عقیقہ مسنونہ



           عقیقہ مسنونہ 

✍مریم جمیلہ 

رات کے تقریباً نو بج رہے تھے وہ معصوم اپنے ذہن پر دکھوں کا انبار لئے آنکھوں میں دن کے بدل جانے کی یاس و امید جگائے سڑک کے ایک کنارے اپنی سوچ میں گم چلا جارہا تھا۔۔"امی مجھے بہت بھوک لگی ہے۔"گھر میں کچھ کھانے کو ہوتا تو اسکی ماں اسے کھلادیتی لیکن دوپہر میں ہی ایک سوکھی روٹی بچی تھی جو اسکی ماں نے خود بھوکی رہ کر اسے دے دی تھی۔۔آج کا دوسرا دن تھا گھر میں چولھا نہیں جلا تھا۔۔جب سے اسکے بابا اس دار فانی سے رخصت ہوئے تھےانکی زندگی بڑی تنگ ہوگئی تھی۔۔آئے دن فاقہ کشی کی نوبت آن پڑتی۔۔رشتہ دار اب غیر لگنے لگے تھے کوئی انکا پرسان حال نہ تھا۔۔گذراوقات کے لئےاسکی ماں نے اب لوگوں کے یہاں کام کرنا شروع کردیا تھا۔۔دو روز سے طبیعت خراب تھی وہ کام پر نہ جاسکی؛جب کام نہیں ہوتا تو گھر میں کھانا بھی نہیں بنتا۔۔
اب وہ ایک گلی میں داخل ہوا جس میں ایک گھر کے سامنے خوبصورت شامیانہ لگا ہوا تھا بڑے بڑے لوگ خوبصورت لباس میں ملبوس نظر آرہے تھے۔۔انکے چہرے کی چمک انکی خوشحال زندگی کی ترجمانی کررہی تھی۔۔ان کے درمیان ایک خوبصورت بچہ شیروانی پہنے شہزادے کی طرح نظر آرہا تھا آج وہ سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لے رہے تھے نذرانوں اور مبارکبادیوں سے اسے نواز رہے تھے۔۔وہ دور ہی سےحسرت بھری نگاہوں سے انھیں دیکھ رہا تھا۔۔معاملہ کیا ہے یہ جاننے کے لئے وہ شامیانے کے قریب آیا اور ایک طرف کھڑا ہوکر انکی آپس میں ہورہی گفتگو کو سننے لگا۔۔
"بھئی الطاف صاحب اللہ نے آپ پر بڑا کرم کیا ہے اولاد نرینہ سے نوازا ماشااللہ چھ بیٹوں کے والد ہو آپ اور آپکے یہ چھوٹے فرزند انکا کیا ہی کہنا بہت ہی ذہین خوبصورت اور حاضر جواب ہے ہمیں تو ان سے بات کرنے میں بڑا مزہ آتا ہے۔۔"
"جی شکریہ ذرہ نوازی آپکی"وہ صاحب کاشف کو قریب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔۔"اور آج کی دعوت کا بہترین انتظام کیا ہے آپ نے ماشااللہ۔"
"بس کاشف ہی رہ گئے تھے کہ انکا عقیقہ مسنونہ ہم بروقت نہیں کرپائے سوچا اب کرلیتے ہیں احباب اور رشتہ داروں کی دعوت بھی ہوجائےگی اس بہانے اور ایک سنت بھی ادا ہوجائے گی۔۔" وہ اپنی شیروانی کی کالر کو درست کرتے ہوئے کہنے لگے۔۔
"چلئے صاحب کھانا لگ چکا ہے ہم طعامی کے شرف سے نوازے۔۔"اب وہ تمام مہمان سے مخاطب تھے۔ سبھی آمنے سامنے ایک صف میں بیٹھے بریانی سے لطف اندوز ہورہے تھے۔۔"واہ الطاف بھائی واہ کیا کہنے بہت ہی لذیذ بریانی ہے واقعی مزہ آگیا۔۔"
دعوتیوں نے بیک وقت یک زبان کہا اور پھر سب قہقہ مار کر ہنسنے لگے "ارے بھئی یہ تو کمال ہوگیا۔۔"
"حسن اتفاق کہئے جناب اسے۔"
