جذبہء خیر
جذبہء خیر
تحریر:مریم جمیلہ
امی جان میں کل اسکول جاونگا کتنا مزہ آئے گا!مجھے بہت خوشی ہورہی ہے پورے دو مہینے کی چھٹیوں کے بعد میرا اسکول آخر کھل ہی گیا مجھے میرے ٹیچرس اور دوستوں کی بہت یادآرہی ہے۔۔عابد ایک ہی سانس میں بنا رکےمسلسل بول رہا تھا اسکا پھول جیسا معصوم چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔۔اسکی ماں اپنے پیارے بچے کو یوں خوش ہوتا دیکھ مسکرارہی تھی اس نے اپنے بچے کو قریب کیا اور اسکی پیشانی پہ بوسہ دیتے ہوئے کہا"میرا شیر بیٹا بڑا ہونہار ہے پڑھائی میں ہمیشہ اول درجہ پاتا ہے اللہ تمہیں یوں ہی سرخروئی و کامیابی عطاکرے تاعمر خوشیاں نصیب ہو۔۔(آمین)اچھا بیٹے تم نے اسکول کی مکمل تیاری تو کرلی نا؟"
"ہاں امی جان!میں نے اپنے اسکول بیگ میں کاپیاں کتابیں اور ساری ضروری اشیاء ترتیب سے جمع کردی ہیں۔یہ دیکھئے اپنے یونیفارم کو پریس بھی کرلیا ہوں۔"اس نے ٹیبل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
"بیٹے تم نے جوتے پالش نہیں کئے؟"
اسکی ماں نے جوتوں کی طرف دیکھ کر کہا۔
عابد نے اپنی ماں کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہاں "امی جان مجھے نئے جوتے دلائیے نا میں ایک سال سے اسے استعمال کررہا ہوں پرانے لگتے ہیں پلیز امی پلیز۔۔"
اس کی بھولی صورت دیکھ کر اسکی ماں فرط محبت میں کہنے لگی،"ٹھیک ہے بچے چلو تیار ہوجاو ہم مارکیٹ جا رہے ہیں آج تمہارے لئے نئے جوتے خرید لیں گے۔"
شاہین اپنے بچے سے بہت محبت کرتی اسے کبھی اپنی کم مائیگی کا احساس نہیں ہونے دیتی وہ ایک دینی مدرسے میں بحیثیت معلمہ فرائض انجام دیتی تھی عابد تین سال کا تھا تب اسکے شوہر اسے داغ مفارقت دے گئے تھے تب سے وہ اکیلی اپنے اس بچے کی تربیت و پرورش کررہی تھی وہ بہت خوددار تھی اپنی ضروریات کا رونا رونا اور لوگوں سے مدد مانگنا تو جیسے اسے آتا ہی نہیں تھا وہ اپنی قلیل تنخواہ میں بچے کی ساری ضروریات کو پورا کرتی اور جب اسے یہ محسوس ہوتا کہ بچہ اسکی استطاعت سے بڑھ کر تقاضہ کررہا ہے جسکو وہ پورا نہیں کرسکتی تب وہ احسن طریقے سے اپنے بچے کوایسے سمجھاتی کہ وہ مطمئن ہوجاتا ایک مرتبہ وہ کھلونوں کی شاندار دکان کے سامنے سے گزر رہی تھی جس میں بڑے مہنگے کھلونے سجاکر رکھے ہوئے تھے عابد بھی اسکے ساتھ تھا اس وقت وہ چار سال کا تھا وہ اسی دکان کے سامنے کھڑا ہوکر اپنی ماں سے ضد کرنے لگا،"امی آپ مجھے یہ بیٹری والی کار خرید کر دیجئے میں اسے اپنی گلی میں چلاونگا۔پلیز امی دلائیے نا پلیز!!"
اس نے سمجھاتے ہوئے کہا"میرے پیارے بچے یہ گاڑی تو بہت چھوٹی ہے اس میں میں تمہارے ساتھ نہیں بیٹھ پاونگی اور میری بڑی خواہش ہے کہ اپنے بچے کے ساتھ ایک بڑی گاڑی میں لمبے سفر پر نکل جاؤں۔۔کیا تم نہیں چاہتے بیٹا کہ میں تمہارے ساتھ چلوں؟"
"ہاں کیوں نہیں امی مجھے بہت خوشی ہوگی اگر آپ میرے ساتھ گھومنے چلوں گی"
"لیکن بیٹا اس کار میں تو ہم گھومنے نہیں جا سکتے نا!اب تم بتاوہم کیا کریں گے؟"
وہ اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اپنے گال کو لگاتے ہوئے سوچنے لگا۔
"ہممم۔۔!ہاں آئیڈیا! جانے دو امی ہم یہ گاڑی نہیں لیں گے آپ مجھے بڑا ہوجانے دیں میں جب بہت سارے پیسے کماونگا نا تب ایک شاندار کار خریدوں گا پھر ہم اس میں بیٹھ کر گھومنے جائیں گے۔۔"
وہ اسی طرح اپنے بچے کی وقتا فوقتا تربیت کرتی تھی بچے میں بچپن ہی سے صالحیت تھی وہ بڑا فرمانبردار اور سعادت مند بچہ تھا اپنی ماں کی ہر نصیحت پر عمل کرتا اسکی ماں نے خیر کا جذبہ دوران شیرخواری اسکے خون میں شامل کیا تھا۔وہ اسے غریبوں تنگ دستوں کی مدد کرنا سکھاتی۔۔انفاق فی سبیل اللہ کا درس دیتی ہمیشہ اسے جذبہء خیر کے لئے ابھارتی حیات صحابہ سے ایثار و قربانی کے واقعات سناتی۔
"امی آج اسکول کے باہر ایک غریب بچہ کھڑا تھا وہ بہت بھوکا لگ رہا تھا میں نے اپنا ٹفن اسے دے دیا۔"
"شاباش!میرے بچے تم نے بہت بڑی نیکی کا کام کیاہے اللہ تمہیں اسکا انعام عطا کرے گے۔۔"
"امی مجھے ابو کی بہت یاد آتی ہے اسکول میں سب اپنے ابو کے ساتھ آتے ہیں صرف مجھے چھوڑ کر۔"
میرے بچے دل چھوٹا نہیں کرتے تمہارے ابو اللہ تعالٰی کے پاس ہے ہم بھی وہی جانے والے ہیں۔تمہیں پتہ ہے آج تم نے جو نیکی کا کام کیئے نا تو اللہ تعالٰی اپنے فرشتوں کو حکم دیتے کہ عابد نے آج نیک عمل کیا ہے اسکا انعام اسکے ابو کو قبر میں پہچاو۔۔پھر جب فرشتے تمہارے ابو کے پاس انعام لے کر جائے گے تو وہ بہت خوش ہوں گے اور کہے گے میرا بیٹا کتنا پیارا ہے میرے لئے نیکی کے تحفے بھیج رہا ہے۔۔"
"سچ میں امی!!پھر تو میں ابو کو روزانہ نیکی کے تحفے بھیجوں گا۔"وہ خوشی سے جھوم کر کہنے لگا۔
ایسے کئی واقعات تھے جو اسکی زندگی میں رونما ہوئےاور آج بھی ایسا ہی کچھ ہونے والا تھا۔وہ اپنے دس سالہ عابد کے ساتھ مارکیٹ کی طرف نکل پڑی اسکے لئے نئے جوتے خریدنے تھے۔وہ جب ایک گلی سے گزر رہے تھے تو انھیں ایک ضعیف عورت ایک گھر کے سامنے چبوترے پر بیٹھی ہوئی نظر آئی وہ اہل خانہ سے سوال کررہی تھی اسکے ہاتھ پر بڑا گہرا زخم تھا یوں معلوم ہورہا تھا جیسے آگ میں جھلس گیا ہو۔اسکی آنکھوں میں آنسوں اور لہجے میں درد تھا۔
"برائے کرم میری ضرورت کو پورا کردو مجھ مجبور کے حال پر رحم کرو میرے پاس علاج کے لئے پیسے نہیں ہے میں ایک حادثے کا شکار ہوگئی ہوں ایک ہفتے سے اس درد کو برداشت کررہی ہوں کوئی میری مدد نہیں کرتا"گھر سے ایک چھوٹا بچہ نکل آیا اس نے پانچ روپے اسکے ہاتھ میں تھما دئے۔اس نے لجاجت سے کہا "بیٹے اس میں تو گولیاں بھی نہیں آئے گی اپنی ماں سے کچھ اور پیسے دینے کے لئے کہوں"
اندر سے نسوانی آواز آئی "خالہ معاف کرو ہمارے پاس دینے کے لئے اور پیسے نہیں ہے۔"
وہ ضعیف عورت مایوسی کی کیفیت لئے وہاں سے اٹھنے لگی۔
عابد یہ سب دیکھ رہا تھا اسکی ماں کچھ قدم آگے نکل گئی تھی اس نے پلٹ کر کہا
"عابد بیٹا جلدی چلوں دیر ہورہی ہے نا!"
"امی ادھر آئیے آپ سے بات کرنی ہے۔"
"کیا بات ہےبیٹےآپ یہاں کیوں رک گئے؟"وہ اپنے بچے کے پاس آکر کہنے لگی
امی جان اتنے بڑے بڑے گھروں میں کیسے چھوٹے لوگ رہتے ہیں نا!دیکھئے اس ضعیف خاتون کو اپنے گہرے زخم سے پریشان ہے اور کوئی بھی اسکی مدد نہیں کررہا اسکے پاس علاج کے لئے پیسے نہیں ہے۔۔امی میرے جوتے کے لئے جو پیسے آپ کے پاس ہے وہ انھیں دے دیجئے میں اپنے پرانے جوتوں کو کچھ دن اور پہن لونگا یہ کچھ دن اور چل جائیں گےان پیسوں کی انھیں شدید ضرورت ہے پلیز امی دے دیجئے نا پلیز"وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا۔
اسکی آنکھیں بھرآئی اسے نے اپنے بچے کو گلے لگاتے ہوئے کہاں"ماشااللہ میرے بچے اللہ تمہارے اس جذبہء خیر کو قبول فرمائے اور بہترین انعام سے نوازے۔۔"
"یہ لو بیٹا یہ پیسے تم اپنے ہاتھ سے انھیں دےدو۔"
"اماں!یہ لیجئے آپ ان پیسوں سے اپنا علاج کرائیں۔۔"
وہ بوڑھی عورت اسے ڈھیروں دعائیں دیتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔
اور وہ دونوں خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف چل دئیے۔۔
.jpeg)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں