میرا فرض


 میرا فرض

تحریر:مریم جمیلہ

   "میرا فرض مجھے یہ سب کرنا سکھاتا ہے۔میں اپنی ذات میں بہت ساری خوبیوں کو محسوس کرتی ہوں جب اپنے فرض کو بحسن وخوبی نبھاتی ہوں۔تمہیں پتہ ہے میں نےکس مقصد کے پیش نظر اس شعبے کو اپنایا ہے؟؟"

"مجھے تو تم واقعی اول درجے کی بے وقوف لگتی ہو۔۔ارے ہم نے اس مقام تک پہنچنے کے لئے ڈھیر سارا پیسہ خرچ کیا ہے۔اب اسکی وصولی کا وقت ہے اور تم۔۔!!تعجب ہے یار۔۔"

"راحیلہ تم ان باتوں کو شاید نہیں سمجھ سکوگی اس مخصوص ماحول میں تمہاری تربیت نہیں ہوئی میں نے بچپن سے خواب دیکھا تھا کہ ایسا پیشہ اختیار کرونگی کہ میں غریبوں کے کام آسکوں خدمت خلق کے فرائض انجام دے سکوں۔۔تمہیں یاد ہے مولوی صاحب نے بچپن میں ہمیں ایک حدیث سکھائی تھی۔۔تم میں بہترین ہے وہ شخص جو لوگوں کے لئے نفع بخش ہے۔بس یوں سمجھ لو میں ان بہترین لوگوں میں شامل ہونا چاہتی ہوں۔ایسے بے سہارا غریب مریضوں کی خدمت کرکے مجھے بہت خوشی محسوس ہوتی ہے دلی سکون نصیب ہوتا ہے۔لوگ دل کے سکون کے لئے لاکھوں روپیہ خرچ کرتے ہیں اور یہ مجھے مفت میں مل رہا ہے تو میں اسے آخر کیوں چھوڑوں؟؟"

ٹھیک ہے بابا لیکن جب کوئی خود ہوکر تمہیں فیس دے رہا"  ہوتو تمہیں منع نہیں کرنا چاہئے۔آخر تم اپنی محنت کی اجرت ہی تو لیتی ہونا؟"

"تمہیں شاید اندازہ نہیں وہ کس پریشانی میں مبتلا ہے؟"

"اچھا کیا پریشانی ہوسکتی انکی اچھے خاصے تو لگتے ہیں وہ بوڑھے بابا؟"

"میری بہن یہی تو خاص بات ہے کہ وہ اپنی پریشانی ظاہر نہیں کرتے۔"

"عائشہ میں تمہاری باتوں سے الجھن محسوس کررہی ہوں صاف صاف کہہ دونا کیا پریشانی  ہے انکی۔"

"وہ ہمارے محلے میں رہتے ہیں دوسال قبل انکی بیوی کا انتقال ہوا تھا۔یہاں اسی دواخانے میں وہ میرے پاس زیر علاج تھی۔بڑی نیک خاتون تھی وہ ۔"

"انکا انتقال کیسے ہوا؟"

"کچھ خاص نہیں ایک ہفتہ وہ موسمی بخار میں مبتلا رہی اور پھر دماغ میں بخار چڑھنے کی وجہ سے موت کا شکار ہوگئی۔دواخانے کے اسی بیڈ پر میرے سامنے اس نے دم توڑا تھا۔ اور میں کچھ نہیں کرپائی۔اسکی زبان پر مسلسل کلام الہٰی کا ورد جاری تھا۔تمہیں بتاوں وہ کونسی آیتیں پڑھ رہی تھی؟؟"

"ہاں ہاں ضرور بتاو؟؟"

"وہ پڑھ رہی تھی"کل نفس ذائقہ الموت"

"کیا مطلب ہے ان آیتوں کا؟"

اس آیت کا مطلب اس وقت میں بھی نہیں سمجھ پائی تھی۔میں نے یہ باتیں سن رکھی تھی کہ موت کے وقت انسان بڑی اہم باتیں کرتا ہے کیونکہ اس پرغیب کے پردے ہٹنے لگتے ہیں۔مجھ میں شوق ابھرا کہ میں ان آیتوں کا مطلب تلاش کروں۔۔پھر میں نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس آیت کو موجود پایا۔پھر سورہ آل عمران کی آیت ۱۸۵ پر میں ٹھہر سی گئی میں نے کئی مرتبہ اسکا ورد کیا فلاح وکامیابی کے راز مجھ پر آشکارا ہوئے۔ہر جاندار کو موت آنی ہے ہر کوئی موت کا مزہ چکھنے والا ہے حیات دنیوی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں وہاں تو سرخرو وہ ہی کہلائے گا جو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سے محفوظ کرلیا جائے اور جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجائے۔۔تم تصور کرو اس وقت کا کتنے خوشنصیب ہوگے وہ لوگ اور کیسے کامیاب کہ جنھیں اللہ کے فرشتے عزت و احترام سے سلام کرتے ہوئے جنت میں لے جارہے ہوں گے۔"

وہ بہت پراعتماد لہجے میں گفتگو کررہی تھی۔

"واقعی بہت خوش نصیب لوگ ہوگے وہ جنھیں فلاح آخرت نصیب ہوجائے۔"راحیلہ  حامی بھرتے ہوئے کہنے لگی۔

"راحیلہ وہ جو بوڑھے بابا ہے نا جن کا میں مفت میں علاج کرتی ہوں بہت دکھ بھری زندگی ہے انکی۔وہ لاولد ہے مزدور طبقے سے انکا تعلق ہےانتہائی جفاکش محنت کش انسان ہے بڑی کسمپرسی میں زندگی بسر کرتے ہے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی میں حلال کمائی پر اکتفا کیا۔غربت انھیں غلط راستے پر نہ لے جاسکی۔اگر چار ماہ کام چلتا تو باقی کا پورا سال وہ بے روزگار رہتے انکی بیوی انتہائی کفایت شعاری سے گھر کے اخراجات پورے کرتی مگر کبھی حرف شکایت انکی زبان پر نہ ہوتا۔۔ہر کسی کو تعجب ہوتا کہ اتنی مختصر اجرت پر انکا گھر خرچ کیسے چلتا تھا۔انھیں کبھی کسی کے آگے دست سوال دراز کرتے نہ دیکھا گیا۔وہ کبھی بھی کسی سے اپنی ضروریات بیان نہیں کرتے۔۔بہت ہی خوددار انسان ہیں۔انکے حلیے اور وضع قطع سے کوئی یقین نہیں کرپائے گا کہ وہ ضرورت مند ہیں۔اب تم ہی بتاوں میں انکے احوال جانتی ہوں کیا میرا ضمیر گوارا کرے گا کہ میں ان سے فیس لوں۔۔؟؟

ہم سب دنیا میں مسافر ہے ایک طویل سفر پر ہم نکل پڑے ہیں کوئی نہیں جانتا کب ہماری منزل آن پہنچے۔۔ہمارے پیش نظر کامیابی کے جو معیارات ہے جوہم نے خود گھڑ لئے ہیں ہم میں سے ہرکوئی یہ چاہتا ہے کہ ہمارا بہترین سوشل اسٹیٹس ہو۔بہترین لائف اسٹائل ،دولت کی فراوانی ہو نیز دنیا کی ہر نعمت و راحت ہمیں میسر آئے۔اسی مقصد کے تحت ہم ڈگریاں لیتے ہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں یہی ہماری تمام تر سرگرمیوں کا محور و مرکز ہے جس کے گرد ہم گھومتے نظر آتے ہیں۔کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اسکا نتیجہ کیا ظاہر ہوگا۔اسلام ہماری بہترین رہنمائی فرماتا ہے وہ ہمیں بامقصد فوز و فلاح والی زندگی کی طرف دعوت دیتا ہے۔بے شک ہم اسی دنیا میں رہ کر اسکے سارے اسباب کو استعمال کرتے ہوئے کامیاب ترین انسان بنیں۔"

"وہ ہی تو میں تمہیں کہہ رہی ہوں عائشہ کامیابی پیسوں سے مل سکتی ہے کیوں صحیح کہا نا میں نے؟"وہ سوالیہ انداز ۔میں گویا ہوئی 

نہیں میری بہن تم صرف مادی ضروریات کی تکمیل کو کامیابی سمجھ بیٹھی ہو۔۔اصل کامیاب انسان وہ ہی ہےجس سے اللہ راضی ہوجائے اور انعام و اکرام سے نوازے جنت جس کا مقدر بن جائے۔۔اور یہ چیزیں محض خواہش کرلینے سے نصیب نہیں ہوا کرتی۔کڑی جدوجہد سخت مجاہدہ نفسانی خواہشات کو چھوڑ کر دین اسلام کے ہر احکام کو من و عن بجالانا ضروری ہوتا ہے۔جب کوئی کسے کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے تو اللہ اسکے معاملات میں آسانی پیدا فرمادیتاہے جب کسی کی مدد کی جائے تو رب کائنات اسکی مدد فرماتے ہیں اور ظاہر ہے یہ بہت بڑے شرف کی بات ہے جو کہ خوش نصیبوں کو ہی نصیب ہوا کرتی ہے۔۔اب سمجھ آئی؟"وہ اسکے شانوں پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگی" تم سچ کہتی ہو عائشہ ہم اپنے اس پیشے سے بہت سے ضرورت مندوں کے کام آسکتے ہیں انکا مفت میں علاج کرکے اپنے لئے ڈھیروں دعائیں حاصل کرسکتے ہیں۔کسے پتہ کس کی دعا ہماری نجات میں کام آجائے۔رہنمائی کے لئے شکریہ آئندہ میں بھی ایسا ہی کرونگی۔۔اچھا اب میں چلتی ہوں۔"

جب وہ باہر جانے کے لئے اٹھی تبھی ایک بوڑھی مریضہ ڈاکٹر عائشہ کے پاس آئی۔

"بتائے اماں!کیا تکلیف ہے آپکو؟"

بیٹی کل رات سے سرمیں درد ہے اور بخار بھی محسوس ہورہا ہےتکلیف کی وجہ سے رات بھر سو نہ سکی کوئی دوائی ہی دے دو۔"

"ٹھیک ہے اماں یہ گولیاں آپ رکھ لیجئے اور جلد راحت کے لئے میں انجکشن بھی لگوالیتی ہوں۔"

"بیٹی فیس تو اتنی نہیں ہے تم گولیاں ہی دے دو افاقہ ہوجائے گا۔"

"اماں آپ پریشان کیوں ہوتی ہو۔میں نے آپ سے کونسا فیس کا تقاضہ کیا ہے۔"

"نہیں بیٹی آج تو میں تم کو فیس دے کر ہی جاونگی۔آج تمہیں میری بات ماننی ہی ہوگی۔"

'اچھا ٹھیک ہے جتنی بھی رقم لے کر آئی ہو دے دو اب خوش۔"وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔

اللہ تمہیں بہترین اجر سے نوازے بیٹی  آج کے زمانے میں کون تمہاری طرح سوچتا ہے۔

راحیلہ اس بوڑھی عورت کو حیرت سے دیکھ رہی تھی وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی "سچ کہتی ہے یہ خاتون ایسی سوچ رکھنے والے واقعی اللہ رب العزت کے چنندہ بندے ہوتے ہیں۔"

اب وہ نیا عزم و حوصلہ اور پیغام عمل لئے ہوئے اسکے کلنک سے روانہ ہوئی۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌷شادی کا رقعہ🌷

حاصل مطالعہ خطبا ت حصہ اول( حقیقت ایمان)

بناؤ ‏اور ‏بگاڑ ‏