سبھی آپس میں گفتگو کرتے ہوئے لذیذ بریانی سے لطف اندوز ہورہے تھے۔۔
وہ ایک طرف کھڑا یہ سب نظارہ دیکھ رہا تھا بھوک کی شدت سے اسکا برا حال تھا بریانی کی خوشبو سے وہ بے چینی محسوس کرنے لگا وہ اب دھیرے دھیرے ان دعوتیوں کی جانب بڑھنے لگا۔۔"بیٹےہمیشہ عزت و وقار سے زندگی بسرکرنا اللہ کے سوا کبھی کسی اور سے سوال نہ کرنا۔"
۔۔"امی ہمارے پاس وہ نعمتیں کیوں نہیں ہے جو اللہ نے اوروں کو عطا کی ہوئی ہے۔۔"
"بیٹے یہ اللہ کی تقسیم ہے وہ جسے چاہتا ہے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم رکھتا ہے۔۔اور دنیا کی آسائش اور دولت ہی سب کچھ نہیں اصل کامیابی یہ ہے کہ اللہ کی رضا حاصل ہوجائے اس نے ہمارے حق میں جو بھی فیصلہ کیا ہے ہم بسر خم اسے تسلیم کریں  اور اسکی اطاعت و فرمانبرداری کریں اسکے احکامات کو مانیں تنگ دستی اور فاقہ کشی میں کبھی کوئی غلط کام نہ کرنا اللہ سے مدد طلب کرنا وہ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے لیکن انھیں کبھی بے آسرا نہیں چھوڑتا۔۔"
ماں کی نصیحت اسکے کانوں میں سرگوشی کرنے لگی۔۔اس نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا اور اسی طرح آگے بڑھنے لگا۔۔ جب بھوک لگی ہوتو انسان بڑا مجبور ہوجاتا ہے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر وہ صحیح غلط کی تمیز بھول جاتا ہے۔۔بے شک بھوک بڑا برا ساتھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پناہ مانگی ہے۔۔
اب وہ ایک جانب ایک زانو بیٹھ گیا فائبر کی خوبصورت پلیٹ میں کھانا لے کر کھانا شروع کیا وہ منہ میں جلدی جلدی نوالے ٹھونس رہا تھا۔۔تبھی اسکی پیٹھ پر کسی نے زور سے لات ماری نوالہ اسکے گلے میں اٹک گیا اور آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے۔۔ایک اور لات اسکی پیٹھ میں پڑی اب وہ درد سے کراہنے لگا۔۔"ابے اٹھ بڑے مزے سے بیٹھ کر کھا رہا ہے بھکاری کی اولاد چل بھاگ یہاں سے۔۔"اس نے پلٹ کر دیکھا یہ وہ ہی الطاف صاحب تھے جنھوں نے بچے کے عقیقے کی دعوت رکھوائی تھی۔۔"پلٹ کر کیا دیکھ رہا ہے جاتا ہے یا ایک اور لگاوں۔"
وہ اپنی پیٹھ کو سہلاتے ہوئے نم آنکھوں کے ساتھ درد سے کراہتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔
" پتہ نہیں کہاں کہاں سے اٹھ کر آجاتے ہیں ساری دعوت کا مزہ خراب کردیا۔۔ارے آپ تمام احباب رک کیوں گئے یہ ضیافت آپ ہی کے لئے تو ہیں؛ چلیں شروع کریں۔۔۔"
عقیقہ مسنونہ کی یہ دعوت دیر رات تک چلتی رہی جس میں دوست و احباب کے ساتھ شہر کے بڑے امیر کبیر لوگ شریک تھے۔۔

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌷شادی کا رقعہ🌷

حاصل مطالعہ خطبا ت حصہ اول( حقیقت ایمان)

بناؤ ‏اور ‏بگاڑ ‏