💫 *دعوت* *اسلامی* *میں* *خواتین* *کا* *حصہ* 💫
دعوت اسلامی میں خواتین کاحصہ
✨حاصل مطالعہ ✨
✍🏻جویریہ ترنم
مصنف : مولانا سید ابوالاعلی مودودی
اسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
👈🏻 مولانا کی تقریر
👈🏻 ہدایات
👈🏻 سوالات و جوابات
🔹 مولانا کی تقریر :
یہ تقریر مولانا نے ٹونک کے اجتماع میں خواتین کے روبرو فرماٸ تھی ۔
اسمیں انھوں نے خوشی کا اظہار کیا کیونکہ خواتین میں اسلامی تحریک مقبول ہورہی ہے اور خواتین نے دعوت کو پھیلانے کا حلقہ منظم کر لیا ہے ۔
مولانا نے کہا ہے کہ دعوت کے کاموں اور تعاون میں جتنی مردوں کی ضرورت ہے اتنی ہی عورتوں کی ہے ۔ جس طرح گاڑی کے دو پہیوں میں سے ایک پہیہ ساتھ نہ دے تو گاڑی نہیں چل سکتی ۔ اسی طرح انسان کی اجتماعی زندگی کا نظام بھی ٹھیک نہیں چل سکتا جب تک کہ مردوں کے ساتھ عورتیں بھی برابر کا حصہ نہ لیں ۔
اسلام جس خدا کی بندگی کی طرف بلاتا ہے وہ عورتوں اور مردوں کے لیۓ ہے ۔ خدا کی خوشنودی کی کوشش جس نے کی وہ نجات پاگیا ۔ اسلیۓ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کو اپنی اپنی نجات کی فکر ہو ۔
تاریخ کی مثالیں دے کر مولانا نے یہ بتایا کہ ابتدا ہی سے جس طرح اس تحریک میں مردوں نے حصہ لیا عورتوں نے بھی برابر کا حصہ لیا ۔
نبیﷺ پر سب سے پہلے ایمان لانے والی خاتون ، سب مسلمانوں کی ماں حضرت خدیجہ جنھوں نے بار نبوت میں حضور کو تسلی دی ، دس سال تک ہر قسم کی سختی میں حضور کی رفیق بنی رہی ۔
مکہ میں کفار کے ہاتھوں ظلم سہنے میں اگر بلال ؓ ، عمار ؓ ، جیسے مرد تھے تو ام عمارہ اور زنیرہ جیسی عورتیں بھی تھیں ۔ اس طرح مدینے میں انصار کے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھی حصہ لیا ۔ جنگ کے موقع پر ام عمارہ نے زخمیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری انجام دی ۔
اسی طرح عورتوں نے دین کی خاطر ظلم بھی سہے ، خطرات مول لیۓ ، جان و مال کی قربانیاں بھی دی ، اعزإ و اقربا کو چھوڑا ، جلا وطنی اور فقر و فاقہ کی تکلیفیں بھی اٹھاٸیں اور اپنے ایماندار باپوں ، شوہروں اور بھاٸیوں کے ساتھ وفاداری کا حق بھی ادا کیا ۔
*عورتوں* *کے* *کرنے* *کے* *کام* :
اپنے گھروں اور خاندانوں کو شرک و جاہلیت سے پاک کرکے اسلامی بناٸیں ۔ اپنی اولاد کو اسلام پر اٹھاٸیں ، مردوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کریں ۔
عورت کو سب سے بڑی مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب وہ خود راہ حق پر چلے مگر مرد اس کی راہ میں مزاحم ہوتے ہیں ۔ یہ بڑی مشکل صورت حال ہے لیکن اس حد تک نہیں پہنچتی جس حد تک زمانہ جاہلیت میں عورتو ں کی پوزیشن تھی ۔
⚡حضرت خدیجہؓ کے خاندان کے زیادہ تر لوگ اسلام کے سخت دشمن تھے اس کے باوجود وہ حضور ﷺ کی رفاقت اور پشت پناہی کرتی رہیں ۔
⚡ام سلمی اسلام کی خاطر گھر بار اور خاندان کو چھوڑ کر حبش کی طرف ہجرت کر گٸ ۔
⚡ حضرت فاطمہ بنت خطاب اسلام کی خاطر اپنے بھاٸ کی زیادتی سہ کر ایمان پر ڈٹی رہی اور اپنے بھاٸ کے اسلام قبول کرنے کی وجہ بنی ۔
یہ ہے سچے اور مسلمان عورتوں کے اوصاف ۔ اگر آپ کو اپنی نجات درکار ہے تو یہی اوصاف اپنے اندر پیدا کرنے ہونگے ۔
کوٸ بھی رشتہ خدا اور رسول سے بڑھ کر نہیں ہے ۔
🔹 ہدایات :
لاہور کے اجتماع میں مولانا نے خواتین کو چند ہدایات دی تھی ۔
پہلی ہدایت یہ ہے کہ جو کچھ کیجیۓ ان حدود اور ذمہ داریوں کو ملحوظ رکھتے ہوۓ اور جو اسلام نے آپ کے لیۓ مقرر کیۓ ہیں ۔
ایک مسلمان کی اصلی ذمہ داری اسکی اپنی ذات پر ہے ۔ سب سے پہلے اپنے خاندان کی طرف توجہ دیں ، انھیں اسلام سمجھاٸیں ، گھروں کو ہر قسم کی جاہلیت سے پاک کریں اور اسلام سے روشناس کراٸیں ۔
جوان لڑکیاں اپنے حدود میں رہ کر تبلیغ و اشاعت کریں اور اصلاح کرے ۔
🔹 سوالات و جوابات :
سوالات کے جوابات دیتے ہوۓ مولانا نے کہا ہے کہ تبلیغ کے لیۓ کوٸ مصنوعی طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر آدمی زبان اور قلم سے دوسروں کو سمجھانے اور نصیحت کرنے کی کوشش کرے تو وہ مفید ہوسکتی ہے ۔
سنیما سے متعلق جواب میں مصنف نے فرمایا ہے کہ سنیما دیکھنا کسی حد تک بھی جاٸز نہیں ہے ۔
پردہ کے تعلق سے کہا ہے کہ ضرورت کے وقت برقع پہن کر گھر سے باہر نکلنا درست ہے ۔ لیکن شوق اور رنگ کے ریشمی برقعے جو آج کل راٸج ہے انکا استعمال درست نہیں ۔
ضرورت پڑنے پر مرد سے بات کرنے میں آواز میں لوچ نہ ہو ۔
تعویز گنڈے ، میلاد میں شرکت اور شادی بیاہ میں ناچ گانے کے تعلق سے واضح طور پر مولانا نے خواتین کی اصلاح کی ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں