یہ دنیا دارالامتحان ہے۔۔
یہ دنیا دارالامتحان ہے۔
تحریر:مریم جمیلہ
زندگی کے ہر موڑ پر آزمائشیں ہمارا استقبال کرتی نظر آتی ہیں۔چاہے دولت کی فراوانی ہو یا تنگ دستی و بدحالی، کاروبار میں منافع ہو یا نقصان کا خمیازہ بھگتنا پڑے،عزیز واقارب کا ساتھ میسر آئے یا انکی جدائی کا غم برداشت کرنا پڑے۔ایسے میں ایک بندہ مومن کےلئےقرآن کی آیتیں ایمان میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔وہ کامل یقین کی کیفیت اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ایمان کے دعوے کے ساتھ آزمائش کا آنا یقینی ہے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ جنت کا راستہ ان کٹھن مرحلوں سے ان آزمائشوں سے ہوکر گزرتا ہے۔ان آزمائشوں پر صبر کرنے والوں کے لئے کلام ربانی بشارتیں پیش کرتا ہے۔انکے مقابلے کے لئے طاقت وہمت صبر واستقامت ان ہی آیتوں اور توفیق الٰہی سے نصیب ہوا کرتی ہیں۔ذکر الہٰی، صبر و شکر خداوندی دلوں کو جلا بخشتی ہے۔سکون و طمانیت قلب نصیب ہوتاہے۔اللہ اپنے صابربندوں کو آزمائش میں مبتلا کرکے انکے گناہوں کو بخش دیتا ہے جنت میں انکے لئے بالا خانے تیار کئے جاتے ہیں۔درجات کی بلندی گناہوں کی بخشش سخت آزمائش پر صبر کرنے سے ہی نصیب ہوا کرتی ہیے۔وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کو مشکل وقت میں صبر کی توفیق اور حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت عطا فرماتاہے اور یہ مشیت الٰہی ہے کہ وہ اپنے بندوں پر انکی قدرت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔جب بندہ غموں سے نڈھال ہو؛اسے صبر کرنا مشکل محسوس ہونے لگے تو وہ دیگر لوگوں کے مصائب و مشکلات کا عینی مشاہدہ کرواتا ہے کہ تم تنہا نہیں ہو کہ تمہیں آزمایا جارہا ہے عبرت کی نگاہ سے دیکھو ایسے سینکڑوں لوگ تمہیں نظر آئیں گے جو تم سے زیادہ کٹھن آزمائش میں مبتلا ہیں۔مگر انکا صبر واستقلال انکے پائے استقامت کو متزلزل نہیں ہونے دیتا۔
بالکل ایسا ہی واقعہ اسکی زندگی میں رونما ہوا؛ واقعی اسکا غم بہت بھاری تھا اسکی آزمائش بڑی کٹھن تھی سمندر کا سینہ چاک کردینے والی پہاڑ کو ریزہ ریزہ کردینے والی؛ نرم و نازک دل آخر کتنا غم برداشت کرے؟وہ اپنے اس ناتواں دل میں غموں کا مداوا کیسے کرے،وہ حوصلہ کہاں سے لائیں کہ اسکے گلشن کے تین معصوم پھول والد کے غم میں مرجھارہے تھے۔باپ کے سایہ شفقت سے محرومی نے انھیں توڑ کے رکھ دیا تھا۔وہ معصوم اپنا غم کس سے بیان کرتے، انکے شیشے جیسے شفاف دل میں اس بڑی آزمائش کے مقابلے کا حوصلہ کیسے پیدا ہوتا کہ جن کی تو ابھی زندگی کی شروعات ہوئی تھی انھوں نے زندگی کے نشیب و فراز کہاں دیکھیں تھے۔وہ طفل شیرخوار کہ جسے سمجھ میں آرہا تھا کہ اسکا بہت قیمتی سرمایہ لٹ گیا تھا مگر زبان حال سے اسکا اظہارکرنے سےوہ قاصر تھا۔ وہ گریہ زاری اسکے جذبات کی ترجمانی کررہی تھی جب وہ اپنے والد کو جنازہ میں تیار لیٹا ہوا دیکھ رو رہا تھا۔۔وہ تین سالہ معصوم جوکہ اپنے باپ کی میت کے سرہانے بیٹھے اپنی خالہ سے کہہ رہا تھا کہ،"ابو بہت گہری نیند سورہے ہیں لیکن میں جانتا ہوں انھیں کیسے جگانا ہےمجھے کوئی سیٹی لاکر دیں جب میں اسے بجاونگا تو فوراً اٹھ جائیں گے کیونکہ انھیں سیٹی کی آواز سے نفرت ہیں۔"وہ سات سالہ بچہ کہ جو ابھی کچھ باتیں سمجھنے لگا تھا اسکی روشن آنکھوں میں شبنمی آنسوؤں کی جھڑی تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔وہ اس بڑے حادثے کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔اپنی ماں سے کہتا کہ "مجھے ابو کو دیکھنا ہے بہت دن ہوئے میں نے انکی صورت نہیں دیکھی کوئی انھیں انکی قبر سے باہرنکالیں کہ میں انھیں دیکھنا چاہتا ہوں۔"جب حالات اتنے کٹھن ہوتو کوئی کیسے صبر کریں۔ان معصوم شگوفوں کو دیکھ کر ہر ایک کا دل خون ہورہا تھا تو وہ توانکی ماں تھی وہ ان سب باتوں کو کیسے برداشت کرتی۔ابھی ابھی تو انکی ازدواجی زندگی شروع ہوئی تھی جیسے کچھ خوشگوار لمحے ہی گزارے ہو جوہواکی سی تیزی سے گزر گئے۔موسم بہار بہت جلدی گزر جاتا ہے۔وہ بڑی مثالی زندگی بسر کررہے تھے۔ جہاں حقوق کی پاسداری اور فرائض کی ادائیگی تھی؛ رشتوں کا احترام ،خلوص ووفا،پیار ومحبت،نرمی وشائستگی،شگفتہ مزاجی و باہم دلجوئی،ایثار و قربانی جیسے پاکیزہ جذبات سے مزین زندگی گزار رہے تھے۔دل میں بچوں کے روشن مستقبل کے ارمان و خواہشیں سجائے ہوئے دنیوی و اخروی اعتبار سے انھیں سرخرو ہوتا دیکھنا چاہ رہے تھے کہ یکایک ایک بڑے حادثے نے انکے سارے خوابوں کو چکناچور کردیا۔عمر کی اس پربہار منزل پر اچانک موسم خزاں طاری ہوگیا۔اب وہ اکیلی ان چیلنجز کا مقابلہ کیسے کرے گی؟؟ وہ جوکہ ہر معاملات میں شوہر کے مشورے کی عادی تھی ،کلی طور پر اس پر منحصر تھی ،اسکی پناہگاہ میں خود کو محفوظ جانتی، وہ اسکے ساتھ دنیا سے لڑلینے تک کا حوصلہ رکھتی تھی۔ آج وہ خودکوبالکل تنہا اور بے سہارا محسوس کررہی تھی۔جبکہ اسکے والدین بھائی بہن اسکے لئے مرمٹنے کا جذبہ رکھتے تھے۔
آج اسکے شوہر کو دنیا سے رخصت ہوئے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ بیت گیا تھا۔وہ صبح سے اپنے خیالات میں الجھی ہوئی حراساں و پریشان نظر آرہی تھی۔آج آسمان بھی اسکے غم میں شریک حال تھا اور مسلسل آنسوں بہارہا تھا۔وہ ان آنسوؤں کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کررہی تھی۔"یااللہ!یہ کیسی آزمائش ہےمجھے صبر کیوں نہیں آرہا؛خداوندا!مجھ پر صبر انڈیل دے،مجھے ثابت قدمی عطا فرما،تیرے فیصلے پر راضی ہونے والا بنا۔"وہ مسلسل دعا و مناجات میں مگن تھی یوں لگ رہا تھا جیسے وہ اللہ سے ہمکلامی کررہی ہو۔بالآخر بارش تھم گئی بادل کے جھروکے سے سورج اپنا روشن چہرہ لئے نمودار ہوا اسکی کرنوں میں تمازت نہیں بلکہ عجیب ٹھنڈک تھی موسم کافی خوشگوار ہوگیا تھا۔ مسجدوں میں ظہر کی اذان گونجنے لگی وہ پہلے ہی سےمصلے پر تیار بیٹھی تھی فرض کی ادائیگی میں مشغول ہوگئی۔جب اس نےدعا کے لئے ہاتھ اٹھائےتو آنسوؤں کا سیلاب پلکوں کے باندھ کو توڑ کر اسکے دامن کو گیلا کرنے لگا وہ اپنے صبر و ضبط کی توہین ہوتی محسوس کررہی تھی۔تبھی ایک بوڑھی عورت کی آواز نے اسکی توجہ کو منتشر کردیا۔وہ صحن کو عبور کرتی ہوئی مین گیٹ پر پہنچ گئی جہاں وہ پریشان حال بڑھیا دست سوال دراز کررہی تھی اسکے مانگنے میں عجیب درد و کرب جھلک رہا تھا۔ڈھیلا ڈھالا ساتر لباس پہنے،ایک بڑی اوڑھنی میں اپنے نورانی چہرے کو لپیٹے ہوئے وہ بڑی مہذب معلوم ہورہی تھی۔لگتا تو نہیں کہ وہ پیشہ ور بھکاری ہوگی شاید اسکی بنیادی ضروریات اسکو اس مقام پر لے آئی تھی۔"بیٹی میں ایک بیوہ خاتون ہوں لوگوں کے یہاں کام کرکے گزراوقات کرلیتی ہوں۔ماہ رمضان میں لوگوں کے عطیات و صدقات میری ضروریات کی تکمیل کردیتے ہیں ؛لیکن میں طبیعت کی ناسازی کی بنا پر اپنا حق وصول نہیں کرپائی۔ اب چونکہ عید گزر چکی ہے میں تم سے صدقہ فطر کا سوال نہیں کرسکتی لیکن بیٹی خیر کے جذبہ کے تحت حسب استطاعت میری مدد کردو اللہ تم سے راضی ہوگا۔تم ڈھیروں خوشیاں پاونگی تمہارے سر پر تمہارے شوہر کا سایہ تادم آخر قائم رہے گا۔کچھ دے دو بیٹی اللہ تمہارے شوہر کو سلامت رکھے گا۔"یہ جملے کیا تھے کہ اسکی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔"بیٹی تم روکیوں رہی ہو اللہ تمہارے شوہر کو دین و دنیا کی ترقی عطاکرے گا تم عمربھر اسکے ساتھ رہوگی۔"
"خالہ!اللہ کے لئے بس کریں۔"وہ بیقراری کی کیفیت میں گویا ہوئی"میرے شوہر کے انتقال کو ڈیڑھ ماہ ہوگئے ہیں میں بھی آپ کی طرح بیوہ ہوگئی ہوں۔۔۔"
