلام کے  قانوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدایت کے تابع کر دے پھر اس میں کوئی چون و چرا کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا پھر کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ قرآن اس بارے میں یہ  کہتا ہے مگر میری رائے اس سے متفق نہیں ہے تو اصل میں اس شخص نے ایمان لایا ہی نہیں حقیقت ایمان لانا تو یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہشات اور جذبات کو اسلام کے ماتحت کردے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جب تک آدمی کے نفس کا شیطان خدا کے آگے ڈگیں نہ ڈال دےاور محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے آگے سر تسلیم خم کر دیں اس وقت تک آدمی مسلمان نہیں ہو سکتا 
   جس دل میں ایمان وہ دل احساس سے خالی  نہیں ہو سکتا ہے زندگی کی ذمہ داری کا احساس ہے یہ اسلامی زندگی کے معنیٰ ہے  اسے اس بات کا پختہ یقین ہوتا ہے کہ اس زندگی کے بعد پھر ایک زندگی ہے جس کا اسے اللہ کو حساب دینا ہے مسلمان کی زندگی کے صحیح مثال وہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمائی ہے کہ 
   مسلمان اور ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے کھونٹے سے بندہ ہوا گھوڑا ہوتا ہے کہ چاہے وہ کتنی ہی گردیشیں کرلے بہرحال اس کے گلے کی رسی اسے مجبور کر دیتی ہے کہ وہ ایک خاص حد پر پہنچنے کے بعد اپنے کھوٹے کی طرف پلٹ آئے 
    اسی طرح مسلمان جب ایمان واطعات کے کوٹے سے بندہا ہے تو رسی کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو وہ ایک کا خاص دائرے میں اور حد میں رہتا ہے جماعت اسلامی کہ خواتین اور کارکن سے کہہ رہے ہیں کہ ہماری دعوت سب لوگوں کو یہ ہے کہ وہ اسلام کو اس کی حقیقت اچھی طرح جانچ کر پر رکھ کر فیصلہ کرے اسے قبول ہے کہ نہیں اور اسے یہ پابندیاں اور اطاعت منظور نہیں تو اسے چھوڑ دے اور اپنا نام تعلق وغیرہ سب بدل کر اپنے خیالات والے لوگوں میں شامل ہو جائے یہ بات صرف ہمیں مردوں ہی سے نہیں کہنی ہے بلکہ عورتوں سے بھی یہی کچھ کہنا ہے عورت کو اپنے اعمال و افعال کا حساب دینا ہے قیامت کے روز ہر عورت اپنی قبر سے اٹھائی جائیں گی نہ کہ اپنے باپ یا بھائی کی خبر سے عورتوں کے سامنے دین کو قبول کرنے اور اپنانے کے معاملے میں وہ تمام اختیار ہے جو ایک مرد کو ہے  
خواتین فرائض
جن کا خواتین سوچ سمجھ کر اسلام کو اپنا دین بنایا ان سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں
۱۔ اپنی زندگی کو اسلام کے سانچے میں ڈھالیں اپنے اندر جاہلیت کی ایک ایک چیز چن چن کر نکالے کیا چیز اسلام کی ہے کیا جاہلیت کی ہے اپنی زندگی کا جائزہ لے اور بے لوث ومحاسبہ کر کے دیکھیں
۲۔ اپنے گھر کے ماحول کو درست کرے پرانی جاہلیت کی جو رسم چلی آرہی ہے ان کو نکال باہر کرے انگریزی سے جو اثرات ہمارے گھر میں داخل ہوگئے ہیں انہیں بھی خانہ بدر کر دے
۳۔اپنے بچوں کو اسلامی طرز پر تربیت دے ہم(مولانا) اس لحاظ سے خوش قسمت تھے کہ بچپن میں ہم اپنے گھروں میں قرآن کی آواز سنتے تھے بڑوں کو نماز پڑھتا دیکھتے تھے اس لحاظ سے نئی نسل بد قسمت ہے وہ قرآن کی آواز نہ ان کے کانوں میں پڑتی ہے نہ اپنی آنکھوں سے گھر کے لوگوں کو کبھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں اسلام کا نقش  ان کے دلوں پر قائم ہو  ان کی عادات درست ہو ہو ان کے اندر اسلامی ذوق پیدا ہو تمام عورتیں جو اسلام کو قبول کرے انہیں چاہیے کہ اپنے گھروں کو مسلمان گھر بنائے 
۴۔ پھر عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر کے مردوں پر اثر ڈالےاور اپنے شوہر بابو بھائیوں اور بیٹوں کو اسلام کی زندگی کے طرف بلائے اگر کوئی مسلمان بیوی صاف صاف صاف کہہ دے کے اسے حرام کی کمائی کے سجائے ھوئے ڈرائنگ روم پسند نہیں ہے بلکہ حرام کی روکھی سوکھی کھا کر جھونپڑی میں رہنا زیادہ عزیز ہے ہے تو اس سے کتنی ہی رائج الوقت وقت خرابیوں کا ازالہ ہوجائے گا  اس طرح ہم اپنی ملاپ والی بہنوں کو بھی غلط رسموں سے روک کر اسلام کے احکام سمجھا سکتی ہے اس سے سوسائٹی کا پورا ڈھانچہ درست ہو سکتا ہے پھر جب آپ نے اسلام فی الواقع اپنے لیے پسند کر لیا ہے تو آپ کے سامنے یہ سوال دو ٹوک فیصلہ کیلئے آن کھڑا ہوگا کہ آپ جاہلیت کی پیروی اور اسلام سے بغاوت میں اپنے غلط کار مردوں کی رفاقت کرنے کے لئے آمادہ ہے یا نہیں؟آپ کے لئے ہرگز یہ مناسب نہ ہو گا کہ دوسروں کی دنیا کے لیے آپ اپنی آخرت خراب کر لیں مسلمان خاتون ہونے کی حیثیت سے آپ شوہر باپ بھائی اور بیٹے ہر ایک پر یہ واضح کر دیکھ کے ہم اسلام کی اتباع میں آپ کی رفاقت کر سکتی ہے لیکن اگر آپ کو اسلام کی حدود کی پابندی گوارا نہیں ہے تو آپ جانیں اور آپ کا کام اور دوسری خواتین جن کے مرد رسول کی پیروی کرنے والے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ان کا ساتھ دے اور تکلیف میں اپنے حق پرست مردوں کی سچی رفیق ثابت ہو 
  اسلامی حکومت میں خواتین کے حقوق
۱۔اسلام موجودہ زمانے کی جمہوریت سے سینکڑوں برس پہلے عورتوں کے حق رائے دہی کو تسلیم کر چکا ہے جس طرح ووٹ کا حق مردوں کو ہے ویسا اسلام میں عورتوں کو بھی دیا ہے 
۲۔ اسلام عورتوں کو وراثت اور مال و جائیداد کی ملکیت کے پورے پورے حقوق دیتا ہے 
۳۔اسلامی حکومت میں عورتوں کو تعلیم سے محروم نہیں رکھا جاتا
۴۔انسان درندگی کی بد نصیب تر شکل اختیار کر رہا ہے ہے ہمارا سابقہ انسانیت کی کسی حد کو بھی پھاند نے میں تامل نہیں ہےاسی لیے ہر مسلمان عورت اپنی جان ومال اور آبرو کی حفاظت کرنے پر قادر ہوں انہیں اسلحہ کا استعمال سیکھنا چاہیے
      مغربی تہذیب اور اسلامی تہذیب میں فرق یہ ہے کہ ہم عورت کو عورت ہی رکھ کر عزت کا مقام دینا چاہتی ہے اس سے مرد بنانا نہیں چاہتے ہیں ہماری تہذیب اور مغربی تہذیب میں فرق یہی ہے کہ مغربی تہذیب عورتوں کو اس وقت تک کوئی عزت اور کسی قسم کے حقوق  نہیں دیتیں جب وہ ایک مصنوعی مرد بن کر مردوں کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے تیار نہ ہو جائے  مگر ہماری تہذیب عورتوں کو ساری عزتیں اور تمام حقوق عورت ہی رکھ کر دیتی ہے  
       اب یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے کہ آپ کی فیرنگیت چاہتی ہے یا اسلام ؟ان دونوں میں سے ایک ہی کا آپ کو انتخاب کرنا ہوگا دونوں کو خلط ملط کرنے کا آپ کو حق نہیں ہے کیوں کہ وہ تو صاف کہتا ہے کہ کہ "تم پورے اسلام کے اندر آ جاؤ اپنی زندگی کا کوئی ذرا سا حصہ بھی میری اطاعت سے مستثنی نہ  رکھو"

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌷شادی کا رقعہ🌷

حاصل مطالعہ خطبا ت حصہ اول( حقیقت ایمان)

بناؤ ‏اور ‏بگاڑ ‏