"یا میرے اللہ!!بیٹی تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟اس عمر میں تمہیں یہ دن بھی دیکھنے تھے۔۔"ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے وہ زاروقطار رونے لگی۔۔روتے روتے اس بوڑھی عورت کی ہچکی بندھ چکی تھی۔۔اب خود کو سنبھالتے ہوئے تڑپتے انداز میں گویا ہوئی"میری بچی میں تمہاری عمر میں ہی تھی جب کہ میرے شوہر مجھے داغ مفارقت دے گئے؛دو معصوم بچیوں کی کفالت مجھے کرنی تھی؛جبکہ سوائے اللہ کے کوئی میرا مددگار نہ تھا۔برے وقت میں اپنے بھی پرائے ہوجاتے ہیں۔ لیکن بیٹی میں نے ہمت نہیں ہاری جینا نہیں چھوڑا اپنی معصوم بچیوں کی خاطر مجھے جینا تھا۔۔"وہ ہرجملہ تڑپتے انداز میں ادا کررہی تھی"اور میں ہمت و حوصلے سے ڈٹی رہی مصائب کا بہادری سے مقابلہ کیا آج میری بچیاں انکے گھر آباد ہوگئی ہیں اور میں اپنی بقیہ زندگی گزاررہی ہوں اس امید پر کہ مجھے بھی اس دارفانی سے لوٹ کر اپنے رب کی طرف جانا ہے اور وہاں کی ابدی خوشیاں میں اپنے شوہر کے ساتھ حاصل کرونگی ان شااللہ۔۔مرنا تو ہم سبھی کو ہے نا!یہ تو وقتی جدائی ہے اور وہاں ہمیشہ کا ساتھ نصیب ہونا ہے۔ میں ہر نماز میں تم سب کے لئے خصوصی دعا کرونگی۔ہمت سے کام لو بیٹی دیکھ لینا تمہارامستقبل بہت تابناک ہوگا؛ تم اپنے بچوں سے بہت سکون پاونگی تمہاری اولاد تمہارے لئے آنکھوں کا نور بنے گی تمہارے حق میں ثواب جاریہ ثابت ہوگی۔۔اللہ ایسا ہی کرے"
"اللہ آپ کو بہترین اجر سے نوازے آپکی باتوں سے مجھے بڑا حوصلہ ملا ہے یہ کچھ روپے آپ رکھ لیجئے آگے بھی آتے رہنا مجھ سے جو بن پڑے گا میں مددکرونگی۔۔"وہ بوڑھی عورت اسکی بلائیں لیتی ہوئی وہاں سے رخصت ہوگئی۔اسکے جاتے ہی وہ اپنے دل میں ایمان کی چاشنی محسوس کررہی تھی۔وہ بے اختیار پکار اٹھی "یااللہ !بے شک تونے مجھ پر اپنی مقدرت سے بڑھ کر آزمائش نہیں ڈالی ؛تیرے ایسے کئی بندے ہیں جو مجھ سے زیادہ سخت آزمائش میں گھرے ہوئے ہیں مگر تب بھی وہ تری رضا کی خاطر مومنانہ زندگی بسر کررہے ہیں اور میں؟؟یا اللہ میری لغزشوں کو معاف فرمانا اور مجھے ثابت قدمی عطا فرما۔"
اب اسکا دل بہت مطمئن تھا آزمائش پر صبر کرنا اس نے سیکھ لیا تھا۔

پرسوز تحریر, الفاظ دھندلا گئے دل خون ہورہا ہے ۔اللہ آپ کو صبرِ جمیل عطاکرے مریم
جواب دیںحذف کریںMashallah bohat zabardast hain
جواب دیںحذف کریںالفاظ کیوں نہ دھندلا جائیں....
جواب دیںحذف کریںکہ "دل سے جو بات نکلتی ہے... اثر رکھتی ہے"
انتہائی پرسوز، ایمان افروز اور غمزدوں کی غمگسار بن کر دلوں پر دائمی نقش ثبت کر دینے والی تحریر ہے۔
سلامت رہیں
دلسوز تحریر ،لفظ دھندلا گئے ، اللہ پاک آپکو صبر جمیل عطا کر مریم آپی
جواب دیںحذف کریںآمین یارب العالمین
جواب دیںحذف کریںMashallah allah sabar de
جواب دیںحذف کریں